ایک پرانی کہانی ہے۔ ایک شہر میں دو تاجر تھے۔ دونوں منافع کماتے تھے، دونوں بازار میں کامیاب تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ایک کے لیے منافع زندگی گزارنے کا ذریعہ تھا، اور دوسرے کے لیے زندگی خود منافع کمانے کا ذریعہ بن چکی تھی۔ بظاہر یہ فرق معمولی لگتا ہے، مگر درحقیقت یہی وہ لکیر ہے جہاں سے دو بالکل مختلف دنیائیں جنم لیتی ہیں۔ ایک سادہ سا سوال اکثر فکری حلقوں میں گردش کرتا ہے۔’’اگر ایک تاجر منافع کماتا ہے، تو اس میں آخر برا کیا ہے؟ کیا تجارت اور منافع انسانی تاریخ کا ہمیشہ سے حصہ نہیں رہے؟‘‘ بظاہر یہ دلیل معصوم سی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال ہی ایک عظیم مغالطے پر استوار ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ’’پانی تو ہمیشہ سے سمندر میں تھا، پھر سونامی میں نیا کیا ہے؟‘‘ فرق مقدار کا نہیں، اصول تنظیم کا ہے اوراس ’’ماہیئت‘کا ہے جو سمندر کے سکون کو تباہی کے طوفان میں بدل دیتی ہے۔ قدیم بازاروں میں تاجر منافع کماتا تھا تاکہ وہ زندگی گزار سکے۔ آج کا انسان زندگی گزارتا ہے تاکہ منافع کما سکے۔ یہ محض جملوں کا الٹ پھیر نہیں، بلکہ دو متوازی تہذیبوں کا جغرافیہ ہے۔
سرمایہ داریت کا سب سے بڑا ’’کمال‘‘‘(اور انسانیت کا زوال) یہ نہیں کہ اس نے دولت کے انبار لگا دیے، بلکہ اس کا اصل کارنامہ انسانی ’’خواہش‘‘ کی ادارہ سازی ہے۔ روایتی معاشروں میں خواہش ایک نفسیاتی عارضہ یا ایک نجی کمزوری سمجھی جاتی تھی، جس کا علاج مذہب اور اخلاق کے پاس تھا۔ جدید نظام نے اسے ایک ’’سماجی ضرورت‘‘ میں بدل دیا۔سرمایہ داری کی جادوگری یہ بھی ہے کہ اس نے انسانی ہوس کو ’’ادارہ سازی‘‘ کے عمل سے گزار کر ایک باقاعدہ سماجی قوت بنا دیا ہے۔
جہاں بازار، قانون اور ریاست اب فرد کے نفس کی نہیں بلکہ سرمائے کی نمو کے محافظ بن چکے ہیں۔ اس مادی ڈھانچے کو سہارا دینے کے لیے اسے وہ مابعد الطبیعیاتی ’’جواز‘‘ فراہم کیا گیا جس نے ان تمام اخلاقی فصیلوں کو منہدم کر دیا جو کبھی ہوس کو لگام دیتی تھیں اور یوں نفس کی ہر بے راہ روی کو ’’شخصی آزادی‘‘ اور ’’انسانی حق‘‘کا مقدس نام دے کر معتبر ٹھہرایا گیا، لیکن یہ تماشا یہاں ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس نظام کی بقا اس کی لامتناہی ’’توسیع‘‘میں پنہاں ہے، جو اشتہارات کی سحر انگیزی اور قرض کے سراب کے ذریعے ایسی مصنوعی خواہشات تخلیق کرتا ہے جو انسان کو ایک ایسے عالمی شکنجے میں کس دیتی ہیں جہاں وہ محض نظام کا ایندھن بن کر رہ جاتا ہے۔آج کا بازار، قانون اور ریاست۔سب اس لیے منظم کیے گئے ہیں کہ فرد کی ’’خواہش‘‘ کو ایک ناقابلِ تسخیر قوت بنایا جا سکے۔ جب مارکیٹ یہ کہتی ہے کہ ’’صارف ہمیشہ درست ہوتا ہے‘‘ تو وہ دراصل انسان کے نفسِ امارہ کو ایک غیر مرئی قوت کا درجہ دے رہی ہوتی ہے۔ یہاں قانون کا کام عدل کا قیام نہیں، بلکہ ان ’’معاہدوں‘‘ کا تحفظ ہے جو انسانی ہوس کی بنیاد پر کیے گئے ہوں۔
