518

سیرت  النبی کریمﷺ پر ایک تحقیقی  مضمون  

 

دنیا کی چند پراسرار ترین کتابوں میں سے ایک The Book of Enoch( کتاب اخنوخ یا اخنوک) ہے۔۔ اخنوک حضرت ادریس علیہ السلام کو کہا جاتا ہے۔ جنہوں نے آسمان کا سفر کیا اور اسے رب کے حکم سے بعد میں آنے والوں کے لئے لکھا ۔اس کے آخری نسخہ جات کا ثبوت حضرت عیسٰی علیہ السلام سے کم و بیش 3 سو سال قبل لکھے گئی اور جب بائبل لکھی گئی تو اس کے نسخوں کو الہامی کتب کے طور پر اس میں شامل کیا گیا۔ اور یہ سب سے پہلا ثبوت اس کا ایتھوپیائی بائبل ( ایتھوپیا ) میں موجود ہونا ہے۔ لیکن پھر اسے کئی وجوہات کی بنا پر بائبل سے نکال دیا گیا۔۔ اور برناباس کی انجیل کی طرح اسے مشکوک اور پراسرار کہہ کر تہہ خانوں میں ڈال دیا گیا۔۔ لیکن پھر اچانک 17 ویں صدی سے اس کی تلاش شروع کی گئی اور ایتھوپیا کے چرچ سے اسے بازیاب کیا گیا ۔۔ اس کے ترجمہ نے دھوم مچا دی ۔۔ اور پھر یوں ہوا کہ 1940 میں بحر مردار کے قریب چند نوجوان لڑکوں کو ایک غار کے اندر سے بہت سے تھان کی طرح لپٹے ہوئے بائبل کے نسخے اتفاق سے مل گئے۔۔ جس میں بڑی تعداد یہی اخنوک کی کتاب کی بھی ملی اور وہ حصے جو بائبل سے نکال دئے گئے تھے نہایت تفصیل سے ملے۔۔ جس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت وہاں سے برآمد کرائے گئے ہیں۔۔ اور عیسائیت کا خیال ہے کہ یہودی اس کتاب اخنوک میں موجود ایک مسیح الموعود جس کے آنے سے دنیا کے غم مٹ جائیں گے اور وہ زمین پر امن قائم کرے گا ( ہمارے  اسلام کے نزدیک وہ دجال ہے ) اس کے ظہور سے پہلے اس کے آنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔۔ ایک سوال جو مجھے چبھتا رہا وہ یہ کہ اس کتاب کو کیوں اتنا عرصہ چھپایا گیا۔۔جس کا جواب آگے چل کر آپ سب کو مل جائے گا۔۔ کہ  عیسائیت نے اسے کیوں چھپایا ۔۔ لیکن سب سے پہلے مختصر تعارف حضرت ادریس علیہ السلام  اور کتاب اخنوک کا ہو جائے۔۔

 

● حضرت ادریس علیہ السلام : حضرت ادریس علیہ السّلام اللہ تعالیٰ کے تیسرے نبی تھے، جو حضرت آدم علیہ السّلام اور حضرت شیث علیہ السّلام کے بعد نبوّت کے جلیل القدر منصب پر فائز ہوئے۔مؤرخین کے مطابق آپؑ کی ولادت بابل(عراق) یا مِصر کے شہر ’’منفیس‘‘ یعنی’’منف‘‘ میں ہوئی۔ آپؑ کا اصل نام’’اخنوخ‘‘ تھا، جب کہ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہؐ میں آپؑ کو ’’ادریس‘‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ روایات کے مطابق، حضرت ادریسؑ نے دنیا میں لوگوں کو سب سے پہلے لکھنے پڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے کا درس دیا، بلکہ اپنی زندگی کا بیش تر حصّہ اسی درس و تبلیغ میں صَرف کیا۔ چناں چہ لوگ آپؑ کو ادریس، یعنی ’’درس دینے والا‘‘ کہہ کر پکارنے لگے۔ آپؑ کا حضرت شیث ؑکی پانچویں پُشت سے تعلق تھا اور آپؑ کا شجرۂ نسب یوں ہے، ادریسؑ بن یارد بن مہلائل بن قینن بن انوش بن شیثؑ بن آدم علیہ السّلام اور آپ حضرت نوح علیہ السلام  کے پڑدادا ہیں۔۔ آپؑ کا قرآنِ مجید میں دو مرتبہ ذکر آیا ہے۔ سورۂ مریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر بھی کیجیے۔ بے شک، وہ بڑے سچّے نبی تھے اور ہم نے اُن کو بلند رتبے تک پہنچایا‘‘(سورۂ مریم56-57)۔ نیز، سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’ اور اسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفل کا تذکرہ کیجیے۔ یہ سب (احکامِ الہٰیہ پر) ثابت قدم رہنے والے لوگوں میں سے تھے‘‘(سورۃ الانبیا85)۔ قرآنِ کریم کی معروف و مستند تفسیر’’معارف القرآن‘‘ کے مطابق’’ حضرت ادریس علیہ السّلام، حضرت نوح علیہ السّلام سے ایک ہزار سال پہلے پیدا ہوئے( روح المعانی، بحوالہ مستدرک حاکم)۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو نبوّت کے مرتبے پر سرفراز فرمایا اور آپؑ پر تیس صحیفے نازل فرمائے۔ حضرت ادریس علیہ السّلام وہ پہلے انسان ہیں، جنھیں علمِ نجوم اور حساب بہ طورِ معجزہ عطا کیے گئے۔ نیز، سب سے پہلے اُنھوں نے ہی قلم سے لکھنا اور کپڑا سینا ایجاد کیا۔۔ حضرت ادریس کو زندہ آسمانوں میں اٹھایا گیا اور آپ حضرت ادریس علیہ السّلام چھٹے آسمان پر فرشتوں کے ساتھ عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ (واللہ اعلم)۔ اس سلسلے میں متفّق علیہ حدیث یہ ہے کہ’’ حضرت ادریس ؑچوتھے آسمان پر ہیں۔‘‘ مجاہدؒ اور دیگر بہت سے علمائے کرام کا یہی قول ہے۔ حضرت زہری ؒنے بھی حضرت انسؓ سے مروی معراج کی حدیث نقل کی ہے کہ’’ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات چوتھے آسمان پر پہنچے، تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت ادریسؑ سے ہوئی، جنھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر فرمایا، ’’مرحبا، صالح بھائی اور صالح نبیؐ۔‘‘( ابنِ کثیر)

