دانشوری کی روایت

پچھلے دنوں لاہور کے کاسمو پولیٹن کلب میں ایک عوامی دانشور ڈاکٹر مبارک علی کی 85ویں سالگرہ منا کر ایک ایسی روایت کی بنیاد ڈالی گئی جسکی نظیر ملنا مشکل ہے کیونکہ یہاں کی تقریبات زیادہ تر اشرافیہ کی آماجگاہ رہی ہیں ۔ یاد رہے کسی بھی معاشرے میں سماجی تبدیلی کے سب سے بڑے محرک اس کے دانشور ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاشرے کا سب سے آگاہ طبقہ ہوتا ہے، ان میں شاعر، ادیب ، مورخ ، مصور ، سائنسدان اور دوسرے لکھنے والے شامل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک علی نے تاریخ کو سیکولر اور جدید طرز احساس کے ساتھ مرتب کرتے ہوئے نوجوانوں کو جدید دنیا سے واقفیت اور جدید علوم سے آگاہی کا ذریعہ بنایا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنےکیلئے ہمارے سماج کو فرسودہ روایات کو چھوڑنا پڑئیگاورنہ انتہا پسندی اور تشدد، جن کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے، ہماری بے بسی کا بیانیہ بنتے رہیں گے۔ مورخین کا ایک اہم کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ماضی کی تحقیق کے ذریعے مستقبل کے راستوں کی اس طرح نشاندہی کریں کہ عام آدمی بھی اس تسلسل کا حصہ بن جائے، اسی لیے انہوں نے عام لوگوں کے حالات اور کیفیات کو تاریخ کا حصہ بنایا ورنہ اب تک عام لوگ تاریخ سے خارج تصور کیے جاتے تھے۔انہوں نے تاریخ کو افراد کی پرستش اور ہیروازم سے نکال کر اجتماعی سماجی علوم کو ترجیح دی کیونکہ ہیروازم سماج کو عشق میں مبتلا کر کے ادارہ جاتی روایات کو پروان نہیں چڑھنے دیتا۔ انہوں نے بتایا کہ تاریخ صرف حکمرانوں، بادشاہوں اور شاہی خاندانوں کے کارناموں کا نام نہیں بلکہ تاریخ وہ مزدور بناتے ہیں جنہوں نے تاج محل بنایا، وہ کسان رقم کرتے ہیں جو اناج پیدا کرکے ہر ایک کا پیٹ تو بھرتے ہیں مگر خود اکثر بھوکے سوتے ہیں۔ڈاکٹر مبارک علی نے تاریخ میں غلاموں اور کسانوں کی بغاوتوں کی تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غلام اور کسان برابر بغاوتیں کرتے رہے ہیں اگرچہ انہیں احساس تھا کہ انکی بغاوتیں ناکام ہوں گی مگر حقوق کی پاسداری کیلئے انہوں نے جدوجہد جاری رکھی اور تاریخ میں اضافہ کرتے رہے، یہ سبق ہے دراصل ان مطلق العنان حکمرانوں کیلئے کہ جب نہتے اور اسلحہ سے محروم لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں توہر رکاوٹ اور طاقت کو بکھیر دیتے ہیں۔یہی تاریخ کا وہ پہلو ہے جو محروم طبقوں اور بے بس عوام کو حوصلہ دیتا ہے کہ تبدیلی ان کے حق میں آئیگی۔ وہ لکھتے ہیں کہ تاریخ میں جب بھی قوموںکے عروج کا ذکر ہوتا ہے تو اس میں عورتیں شامل نہیں ہوتیں مگر زوال پذیری کے ادوار میں ساری ذمہ داری عورت پر ڈال دی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں تمام برائیوں کی جڑ زن، زر اور زمین کو قرار دیا جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ زر اور زمین تو بے جان ہیں مگرعورتوں کو بھی اس میں شامل کر لیا جاتا ہے جو باشعور اور حساس ہیں، یوں ڈاکٹر مبارک علی کا تاریخی شعور،مظلوم طبقات اور محکوم قوموں میں ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

یاد رہے ریاستیں ہمیشہ سے تاریخ کو اپنے نظریات کی توثیق کیلئے استعمال کرتے ہوئے نصاب اور تحقیق میں نظریے اور اس کے تقاضوں کی بالاستی کو ثابت کرتی رہی ہیں۔یوں جوتاریخ لکھی جاتی رہی ہے وہ مسخ شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانوںمیں تاریخی شعور کی راہ میں رکاوٹ بھی بنتی رہی ہے اسی لیے آج نوجوان آزادی کے 76سال بعد بھی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ کیوں سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی سے محروم ہیں؟ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق تاریخ اس کا جواب دے سکتی ہے بشرطیکہ اس کو نظریاتی پابندیوں سے آزاد کیا جائے۔انہوں نے ماضی اور حال کو ایسے قلم بند کیا ہے کہ لوگوں میں سیاسی اور سماجی شعور بیدار ہو۔ وہ انسان کے فنون لطیفہ اور علم کی ترقی کو مسلسل سراہتے ہیں تاکہ جنگ و جدل کے جذبات کی بجائے سماج میں حسن و دل کشی کی روایات پروان چڑھیں۔ انہوں نے تاریخ کو سماجی نفرت اور تنگ نظری کے خاتمے کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ لوگوں میں وسیع النظری اور قوت برداشت پیدا ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب کبھی معاشرے انتشار کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہوں تو اس وقت اگر تاریخ کی مدد لی جائے تو وہ اس زوال کے عمل کو روک سکتی ہے اور معاشرے کے مختلف گروہوں کے درمیان ثقافتی اور سماجی روابط کو تلاش کر کے یکجہتی کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔

ڈاکٹر مبارک علی نے تاریخ کے مضمون کو تاریخی شعور سے مزین کیا جو دراصل سیاسی شعور کی بنیاد ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی پاکستان میں ہی بسر کی اور ان جیسے دانشور سماج کا بہت بڑا اثاثہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ اپنے نظریات کے آدرش میںہی زندگی گزاردیتے ہیں۔ وہ سماج میں رائج بیانیے کا مقابلہ دلیل اور نئی تحقیق کے نتیجے میں ملنے والے مواد سے کرتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیسے تاریخ دان کی تحریریں ہمارے نصاب کا حصہ نہ بن سکیں۔ یاد رہے کہ فرد کا ریاست کے فرسودہ نظریات سے لڑنا قدرے آسان ہوتا ہے لیکن جب معاشرہ بھی اس کا مخالف ہو جائے تو یہ لڑائی عوامی دانشوروں کو اندر سے توڑ دیتی ہے لیکن جب بھی ایک غیر جانبدار مورخ پاکستان کی سماجی تاریخ لکھے گا تو اس میں ڈاکٹر مبارک علی کی سماجی تبدیلی کیلئے کاوشوں کو سنہرے حروف سے رقم کرئیگاکیونکہ انہوں نے تاریخ کو سادہ فہم بنا کر اسے عام آدمی تک پہنچایا۔ بقول شاعر!

حدت فکر میں ہے شعلہ گفتار میں ہے

روشنی مجھ میں نہیں ہے میرے کردار میں ہے

بشکریہ روزنامہ آج