اس نظام کا دوسرا اہم مرحلہ خواہش کو ’’اخلاقی جواز‘‘فراہم کرنا ہے۔ قدیم دنیا میں ’’قناعت‘‘ ایک قدر تھی اور ’’لالچ‘‘ ایک عیب۔ جدیدیت نے اس اخلاقیات کو تلپٹ کر دیا۔ آج ’’آزادی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ہر خواہش کو پورا کرنے کا ’’حق‘‘رکھتا ہو۔
یہاں ’’انسانی حقوق‘‘ کا پورا بیانیہ ایک ایسی سیکولر مذہبیت میں بدل جاتا ہے جہاں خدا کو مرکز سے ہٹا کر ’’انسان کی پسند‘‘ کو مرکز بنا دیا گیا ہے۔ جب خواہش ایک اخلاقی ’’حق‘‘ بن جائے، تو پھر اخلاقیات کی ہر وہ دیوار گرا دی جاتی ہے جو منافع کی راہ میں حائل ہو۔ اگر مارکیٹ کو سود، عریانی یا نشے کی طلب ہے، تو یہ نظام اسے ’’حق انتخاب‘‘ کے خوبصورت لفافے میں پیک کر کے پیش کر دے گا۔لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، اگر یہ نظام صرف موجودہ خواہشات کو پورا کرتا تو شاید کب کا دم توڑ چکا ہوتا۔ اس کی بقا کا راز اس کی مسلسل ’’توسیع‘‘ میں ہے۔ اسے زندہ رہنے کے لیے نت نئی خواہشات کا ایندھن درکار ہے۔اس ہوس کے پہیے کو گھمانے کے لیے تین بڑے ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔
ایڈورٹائزنگ کی صنعت: اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ2026 تک عالمی سطح پر اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ یہ ایک ٹریلین ڈالر اس لیے خرچ نہیں ہوتے کہ آپ کی ضرورت پوری ہو، بلکہ اس لیے خرچ ہوتے ہیں کہ آپ کو اپنی موجودہ زندگی سے’’نفرت‘‘ ہو جائے اور آپ اس خواب کے پیچھے بھاگیں جو اشتہار میں دکھایا گیا ہے۔قرض کا جال: صرف امریکا میں کریڈٹ کارڈ کا قرض ۱.۱ ٹریلین ڈالر کی حد عبور کر چکا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان نے اپنی آنے والی زندگی کو بھی اپنی آج کی مصنوعی خواہش کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔
میڈیا کلچر: جو انسان کو ایک ’’عبد‘‘سے نکال کر ایک ’’صارف ‘‘بنا دیتا ہے۔یہ ہی وہ مقام ہے جہاں خواہش اب محض نفس کا مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ پورے عالمی نظام کا ایندھن بن جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی معیشت کا یہ دیو قامت بت کسی ٹھوس مابعد الطبیعیاتی بنیاد پر نہیں، بلکہ ہماری ’’عدمِ اطمینان‘‘ کی ریت پر کھڑا ہے، اگر آج انسانیت قناعت کی دولت سے مالا مال ہو جائے، تو وال اسٹریٹ کا جاہ و جلال اور لندن اسٹاک ایکسچینج کی رعنائی تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر تاریخ کے کوڑے دان میں جا گریں۔ یہ نظام اس مہیب انجن کی مانند ہے جس کا واحد ایندھن ’’انسانی ہوس‘‘ہے، وہ ہوس جسے بھڑکانے کے لیے عالمی سطح پر سالانہ ایک ٹریلین ڈالر (ایک ہزار ارب ڈالر) صرف اشتہارات کی مد میں اس لیے جھونک دیے جاتے ہیں کہ آپ کو اپنی موجودہ زندگی سے بیزار کر کے نئی خواہشات کا دست نگر بنایا جا سکے۔