دنیا کہ دوسرے مذاہب میں حضرت ادریس کا ذکر :

حنوک (عبرانی: חֲנוֹך‎) ایک بائبل کا کردار ہے جو پیدائش کی کتاب میں مذکور ہے۔ وہ یارد کا بیٹا، متوشلح کا باپ اور نوح کا پردادا تھا۔ حنوک کو "خدا کے ساتھ چلنے" اور خدا کے ذریعے جنت میں لے جانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

بائبل میں حنوک:

 * پیدائش 5:21-24 میں، حنوک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ 65 سال کی عمر میں متوشلح کا باپ بنا۔

 * پیدائش 5:22-24 میں، یہ بیان کیا گیا ہے کہ حنوک 300 سال تک خدا کے ساتھ چلتا رہا اور خدا نے اسے لے لیا، اور وہ غائب ہو گیا۔

 * عبرانیوں 11:5 میں، حنوک کو ایمان کے ہیروز میں سے ایک کے طور پر ذکر کیا گیا ہے کیونکہ وہ خدا کو خوش کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔

 * یہودیت میں، حنوک کو ایک راستباز آدمی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے خدا نے جنت میں لے لیا۔

 * عیسائیت میں، حنوک کو یسوع مسیح کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔

========================================

 

● اخنوک یا حنوک یا اخنوخ کی کتاب ، The Book of Enoch:  

 کتابِ حنوک (جسے حبشی  (ایتھوپیائی حنوک) بھی کہا جاتا ہے) کے بارے میں:

کتابِ حنوک (جسے 1 حنوک بھی کہا جاتا ہے) کبھی یہودیوں اور عیسائیوں دونوں کے نزدیک بہت قیمتی تھی، لیکن بعد میں طاقتور مذہبی علماء کی طرف سے اس کتاب کو ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا - خاص طور پر گرے ہوئے فرشتوں کی فطرت اور اعمال کے بارے میں اس کے متنازعہ بیانات کی وجہ سے۔

حنوکی تحریریں، ان دیگر بہت سی تحریروں کے علاوہ جو بائبل سے خارج کر دی گئیں (یا کھو گئیں) (یعنی کتابِ طوبیت، عذرا وغیرہ)، ابتدائی کلیسائی آباء کی طرف سے "اپوکریفا" تحریروں کے طور پر وسیع پیمانے پر تسلیم کی گئیں۔ اصطلاح "اپوکریفا" یونانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے "پوشیدہ" یا "راز"۔ اصل میں، اس اصطلاح کی اہمیت تعریفی ہو سکتی تھی کیونکہ یہ اصطلاح مقدس کتابوں پر لاگو ہوتی تھی جن کے مندرجات عام لوگوں کے لیے دستیاب کرنے کے لیے بہت بلند تھے۔

 آہستہ آہستہ، اصطلاح "اپوکریفا" نے ایک منفی مفہوم اختیار کر لیا، کیونکہ ان پوشیدہ کتابوں کی راسخ العقیدگی اکثر مشکوک تھی۔ چونکہ یہ خفیہ کتابیں اکثر الہی طور پر جڑے ہوئے مومنین کے باطنی حلقوں میں استعمال کے لیے محفوظ کی جاتی تھیں، اس لیے تنقیدی جذبے والے یا "غیر روشن خیال" کلیسائی آباء نے خود کو فہم کے دائرے سے باہر پایا، اور اس لیے انہوں نے اصطلاح "اپوکریفا" ان کاموں پر لاگو کی جن کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بدعتی کام ہیں جن کا پڑھنا ممنوع تھا۔

