121

ٹرمپ عمران خان کو کیوں رہا کروانا چاہتے ہیں ؟

پنجابی زبان کی ایک بولی ہے کہ’’ساڈا چندرا وکیل نہ بولے۔۔۔تے اوہدے وَلوں جج بولدا‘‘۔ پاکستان کی سیاسی صورت حال یہ ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے کے وکیل ہیں۔مگر کھل کے ایک دوسرے کا دفاع نہیں کر پارہے۔قانون سازی کی حد تک تو معاملات ٹھیک ہیں مگر حکومت کا موجودہ سیٹ اپ عوام میں اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ بہتر کرنے کے کوئی کاوش کرتا نظر نہیں آرہا۔ بلکہ کبھی کبھی تو ایسے لگتا ہے کہ جان بوجھ کے تمام تر سیاسی عدم استحکام کی ذمہ داری انہی کے کندھوں پہ ڈالی جاتی ہے۔ یا کم از کم ایسا تاثر ضرور دیا جاتا ہے کہ " جی ہم نہیں" وہ " تھے۔جب کہ دوسری طرف عمران خان کی وکالت کے لیے امریکا کی نئی حکومت کھل کے سامنے آ گئی ہے۔ خصوصی مشنز کے نمائندہ رچرڈ گرینل تو عمران خان کی رہائی کے لیے باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں۔نامزد سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو بھی خاصے متحرک نظر آرہے ہیں۔ امریکا کے اس تحرک کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے دونوں طرف سے ہمیشہ جنگ کے اعلانات ہی سننے کو ملتے تھے۔مگر اب دونوں فریق اچھے بچوں کی طرح بات چیت کی میز پہ آن بیٹھے ہیں۔سوال یہ ہے کہ دونوں فریق اتنی جلدی مذاکرات پہ راضی کیسے ہو گئے؟ ہم جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نے نئی امریکی انتظامیہ کے ارادوں کو بروقت بھانپ لیا ہے۔ٹرمپ کی ٹیم میں عمران خان کے لیے ہمدردی نہ صرف موجود ہے بلکہ اس کا کھلم کھلا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔لہذا امریکا بہادر سے ٹکر لینے سے بہتر یہ ہے کہ صورت حال کا سیاسی حل نکالا جائے اور اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کی جائے۔اب یہ مذاکرات اسٹیبلشمنٹ براہ راست تو کر نہیں سکتی۔لہذا حکومت کا پلیٹ فارم ہی استعمال کیا جائے گا۔ اس امر پہ متفق ہونے کی ایک بڑی وجہ پاکستان کی مخدوش اقتصادی صورت حال ہے۔پاکستان چونکہ اپنی امداد کے لیے عالمی مالیاتی اداروں پہ انحصار کرتا ہے لہذا امریکہ بہادر کو ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔مذاکرات کی میز پہ بیٹھنے سے نون لیگ اور پیپلز پارٹی اپنے وجود کو بطور حکومت بھی منوانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔جو کہ اس سے پہلے تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکاری رہی۔ اب اگلا سوال یہ ہے کہ عمران خان جو کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے بات کرنے سے بے زاری کا اظہار کرتے رہے وہ مذاکرات پہ کیسے راضی ہو گئے۔ یقینا اس کی سب سے بڑی وجہ امریکی حمایت ہے۔اگر آپ عوامی حمایت کی بات کریں گے تو وہ پہلے بھی موجود تھی۔مگر نئی امریکی انتظامیہ کی نظر کرم نے عمران خان کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔اب وہ مذاکرات کی میز پہ طاقتور فریق کے طور پہ بیٹھیں گے اور اپنی شرائط منوائیں گے۔حالیہ صورت حال میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مذاکرات کا آغاز عمران خان یا تحریک کے مطالبات سے ہوا ہے۔جن میں نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات پہ آزادانہ عدالتی انکوائری،سیاسی قیدیوں کی رہائی،انتخابات کے مینڈیٹ کی واپسی اور چھبیسویں آئینی ترمیم کی واپسی شامل ہیں۔اب یہ تمام مطالبات بہت اہم ہیں اور کسی ایک کابھی تسلیم کرنا حکومت کے وجود کے لیے نقصان کا باعث ہو گا۔ حکومت جو ایک عرصے سے عمران خان سے نو مئی کی معافی کا مطالبہ کر رہی تھی،اب اپنا یہ مطالبہ دہرا بھی نہیں پائی اور نہ ہی مذاکرات کی دوسری کوئی شرط رکھی۔ عمران خان کی یہ خوبی ہے کہ وہ بیانیہ کے ٹیبل کو اپنے حق میں با آسانی ٹرن کر لیتے ہیں اور ان کے حامی کسی تبدیلی پہ کوئی سوال تک بھی نہیں پوچھتے۔امریکی مخالفت اور " ہم کوئی غلام ہیں " سے "امریکا عمران خان کی رہائی میں کردار ادا کرے گا"تک کا سفر دو چار بیانات میں ہی طے کر لیا گیا۔اب دیکھئے وہ ہی عمران خان جو حکومتی جماعتوں سے مذاکرات کے سخت مخالف تھے،اب بات چیت کر رہے ہیں۔دونوں صورتوں میں ان کے حامی ان سے راضی ہیں۔عمران خان یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی رہائی کے مطالبے کے خلاف موجودہ حکومت امریکا مخالف بیانیہ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ان کے علاوہ دوسرا کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں ہے جو بیانیہ بدلنے اور عوام کو قائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ایسے بہت سے عوامل نے مل کر عمران خان کے اعتماد میں اضافہ کر دیا ہے۔ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ روایتی سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے ۔لہذا ان سے کسی بھی غیر معمولی ڈیمانڈ اور ردعمل کی توقع کی جاسکتی ہے۔جواب طلب سوال یہ ہے کہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو عمران خان کی حمایت سے کیا ملے گا؟ ایک تو یہ کہ ٹرمپ چونکہ خود اسٹیبلشمنٹ مخالف ووٹ لے کر صدر بنے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے راستے میں بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ عمران خان نے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا میں ٹرمپ انتظامیہ کی مدد کی تھی۔جس کو صدر ٹرمپ نے بہت سراہا تھا۔ٹرمپ کے پاس یقینا یہ بریفنگ بھی موجود ہو گی کہ حکومت کے خاتمے اور مقدمات سمیت وہ اور عمران خان تقریبا ایک ہی جیسے حالات کا شکار رہے ہیں۔ٹرمپ دنیا بھر میں" امریکی جنگوں کے خاتمے"اور "امداد نہیں تجارت " کے نعروں کے ساتھ اقتدار میں آرہے ہیں۔انہیں بھارت، چین ،پاکستان لڑائی سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔لہذا انہیں کسی بھی ملک میں کسی خاص سیٹ اپ کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ خالصا جمہوری حکومت ہی ان کے مفاد میں ہو گی۔ایسے بہت سے عوامل مل کر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو عمران خان کی حمایت اور موجودہ سیٹ اپ کی مخالفت پہ مائل کرتے ہیں۔پنجابی بولی دہرا لیں۔ ساڈا چندرا وکیل نہ بولے تے اوہدے وَلوں جج بولدا

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز