883

کرونا وائرس،صحت کا نظام اور بلوچستان 

صحت نعمت خداوندی اور ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ دنیا کے تمام ریاستوں کی طرح پاکستان میں بھی ہر شہری کو اچھی صحت کی سہولیات مہیا کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔دو ہزار دس کے ایکٹ کے مطابق اچھی صحت ہر شہری کا اولین حق ہے۔لیکن اگر ہم بلوچستان کی صحت کی صورتحال کے متعلق بات کریں تو ایکٹ دو ہزار دس کا یہ آرٹیکل صرف کاغذوں کی زینت بنی ہوئی ہے جبکہ حقیقت بالکل اسکے برعکس ہے۔
بلوچستان صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ملک کے دیگر صوبوں سے بہت پیچھے ہیں کیونکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی آبادی کے صرف بتیس فیصد آبادی کو صحت کی سہولیات میسر ہے جبکہ باقی افراد صحت کی سہولیات حاصل کرنے کے لئے کراچی اور کوئٹہ یا پنجاب کے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔بلوچستان کے چھ اضلاع و اشک،دکی، صحبت پور اور بارکھان میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر اسپتال کا وجود ہی نہیں جبکہ دس اضلاع ایسے ہیں جہاں اسپتال تو موجود ہے لیکن عملے اور سہولیات کے کمی کا سامنا ہے۔
بلوچستان میں صحت کے شعبے کا کوئی پرسان حال نہیں ہر سات ہزار افراد کے لئے صرف ایک ڈاکٹر مختص ہے جبکہ بنیادی صحت کے پانچ سو انچاس مراکز میں سے صرف ایک سو گیارہ فعال ہے۔ اسلئے صوبے کے عوام معمولی سے معمولی جیسے ٹائیفائیڈ، ملیریا کی تاب نہ لاتے ہوئے دار فانی سے کوچ کرجاتے ہیں۔کئی ایسی اموات بھی ریکارڈ پر موجود ہے جودوران زچگی ہوئی ہے۔شاہراؤں پہ ایکسیڈنٹ اور ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے سینکڑوں واقعات ریکارڈ پر موجود ہے۔جس کی وجہ سے بلوچستان  میں شرح اموات کی شرح بھی دیگر صوبوں سے زیادہ ہے۔
بلوچستان کی صوبائی حکومت نے صحت اور تعلیم کے شعبے میں ایمرجنسی کا اعلان بھی کیا تھا اور صحت کے لئے اٹھارہ ارب سے بھی زائد رقم مختص کی تھی لیکن صحت کا نظام جوں کا توں ہے جسکی وجہ سے صوبے کے عوام شدید متاثر ہے،بلوچستان میں صحت کی ناقص صورتحال کا اندازہ قدوس بزنجو سابق وزیر اعلی بلوچستان کی اس تقریر سے دیا جاسکتا ہے جو انہوں نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی میں کی تھی جہاں ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں صحت کی صورتحال سوڈان اور صومالیہ سے بھی بدتر ہے۔
نومبر دو ہزار انیس میں چین سے نمودار ہونے والی کرونا وائرس جس نے چین سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے صحت کے شعبوں کی قلعی کھولتے ہوئے قیامت برپا کیا ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد لاکھوں میں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چونتیس ہزار سے بھی تجاوز کرچکی ہے، اٹلی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں دس ہزار افراد کی موت اور امریکہ میں بقول ڈونلڈ ٹرمپ لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کیا پاکستان جیسا ترقی پزیر ملک اس وباء کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہ سکے گا؟ اگر کرونا وائرس بلوچستان میں پھیل گیا تو کیا بلوچستان کے غریب عوام کو وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت کی طرف سے سہولتیں فراہم کی جائیگی؟؟
بظاہر تو ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت عوام کو سہولتیں مہیا کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہیں کیونکہ انکی غیر سنجیدگی سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس گلزار سومرو کے آبزرویشن سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لگتا ہے ملک میں حکومت نام کی کوئی شئے موجود ہی نہیں اور کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے میں حکومت کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جبکہ قائم قرنطینہ سینٹر میں سہولیات ہی میسر نہیں ہے۔
تفتان قرنطینہ سینٹر میں چار سو افراد کو رکھا گیا ہے انکے افراد کے مطابق وہاں سہولیات کا فقدان ہے۔سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے قرنطینہ سینٹر سے نکلنے والے افراد کرونا وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں اور انکی وجہ سے کرونا وائرس پورے ملک میں پھیل سکتا ہے۔
کرونا وائرس کی وبا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد دو ہزار پچھتر سے تجاوز کرچکی ہے جس میں ایک سو چوون کا تعلق بلوچستان سے ہے۔حکومت بلوچستان نے دیگر صوبوں کی طرح صوبے میں لاک ڈاؤن کا تو فیصلہ کیا ہے لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدور، ماہی گیر،دکاندار، کان کن اور کسانوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے صوبائی حکومت کے پاس فنڈ موجود ہے اگر فنڈ موجود ہے تو وہ ضرورت مند افراد تک پہنچ پائیں گے؟؟
حکومت بلوچستان عام دنوں میں اس قابل نہیں کہ وہ صوبے کے عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرسکیں تو اس مشکل وقت میں ان سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے جو ایک قرنطینہ سینٹر میں سہولت فراہم نہیں کرسکتے تو کیا وہ بلوچستان کے عوام کو کرونا سے محفوظ اور انہیں بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرسکتے ہیں۔
وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان زبانی دعوے کرنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھائیں ورنہ اس غفلت کا انجام بھیانک نتائج پہ منتج ہوگا اور بلوچستان مستقبل میں انسانوں کے بجائے روحوں کا مسکن ہوگا۔
 

بشکریہ اردو کالمز