کتاب اخنوخ  میں کیا ہے؟

 * فرشتوں کا قصہ: اس کتاب میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو زمین پر اترے اور انسانوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔ ان فرشتوں نے انسانوں کو ممنوعہ علم سکھایا، جس کی وجہ سے زمین پر فساد پھیلا۔

 * قیامت کا بیان: کتاب اخنوخ میں قیامت کے دن اور نیک و بد کے درمیان ہونے والے فیصلے کا تفصیلی ذکر ہے۔

 * فلکیات اور کائنات: اس کتاب میں آسمانی اجسام اور کائنات کی ساخت کے بارے میں قدیم تصورات پیش کیے گئے ہیں۔

 * مسیحا کی پیش گوئی: کتاب اخنوخ میں ایک نجات دہندہ (مسیحا) کی آمد کی پیش گوئی کی گئی ہے جو دنیا میں انصاف قائم کرے گا۔

اس کتاب کی اہمیت:

 * یہ کتاب قدیم یہودی اور عیسائی مذہبی سوچ کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔

 * بائبل کے کچھ حصوں کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب مفید معلومات فراہم کرتی ہے۔

 * یہ کتاب قدیم لوگوں کے کائنات کے بارے میں خیالات کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔

کتاب اخنوخ کے مختلف نسخے:

 * اس کتاب کے مختلف نسخے موجود ہیں، جن میں "حبشی نسخہ " سب سے اہم ہے۔

 * قمران غاروں سے بھی اس کتاب کے کچھ حصے 1940 سے 1946 کے درمیان  ملے ہیں۔

========================================

 

● اس کتاب کا سیرت النبی کریمﷺ کیا تعلق ہے: یہی ہمارا اصل مضمون ہے۔۔ حالانکہ اس کتاب کو کسی سازش کے تحت دوبارہ ردو بدل کر کے دنیا سے متعارف کرایا گیا ہے۔۔ جس کی اصل وجہ شاید دجال کے آنے کو ایک مذہبی نجات دہندہ کے طور پر دکھانا ہے۔۔ اسی وجہ سے اس کتاب کا پہلے باب گرتے فرشتوں fallen angels سے شروع ہوتا ہے۔۔ جس کی شدید مذمت اسلام اور عیسائیت کرتی ہے۔۔ لیکن جنات کو فرشتوں کے ناموں سے غلط ملط  کر کے اپنا مقاصد حاصل کرنا یہودیت کی گھڑی میں شامل ہے۔۔ لیکن پیشگوئیوں کے باب میں ان سے بہت سی باتیں شاید رہ گئیں جو کہ کسی بھی سیرت پاک یا قران پاک کو بغور پڑھنے والے طالبعلم کے لئے نہائت خوشی اور مسرت کا باعث ہے۔۔ اور وہ باتیں جنہیں نبی کریمﷺکے اسوہ مبارک میں پڑھا اور سمجھا جاتا ہے۔۔ وہ بطور بشارت کتاب اخنوک میں موجود ہیں۔۔ درج ذیل صرف 9 مقامات کا ذکر کروں گا کیونکہ مضمون کی طوالت مد نظر ہے۔۔ 

========================================

 

کتاب اخنوک باب پیشگوئیاں۔۔۔

 

●کتاب اخنوک :پہلی تمثیل( پیشگوئی) آیت 4 تا 8 ۔۔۔

اس باب میں ایت 4 سے 8 تک جس نبی کے آنے کا ذکر ہے۔۔ اسے دو القاب سے پکارا گیا ہے۔۔ ایک صادق، دوسرا راست باز ۔۔ ان کے آنے کو روشنی سے تعبیر کیا گیا ہے۔۔ کہ اندھیرے ختم ہون گے اور ان کے منتخب لوگوں ،اور دیگر راست باز جو ان کا ساتھ دیں گے۔۔ جو ان ( نبی،صادق)  کے آنے کے وقت زمین پر رہتے ہوں گے۔۔ اور جو کافر گناہ گار کو اس وقت کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی۔۔ اور وہ بے دین لوگوں کو راست بازوں اور منتخب لوگوں سے الگ کر دے گا اور انہیں ان سے نکال کر لے جائے گا۔۔( ہجرت) کی طرف اشارہ ہے۔ اور جب وہ ( صادق ) ظاہر ہو گا تو زمین پر قبضہ کرنے والے گنہگاروں ( جنہوں نے انہیں نکال کر ان کی جگہوں پر قبضہ کیا ہو گا)نہ وہ طاقتور رہیں گے اور نہ وہ بلند رہیں گے ان  کے مقابل جن کے چہروں پر  خدا اپنی روشنی ( نور) نازل فرما رہا ہو گا۔۔اور پھر یہ بادشاہ اور طاقتور ہلاک کر دئے جائیں گے،اور ان کے علاقے اور املاک راستبازوں کے حوالے کر دئیے جائیں گے ۔ ( بدر ،احد ،الاحزاب اور یہودی بستیوں کا مدینہ سے انخلاء )

