مئی محنت کشوں کا دن

کالم نگار: میاں اسامہ صادق

ویسے تو ہر دن ہی مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے مگر دنیا بھر میں یکم مئی کا دن ان گمنام ہیروز کے نام کیا جاتا ہے جن کے ہاتھوں کے چھالے انسانیت کی ترقی کی بنیاد بنتے ہیں۔ یہ دن محض ایک سالانہ تعطیل نہیں بلکہ شکاگو کے ان جاں نثاروں کی یادگار ہے جنہوں نے 1886 میں اپنے حقوق کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ مزدور کوئی مشین نہیں بلکہ گوشت پوست کا ایک انسان ہے جس کے کچھ حقوق اور جذبات ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر 'انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن جیسے ادارے اگرچہ مزدوروں کے تحفظ کے دعوے کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی تیسری دنیا کے ممالک، بشمول پاکستان، میں مزدور طبقہ بدترین معاشی استحصال کا شکار ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مزدور کا مقام انتہائی بلند ہے۔ کائنات کے سب سے عظیم انسان، نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے محنت کش کو "اللہ کا دوست" (الکاسب حبیب اللہ) قرار دے کر محنت کی عظمت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ آپ ﷺ نے نہ صرف زبانی تعلیمات دیں بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے کام کر کے محنت کی مثالیں قائم کیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ایک صحابی نے اپنا کھردرا ہاتھ آپ ﷺ کی طرف بڑھایا تو آپ ﷺ نے اس بوسہ دیا، جو اس بات کی علامت تھا کہ مشقت کرنے والے ہاتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو محبوب ہیں۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان کہ "مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو" ایک ایسا عالمگیر اصول ہے جس پر اگر آج کی دنیا عمل کرے تو تمام لیبر یونینز اور احتجاجوں کی ضرورت ہی ختم ہو جائے۔ آپ ﷺ نے مزدور کے خلاف زیادتی کرنے والے کے خلاف قیامت کے دن خود مقدمہ لڑنے کا اعلان فرما کر آجر (مالک) پر بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔
موجودہ دور کے معاشی حقائق پر نظر ڈالی جائے تو تصویر انتہائی دھندلی نظر آتی ہے۔ آج جب عالمی سطح پر مہنگائی کا طوفان برپا ہے، پاکستان کا مزدور دو وقت کی روٹی کے لیے سسک رہا ہے۔ آٹا، بجلی، پٹرول اور ادویات کی قیمتیں جس رفتار سے بڑھ رہی ہیں، اس تناظر میں پرانی اجرتیں مذاق بن کر رہ گئی ہیں۔ انسانی ہمدردی اور معاشی انصاف کا تقاضا ہے کہ ایک مزدور کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 70,000 روپے مقرر کی جائے، تاکہ وہ کم از کم اپنے بچوں کو بھوکا سونے سے بچا سکے۔ اس سے کم رقم میں گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف کم از کم اجرت کا اعلان کرے بلکہ نجی اداروں اور کارخانوں میں اس کے نفاذ کو بھی یقینی بنائے۔
موجودہ دور کی کمر توڑ مہنگائی میں مزدور کی تعریف صرف وہی نہیں جو اینٹیں اٹھاتا ہے، بلکہ وہ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ بھی اس میں شامل ہیں جو قوم کی معمار ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں میں کئی اساتذہ آج بھی معمولی مشاہرے پر کام کر رہے ہیں، جو ان کی علمی قابلیت اور خدمات کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ایک استاد جو نسلوں کی آبیاری کرتا ہے، اگر وہ خود معاشی فکر میں مبتلا ہوگا تو قوم کی تربیت کیسے کرے گا؟ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ اساتذہ کی کم از کم تنخواہ بھی 50,000 سے 70,000 روپے کے درمیان ہونی چاہیے تاکہ وہ یکسوئی سے اپنا فرض نبھا سکیں۔ اسی طرح ہمارے ملک کا کسان، جو معیشت کا سب سے بڑا سہارا ہے، آج بدترین حالات سے گزر رہا ہے۔ کسان کی محنت تبھی رنگ لا سکتی ہے جب اسے ڈیزل، کھاد اور بیج سستے داموں میسر ہوں۔ حکومت پر یہ لازم ہے کہ کسانوں کے لیے ڈیزل کی قیمتوں میں خصوصی رعایت دے اور سرکاری خزانے سے ان کے لیے باقاعدہ وظائف مقرر کیے جائیں، کیونکہ اگر کسان کا چولہا بجھ گیا تو ملک میں غذائی قلت کا طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ ایک اور طبقہ جو ہماری حفاظت کے لیے راتوں کو جاگتا ہے، وہ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز اور نجی اداروں کے ملازمین ہیں۔ یہ لوگ 12 سے 14 گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں لیکن ان کی اجرت انتہائی قلیل ہے۔ ان پرائیویٹ ملازمین کا استحصال ختم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ چاہے وہ فیکٹری کا مزدور ہو، سیکیورٹی گارڈ ہو یا کسی نجی دفتر کا نائب قاصد، کسی کی بھی اجرت 70,000 روپے سے کم ہونا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان تمام محنت کشوں کے لیے "لیبر کارڈ" جاری کرے جس کے ذریعے انہیں مفت علاج، بچوں کے لیے مفت تعلیم اور بڑھاپے میں پنشن کی سہولت میسر ہو۔ بین الاقوامی اداروں کو بھی صرف قراردادوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں مزدوروں کی حالتِ زار بدلنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ مزدور کی اہمیت صرف عمارات کھڑی کرنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ ملک کی دفاعی صنعت سے لے کر زراعت کے میدانوں تک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کی معاشی ترقی ہو یا یورپی ممالک کا صنعتی انقلاب، ان سب کے پیچھے مزدور کی شب روز محنت شامل ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ پالیسیاں بنانے والے ایوانوں میں مزدور کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک کھیت میں کام کرنے والا ہاری اور فیکٹری میں پسینہ بہانے والا مزدور خوشحال نہیں ہوگا، ملک کی معیشت کبھی استحکام حاصل نہیں کر سکتی۔ یومِ مئی ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم مزدور کو صرف "سستا مزدور" نہ سمجھیں بلکہ اسے معاشرے کا معزز شہری تسلیم کریں۔ اسلام کی آفاقی تعلیمات اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر کا نچوڑ یہی ہے کہ مزدور کی عزتِ نفس کی حفاظت کی جائے اور اسے وہ معاشی تحفظ فراہم کیا جائے جس کا وہ حقدار ہے۔ آج کے دن کا بہترین خراجِ تحسین یہی ہے کہ ہم اس طبقے کے لیے آواز اٹھائیں جو بول نہیں سکتا اور ان کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کا عزم کریں۔ آج کے دن ہم ان تمام مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو جی جان سے محنت کرتے ہیں اور محنت کی عظمت صرف کارخانوں کے پہیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا دائرہ ان گھروں تک پھیلا ہوا ہے جہاں سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے خاموش مجاہد دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ ہم سب سے پہلے ان عظیم والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر صرف اس لیے تگ و دو کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل سنور سکے۔ ان کے ساتھ ہی وہ بیٹیاں اور بہنیں بھی لائقِ صد احترام ہیں جو کسی بھی مشکل کی پروا کیے بغیر اپنے بوڑھے والدین کی لاٹھی بنتی ہیں اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کے لیے میدانِ عمل میں نکلتی ہیں۔ ان کم سن بچوں کی ہمت کو بھی سلام پہنچے جو اپنی عمر سے بڑھ کر ذمہ داریاں اٹھائے اپنے خاندان کا سہارا بنے ہوئے ہیں، ان کا ہر قدم صبر اور قربانی کی ایک روشن مثال ہے۔
معاشرے کی بہتری کے لیے صرف گھر کی دہلیز تک ہی محنت محدود نہیں، بلکہ میدانِ عمل میں بھی ایسے کردار موجود ہیں جن کی لگن دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ شدید تپتی گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں جب عام انسان سائے کی تلاش میں ہوتا ہے، تب کالے کوٹ میں ملبوس وہ وکلاء صاحبان دوسروں کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ ان کا یہ جذبہ کہ وہ اپنی تکلیف بھول کر مظلوم کی آواز بنتے ہیں، معاشرے میں ان کے مقام کو بلند کرتا ہے۔ اسی طرح انسانی زندگیوں کے نگہبان وہ ڈاکٹرز ہیں جو اپنی نیندیں قربان کر کے دو دو، تین تین دن تک لگاتار ہسپتالوں میں ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ان مسیحاؤں کی انتھک محنت اور مریضوں کی جان بچانے کے لیے دن رات کی جدوجہد انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ریسکیو 1122 جیسے ادارے کے جوان، جو کسی بھی حادثے یا ہنگامی صورتحال میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں، وہ ملک کا فخر ہیں۔ ان کی بروقت مدد اور حادثات کے دوران پہنچائی جانے والی ریلیف کی خدمات نے بے شمار گھروں کے چراغ بجھنے سے بچائے ہیں۔
جہاں عام شہری اپنے فرائض نبھاتے ہیں، وہیں پاکستان کی مسلح افواج اور پاک فضائیہ کے شاہین اس قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ خاص طور پر فروری 2025 میں ہونے والی حالیہ جنگ کے دوران جس طرح پاک فوج اور فضائیہ نے دشمن کے دانت کھٹے کیے اور انڈیا کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا، اس نے تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ سرحدوں پر سینہ تان کر کھڑے جوان ہوں یا فضاؤں میں دشمن کے طیاروں کو گرانے والے ہوا باز، ان کی بہادری اور قربانی ہی کی بدولت آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ امن ہو یا جنگ، پولیس کے جوانوں سے لے کر پاک فوج کے غازیوں تک، یہ سب وہ محنت کش ہیں جو اپنے گھر بار سے دور ہماری راتوں کو پرسکون بنانے کے لیے جاگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رزقِ حلال کی تلاش میں نکلنے والا مزدور ہو یا ملک کی سرحدوں کا پاسبان، ہر وہ ہاتھ جو دیانتداری سے کام کر رہا ہے، وہ اس وطن کی عظمت کا معمار ہے اور آج پوری قوم ان کی خدمات کو دل سے تسلیم کرتی ہے۔
ان سب کے ساتھ ساتھ ہم اپنی پولیس کے جوانوں کو بھی نہیں بھول سکتے جو ہر موسم کی سختی جھیلتے ہوئے سڑکوں اور چوراہوں پر پہرہ دیتے ہیں۔ ان کی الرٹ ڈیوٹی ہی کی بدولت عوام خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رزقِ حلال کمانے والا اور اپنے فرائض کو دیانتداری سے نبھانے والا ہر شخص چاہے وہ مزدور ہو، وکیل ہو، ڈاکٹر ہو یا سپاہی، اس ملک اور قوم کا اصل سرمایہ ہے۔ آج کا دن ان سب کی ہمت، جرات اور خلوصِ نیت کو تسلیم کرنے کا دن ہے، کیونکہ دنیا کی تمام تر خوبصورتی انھی محنت کشوں کے دم قدم سے قائم ہے۔

بشکریہ روزنامہ آج