514

آج کی قدروقیمت 

اگر ہم تاریخ کی طرف نظر دوڑائیں تو ہمیں مختلف شخصيات کے اقوال نظر آتے ہیں جن میں انھوں نے آج کی اہمیت، قدرومنزلت اور قدروقیمت کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی دی۔

اگر ہم بات کریں گوتم بدھ کی جو ایک فلاسفر اور بدھ مت کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ بقول بدھا، “ماضی میں نہ رہیں، مستقبل کا خواب نہ دیکھیں، موجودہ لمحے پر ذہن کو مرتکز کریں”۔

ایکچارٹ ٹولے, جو کہ دی “پاور آف نو” کے لکھاری ہیں وہ اپنی کتاب میں آج کی اہمیت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آج کو اپنی زندگی کا بنیادی مرکز بنائیں۔ وہ مزید بیان کرتا ہے کہ موجودہ لمحے پر ماضی کی طاقت نہیں ہے، آپ ماضی میں درپیش ہونے والے مسائل سے بے غم ہو کر اپنے آج کو اپنا مقصد بنائیں۔
ان سب کا یہی خلاصہ نکلتا ہے کہ انسان اپنی سوچ، قوت اور وسائل کو اپنے موجوہ حال پر لگائے اور ماضی کی ناکامیوں سے پریشان اور مسقبل کے لیے فکر مند نہ رہے۔

آج اگر انسان جو کچھ ہے، جس مرتبے پر فائز ہے، جس سوچ کا مالک ہے، وہ صرف اور صرف اپنے ماضی کی بدولت ہے۔ کیوں کہ انسان آج جو کچھ بھگت رہا ہے، مساٸل سے دوچار یا کامياب زندگی بسر کر رہا تو وہ صرف اپنے ماضی کے کردار اور سوچ کی وجہ سے۔ اور انسان موجودہ حال میں جو کچھ کر رہا ہے، وہ اُس کے مسقبل سے وابستہ ہے۔

اس لیے لازم ہے کہ انسان معاشرے میں مثبت کردار ادا کرے اور اپنی سوچ کو ماضی کی مشکلات اور ناکامیوں سے صاف رکھے۔

اس کے برعکس اگر انسان اپنی موجوہ وقت کو ماضی کی مشکلات، منفی سوچ اور مصائب سے بھری زندگی کو دوہرانا شروع کر دے تو اس سے نہ صرف وہ اپنے موجودہ حال کو تباہ کرے گا بلکہ اپنے مسقبل کو بھی تباہ اور تکلیف دہ بنائے گا۔

ویسے یہ بات ماننے کی ہے کہ انسان اپنے ماضی کی غلطیوں، پریشانیوں، تجربات اور رکاوٹوں سے سیکھتا ہے اور ایک کامیاب انسان بنتا ہے۔ اگر وہ اپنی غلطیوں کو سمجھے اور ان غلطیوں کو اپنی زندگی میں پھر نہ دہرائے۔

ان تمام باتوں سے ہمیں یہی سبق اور سیکھنے کو ملتا ہے کہ آج کی اہمیت نہایت زیادہ ہے اور ہمارا مسقبل بھی ہمارے موجودہ حال سے وابستہ ہے۔ اسی لیے ہر انسان کو چاہے وہ کسی بھی صورت حال سے گزر رہا اُسے چاہیے کہ وہ اپنے حال پر متوجہ ہو اور اپنے حال کو سنجيدگی سے مثبت کاموں کی طرف راغب کرے۔

وہ انسان یقيناً اپنے آپ کو بدل سکتا ہے اور اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ سکتا ہے جو اپنے آج پر دھیان دے۔ اپنے موجودہ وقت کو کارآمد بنائے، ماضی کی مشکلات پر توجہ نہ دے اور ایک پرسکون زندگی بسر کرے تو کامیابی ضرور قدم چومے گی.

بشکریہ اردو کالمز