 تشریح: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کتاب اخنوک کی ان پیشگوئیوں  کو  حضرت عیسی کی آمد یا مسیحا سمجھا جا رہا تھا ۔۔ کیونکہ یہ کتاب عیسی علیہ السلام کی آمد پاک سے 300 سے 500 سال قبل لکھی گئی تھی ۔ لہذا جب عیسی علیہ السلام  تشریف فرما ہوئے تو آپ علیہ السلام کو جہاد کا حکم نہیں تھا اور نہ ہی آپ کے دنیا میں ہوتے ہوئے عیسائیت اتنی طاقتور ہوئی کہ کافروں کے سر جھکا سکتی۔ بلکہ اس وقت کے لوگوں نے الٹا عیسی علیہ السلام کو مصلوب کیا اور ان کے حواری چھپنے پر مجبور ہوئے۔۔ اسی وجہ سے عیسائی کلیسا نے طاقت میں آتے ہی اس کتاب کو بائبل یا انجیل سے حذف کر دیا اور چھپا لیا۔۔

 

●۔کتاب اخنوک کے باب تمثیل سے  ایت 14 تا 19( پہلی تمثیل) 

 

کی پہلی پیشگوئی میں حضرت ادریس علیہ السلام  کے آسمانی سفر میں انہیں ایک شخصیت سے ملوایا گیا ان کا مقام دکھایا گیا اور تعارف کرایا گیا ،ان نبی کو راست بازوں کا سردار اور فرشتون کا سردار کہا گیا ،اور تین صفات خاص کا زکر کیا گیا کہ وہ آدم کی اولاد کی شفاعت کریں گے ، ان کے حق مین دعائیں کریں گے، اور ان کی رحمت زمین پر شبنم کی طرح برستی ہے۔۔ ان ایات کا  مختصر احاطہ کچھ یوں ہے کہ۔۔

"  یہاں میری آنکھوں نے اس کے راستباز اور فرشتوں کے ساتھ ان کے مسکن اور مقدسوں کے ساتھ ان کی آرام گاہوں کو دیکھا۔

 * اور انہوں نے انسانوں کی اولاد کے لیے التجا اور شفاعت اور دعا کی، اور راستبازی ان کے سامنے پانی کی طرح بہتی تھی، اور رحم زمین پر شبنم کی طرح: یوں ان کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔

 * اور اُس جگہ میری آنکھوں نے راستبازی اور ایمان کے منتخب کو دیکھا، اور میں نے خداوند ارواح کے بازوؤں کے نیچے اس کا مسکن دیکھا۔ ( روز شفاعت نبی کریمﷺکے بیٹھنے کا وہ مقام ہے یا وہ کرسی جہاں رہ کر شفاعت خصوصی  فرمائیں گے ۔ ( کچھ کے نزدیک یہ مقعد صدق  ( سورہ القمر ایت 55) یعنی سچائی کی کرسی ہے اور کچھ احادیث میں ہے کہ

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ’’یقینا آپ کا ربّ آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اﷲ ربّ العزت مجھے اپنے ساتھ پلنگ (خصوصی نشست) پر بٹھائے گا۔‘‘ اِس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے۔

 * اور اس کے دنوں میں راستبازی غالب آئے گی، اور راستباز اور منتخب لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے سامنے بے شمار ہوں گے۔

 * اور اس کے سامنے تمام راستباز اور منتخب لوگ آگ کی روشنیوں کی طرح مضبوط ہوں گے، اور ان کا منہ برکت سے بھرا ہوگا، اور ان کے ہونٹ خداوند ارواح کے نام کی تعریف کریں گے، اور اس کے سامنے راستبازی کبھی ناکام نہیں ہوگی۔۔ یعنی (جو ان نبی کریمﷺکے ساتھی ہوں گے ان کی بات صرف خیر ہو گی اور زبان ذکر سے تر رہیں گی)

 

●کتاب حنوک کی دوسری تمثیل( پیشگوئی ) 3 تا 11 آیت: 

 

کتاب اخنوک کے اس حصے کو میرا دل کرتا ہے جس طرح ترجمہ کیا گیا ہے اسی طرح سے آپ کی خدمت میں پیش کر دوں ۔۔ تاکہ آپ سب کو احساس ہو کہ یہ عیسی علیہ السلام نہیں بلکہ نبی کریمﷺکے متعلق اور ان کے اصحاب کے متعلق بالکل واضح دلیل ہے۔۔ میں نے بریکٹ میں اضافی وضاحت کی ہے) 

 

(ترجمہ: اس دن میرا برگزیدہ شان کے تخت پر بیٹھے گا اور ان کے اعمال کا فیصلہ کرے گا، اور ان کے آرام کی جگہیں بے شمار ہوں گی۔ اور جب وہ میرے برگزیدہ کو دیکھیں گے تو ان کی روحیں ان کے اندر مضبوط ہوں گی۔ ( سورہ التوبہ 128 بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں ۔) 

 * اور وہ جنہوں نے میرے شاندار نام کو پکارا ہے: تب میں اپنے برگزیدہ کو ان کے درمیان سکونت کرواؤں گا۔ ( مدینہ پاک آمد)

 * اور میں آسمان کو تبدیل کر کے اسے ابدی برکت اور روشنی بنا دوں گا اور میں زمین کو تبدیل کر کے اسے برکت بنا دوں گا: اور میں اپنے برگزیدہ کو اس پر سکونت کرواؤں گا: لیکن گنہگار اور بدکار اس پر قدم نہیں رکھیں گے۔ ( مدینہ منورہ کا تعارف ) 

 * کیونکہ میں نے اپنے راست بازوں کو امن سے فراہم کیا اور مطمئن کیا اور انہیں اپنے سامنے سکونت کروائی: لیکن گنہگاروں کے لیے میرے پاس فیصلہ آنے والا ہے، تاکہ میں انہیں زمین کے چہرے سے تباہ کر دوں۔( مدینہ ہجرت کے بعد اور جہاد کی ابتدائ احکام جو کہ عیسائیت میں بالکل نہیں)

 * اور وہاں میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے سر پر دنوں کا سر تھا، اور اس کا سر اون کی طرح سفید تھا، اور اس کے ساتھ ایک اور وجود تھا جس کا چہرہ انسان کی شکل کا تھا، اور اس کا چہرہ مہربانی سے بھرا ہوا تھا، جیسے مقدس فرشتوں میں سے ایک ہو۔

 * اور میں نے اس فرشتے سے پوچھا جو میرے ساتھ گیا اور مجھے تمام پوشیدہ چیزیں دکھائیں، اس ابن آدم کے بارے میں، کہ وہ کون تھا، اور وہ کہاں سے تھا، اور وہ دنوں کے سر کے ساتھ کیوں گیا تھا۔

 * اور اس نے جواب دیا اور مجھ سے کہا: "یہ وہ ابن آدم ہے جس کے پاس راست بازی ہے۔ جس کے ساتھ راست بازی رہتی ہے، اور جو ان تمام خزانوں کو ظاہر کرتا ہے جو پوشیدہ ہیں۔ کیونکہ روحوں کے رب نے اسے چنا ہے، اور جس کا حصہ ابد تک راست بازی میں روحوں کے رب کے سامنے سبقت رکھتا ہے۔

 * اور یہ ابن آدم جسے تم نے دیکھا ہے بادشاہوں اور طاقتوروں کو ان کی نشستوں سے اٹھائے گا اور طاقتوروں کی لگامیں ڈھیلی کرے گا اور گنہگاروں کے دانت توڑے گا۔ کیونکہ وہ اس کی تعریف اور ستائش نہیں کرتے، اور نہ ہی عاجزی سے تسلیم کرتے ہیں کہ بادشاہی انہیں کہاں سے عطا کی گئی ہے۔( یہاں ابن آدم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جبکہ عیسی علیہ السلام  کے متعلق  قرآن واضح فرماتا ہے کہ وہ ابن آدم نہیں تھے۔۔ (عیسیٰ کی مثال اللہ کی نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے۔آل عمران 59) اور دوسرا نافرمانون کے دانت توڑنے اور طاقتوروں کی لگامیں ڈھیلی کرنا صرف جہاد سے ممکن ہے جو داود علیہ السلام کے بعد صرف نبی کریمﷺ نے فرمایا۔۔ )

 * اور وہ طاقتوروں کے چہرے کو نیچا کرے گا، اور انہیں شرم سے بھر دے گا۔ تاریکی ان کا مسکن ہوگی اور کیڑے ان کا بستر ہوں گے۔ انہیں اپنے بستروں سے اٹھنے کی کوئی امید نہیں ہوگی کیونکہ وہ روحوں کے رب کے نام کی تعریف نہیں کرتے۔( نبی کریمﷺکا خطبہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے قریش کے سرداروں کی لاشون کو بدر کے دن گڑھے میں ڈالنے کے بعد فرمایا )

 

● کتاب اخنوک ایت 15 سے 36 ( دوسری تمثیل ) پیشگوئی 

۔

ان آیات میں  راست بازوں( سچے) اور ان کے رہنما( صادق کریمﷺکے ) کو ستم اور ظلم کر کے ان کے گھروں سے نکالنے ،ان کی خون بہانے ،ان شہداء کی وجہ سے زمین پر کمزوروں کو برکت دینے اور آسمان میں ان کی وجہ سے فرشتوں اور معصومین کی دعاوں کا ذکر ہے۔۔ اور کہا گیا ہے کہ خدا ان کا خون  اور نکالا جانا ضائع نہیں فرمائے گا۔۔  وہاں ادریس علیہ السلام  کو (اس جگہ میں نے راست بازی کا چشمہ دیکھا) دکھایا گیا جس کی تمام علامات حوض کوثر سے ملتی ہین۔۔ جس کے گرد راست بازوں اور مقدس ہستیوں کا ہجوم تھا۔۔ اور پھر ان صادق کریمﷺکے اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ غریبوں، محتاجوں اور راست بازوں کے لئے ایک ایسی مضبوط لاٹھی ہوں گے جس سے وہ تمام ٹیک لگائیں گے۔ ان کا تعارف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ روحوں اور زمین آسمان کی تخلیق سے پہلے چنے ہوئے اور  نور مین چھپائے گئے تھے ۔ ان کے زمین پر آمد کے بعد کہا گیا کہ ( ان دنوں میں زمین کے بادشاہ اور وہ طاقتور جو اپنے ہاتھوں کے کاموں کی وجہ سے زمین پر قبضہ کرتے ہیں، چہرے سے مایوس ہو جائیں گے۔ کیونکہ ان کی تکلیف اور مصیبت کے دن وہ خود کو نہیں بچا سکیں گے اور میں انہیں اپنے برگزیدہ کے ہاتھوں میں دے دوں گا۔) اور اس ابن آدم کی ایک خاص صفت کا ذکر کیا گیا جسے ( مسح کیا ہوا ) کہا گیا۔۔ جس کے عربی میں اگر ترجمہ کیا جائے تو سورہ انجم کی آیت : 9 میں فرمایا : تو وہ ( نبی اللہ سے) دو کمانوں کی مقدار ( قریب) ہوگئے، بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ اور ان کی دیگر صفات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ (اور وہ پوشیدہ چیزوں کا فیصلہ کرے گا اور کوئی بھی اس کے سامنے جھوٹا لفظ بولنے کے قابل نہیں ہوگا کیونکہ وہ روحوں کے رب کے سامنے اس کی اچھی خوشی کے مطابق برگزیدہ ہے۔* ان دنوں میں مقدس اور برگزیدہ کے لیے ایک تبدیلی واقع ہوگی، اور دنوں کی روشنی ان پر قائم رہے گی اور جلال اور عزت مقدس کی طرف مڑ جائے گی۔)

 

● کتاب اخنوک میں  آیت 38 تا 52 دوسری تمثیل ۔۔۔

(فتوحات کا بیان اور زمین پر عدل وانصاف )

 

کتاب اخنوک کے اس باب کی آیات میں جہاد کے ثمرات کا ذکر ہے اور صحابہ کرام کے ادوار تک قائم ہونے والی اسلامی مملکت کی پیش گوئی ہے۔۔ امن اور زمین کے خزانوں کو فراوانی کا ذکر ہے انصاف کا ذکر ہے۔ سونے ،چاندی لوہے اور معدنیات کے پہاڑ حضرت ادریس علیہ السلام  کو دکھائے گئے جو زمینی خزانے ہیں اور کہا گیا کہ (اور اس نے مجھ سے کہا: "یہ تمام چیزیں جو تم نے دیکھی ہیں اس کے مسح کیے ہوئے ( نبی کریمﷺ) کی حکومت کی خدمت کریں گی تاکہ وہ زمین پر طاقتور اور مضبوط ہو۔") اور لکھا ہوا ہے کہ( ان دنوں میں پہاڑ مینڈھوں کی طرح کودیں گے اور پہاڑیاں بھی دودھ سے سیر شدہ میمنوں کی طرح اچھلیں گی، اور آسمان میں فرشتوں کے چہرے خوشی سے روشن ہو جائیں گے۔ اور زمین خوش ہوگی اور راست باز اس پر سکونت کریں گے اور برگزیدہ اس پر چلے گا۔) یہ سب برگزیدہ کے سامنے آگ کے سامنے موم کی طرح ہوں گے، اور اوپر سے بہنے والے پانی کی طرح ہوں گے اور اس کے قدموں کے سامنے بے بس ہو جائیں گے۔)

 

●کتاب حنوک آیت 67 دوسرا تمثیل

( ابلیس کو شکست )

اے زمین پر رہنے والے طاقتور بادشاہو، تم میرے برگزیدہ کو دیکھو گے۔ وہ کیسے جلال کے تخت پر بیٹھا ہے اور عزازیل اور اس کے تمام ساتھیوں اور روحوں کے رب کے نام پر اس کے تمام لشکروں کا انصاف کرتا ہے۔ 

تشریح ( سورہ انفال ایت 48  میں بدر کے مقام پر ابلیس کا فرار ( جبکہ ان کے اعمال کو شیطان انہیں زینت دار دکھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ لوگوںمیں سے کوئی بھی آج تم پر غالب نہیں آسکتا میں خود بھی تمہاراحمایتی ہوں لیکن جب دونوں جماعتیں نمودار ہوئیں تو اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا میں تو تم سے بری ہوں ۔ میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ تعالٰی سخت عذاب والا ہے ۔)

 

● باب 3: تیسری تمثیل 1 تا 10 سراج المنیر 

 * اور میں نے راستبازوں اور برگزیدہ لوگوں کے بارے میں تیسری تمثیل بیان کرنا شروع کی۔

 کتاب اخنوک کے اس باب کی پہلی 10 آیات میں راست بازوں صادقین اور برگزیدہ بزرگوں کا اپنے رہنما سے روشنی ( نور) لینے کا بیان ہے۔۔ جس میں ابن آدم کو چمکتے سورج سے مشابہت  دی گئی ہے۔  اور ہم سب جانتے ہیں کہ  نبی کریمﷺ کو قران میں "سراج  منیرا" چمکتے روشن کہ کر خطاب کیا گیا ہے۔۔ اور انہیں رب کا نور ( سورہ النور ) مین ارشاد فرمایا گیا ہے۔۔ جن سے روشنی اور نور آپ کریمﷺکی  تمام امت کو منتقل ہوتا ہے۔۔

 

● 51 تا 78 تیسری تمثیل ( جہاد ،تلوار اور فیصلہ عدل) 

 

جیسا کہ میں اوپر عرض کر چکا ہوں کہ کتاب اخنوک کو دراصل حضرت عیسی کی آمد کی بشارت کے طور پر ان کی پیدائش سے پہلے لیا جاتا تھا ۔اور یہودی اس شہر اور مکان کے قریب ترین آباد ہونا چاہتے تھے۔۔ مگر حضرت عیسی علیہ السلام  کی تعلیمات ان کی زمین پر موجودگی تک ویسے بار اور نہ ہو سکیں۔۔ جیسے کہ ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد۔۔لیکن تلوار اور کفار کو جہاد کے ذریعے قابو کرنا اور ان کو شکست دینا یہ عیسوی تعلقات میں نہیں تھی۔۔ اور یہاں واضح طور پر 51 سے 78 آیات تک صادق ﷺ کا دشمنوں پر غلبہ کی طرف اشارہ ہے۔۔ اور کفار کا شکست سے اس طرح تلملانا لکھا ہے جیسے حاملہ عورت کو پیدائش کے موقع پر اٹھتا ہے۔۔ اور یہ غزوہ احزاب میں کفار کی حالت سے ظاہر تھا اور فرسٹ2ں کا جنگوں مین اتر کر کفار کو مارنا ثابت ہے۔۔۔۔یہاں کتاب اخنوک سے ایک آیت مثال کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔۔

ترجمہ کتاب اخنوک: ""اور تمام بادشاہ اور طاقتور اور بلند مرتبہ والے اور زمین پر حکومت کرنے والے اس کے سامنے اپنے چہروں کے بل گر پڑیں گے اور عبادت کریں گے اور ابن آدم پر اپنی امید رکھیں گے، اور اس سے التجا کریں گے اور اس کے ہاتھوں سے رحم کی درخواست کریں گے۔

63۔ تاہم روحوں کا وہ رب انہیں اس قدر دباؤ ڈالے گا کہ وہ جلدی سے اس کی موجودگی سے نکل جائیں گے، اور ان کے چہرے شرم سے بھر جائیں گے، اور ان کے چہروں پر اندھیرا مزید گہرا ہو جائے گا۔

64۔ اور وہ انہیں سزا کے لیے فرشتوں کے حوالے کرے گا تاکہ ان سے انتقام لے کیونکہ انہوں نے اس کے بچوں اور اس کے برگزیدہ لوگوں پر ظلم کیا ہے۔

65۔ اور وہ راستبازوں اور اس کے برگزیدہ لوگوں کے لیے تماشا ہوں گے۔ وہ ان پر خوش ہوں گے کیونکہ روحوں کے رب کا غضب ان پر پڑا ہے اور اس کی تلوار ان کے خون سے سیراب ہے۔""

 

● ادریس علیہ السلام  کے اٹھائے جانے کا بیان اور بیت المعمور  پر نبی پاک کا ان کو ملنا کا بیان 

 

آیت 13 تا 23 پہلا باب اخنوک کے  اسمانوں میں اٹھائے جانے کا بیان۔۔۔

 

آپ کریمﷺکی  معراج شریف پر بیت اللہ کے عین اوپر بیعت المعور جسے ارواح اور فرشتوں کا قبلہ کہا جاتا ہے۔ وہاں آمد ہوئی جس کا بیان کچھ یوں ہے۔۔حدیث صحیح میں مذکور ہے کہ ” البیت المعمور “ ساتویں آسمان میں ہے یہ اس کے منافی نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ ثابت ہے کہ ہر آسمان میں کعبہ کے مقابل ایک بیت ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں جو کعبہ کی جگہ ” البیت المعمور “ تھا اس کو حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے بعد آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور وہ چوتھے آسمان میں ہے ۔۔یہ فرشتوں کا وہ کعبہ ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اور طواف کے لیے آتے ہیں اور ایک دفعہ طواف کے بعد ان کو قیامت تک دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ ہر روز نئے ستر ہزار فرشتے آتے ہیں۔

یہی وہ بیت المعمور ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معراج میں تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ بیت المعمور کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں

کتاب اخنوک کے اس باب کی آیت 13 سے اس بیت المعمور کے مشاہدے کا ذکر ہے۔۔ لیکن جو عجیب بات ہے وہ یہ کہ یہاں یہ گھڑ نبی کریمﷺ یعنی راست باز کا گھر کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔۔ ( اور میکائیل، اور رافیل، اور جبرائیل، اور فانیل، اور وہ مقدس فرشتے جو آسمانوں سے اوپر ہیں اُس گھر میں آتے جاتے ہیں۔

 (کتاب اخنوک میں ہے کہ:  اور وہ اُس گھر سے نکلے، اور میکائیل اور جبرائیل، رافیل، اور فانیل، اور بے شمار مقدس فرشتے۔

 * اور ان کے ساتھ ایام کا سر، اس کا سر اُون کی طرح سفید اور خالص، اور اس کا لباس ناقابلِ بیان۔

 * اور میں اپنے چہرے کے بل گر پڑا اور میرا سارا جسم ڈھیلا ہو گیا، اور میری روح بدل گئی؛ اور میں نے قدرت کی روح کے ساتھ بلند آواز سے پکارا اور برکت دی اور جلال دیا اور تعریف کی۔اور وہ برکتیں جو میرے منہ سے نکلیں اُس ایام کے سر کے حضور خوش آئند تھیں۔

اور میں نے ایسے فرشتوں کو دیکھا جنہیں شمار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہزاروں ہزار اور دس ہزار بار دس ہزار اُس گھر کو گھیرے ہوئے تھے۔)

اگر آپ مندرجہ بالا ابواب کا مطالعہ کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ قدیم الہامی کتب میں نبی کریمﷺکے آمد کی بشارت اتنی واضح اور پر جوش تھی کہ مذہبی یہودی طبقہ ان کے انتظار اور ساتھ دینے کے لئے مدینہ پاک کے اردگرد صدیوں قبل آباد ہوا۔۔ 

========================================

 

ہجرت حبشہ سے تعلق ::

اور اسلامی تاریخ میں ہجرت حبشہ ایک ایسا باب ہے جس کی پرتیں  اور اس میں چھپی حکمت کبھی نہ کھلتی اگر کتاب حنوک کا اظہار نہ ہوا ہوتا۔۔ کیونکہ کتاب حنوک ( حبشی) یا ایتھوپیائی کا نسخہ  سب سے مستند ہے اور وہاں کا توحیدی عیسائی فرقہ چوتھی صدی عیسوی سے ایک نبی کی آمد کا منتظر تھا۔۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بادشاہ کے دربار میں پوچھے جانے والے سوالات ان کی بائبل ( برناباس ،جس میں نبی کریمﷺکے نام مبارک احمد ( فارقلیط )کا زکر ہے )اور کتاب حنوک میں وہ تمام بشارتیں موجود ہیں جو آپ کریمﷺکی زات اقدس میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔۔ اور آپ کریمﷺکے  صحابہ کرام کی خصوصیات تک کا ذکر موجود ہے۔۔ اسی لئے عیسائیوں اور یہودیوں کو قران پاک میں مخاطب کر کے یہ کہا گیا کہ۔

 ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھی کافروں پر سخت ، آپس میں نرم دل ہیں ۔ تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا ،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان سے ہے ۔یہ ان کی صفت تورات میں (مذکور) ہے اور ان کی صفت انجیل میں (مذکور) ہے۔ ( سورہ الفتح ایت 29) 

 

اللھم صل علی سیدنا محمد و علی آل سیدنا محمد وبارک وسلم 

 

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب

سلیم زمان خان 

مارچ 2025 

 

☆☆حوالہ جات  و گزارش: ☆☆

مضمون کو لکھنے میں مختلف مضامین جو کتاب اخنوک سے متعلق تھے۔،خصوصی طور پر 

The Book of Enoch (translation) by Dr. Jay winter.●

●انجیل برناباس سے متعلق مضامین  

● تفہیم القرآن از سید مودودی 

● قصص الانبیاء 

● سیرت النبی از شبلی نعمانی 

● ضیاء النبی از پیر کرم شاہ الازہری 

بشکریہ اردو کالمز