152

پاکستان میں گرین واشنگ: ایک تجزیاتی مطالعہ : میڈیا، کارپوریٹ بیانیے اور ماحولیاتی حقیقتوں پر نظر

(ای ایس جی جرنلسٹ، محققہ،لیکچرر، ماہر ابلاغ عامہ

پاکستان میں ماحولیات کا تذکرہ عموماً قدرتی آفات، موسمی تبدیلیوں یا عالمی درجہ حرارت کے تناظر میں ہوتا ہے۔ لیکن جب ماحولیاتی مسائل کو کارپوریٹ بیانیے، اشتہارات، اور میڈیا کی طاقت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک نیا، مگر خطرناک رخ سامنے آتا ہے جسے “گرین واشنگ” کہا جاتا ہے۔ گرین واشنگ وہ عمل ہے جس میں کمپنیاں یا ادارے ماحول دوست ہونے کا جھوٹا یا مبالغہ آمیز دعویٰ کرتے ہیں، جب کہ ان کے اقدامات یا پالیسیاں عملی طور پر ماحولیاتی نقصان کا باعث بن رہی ہوتی ہیں۔

پاکستان میں گرین واشنگ ایک نو ابھرتا ہوا مگر تیزی سے پھیلتا ہوا رجحان ہے۔ کچھ سال پہلے تک “ماحولیاتی تحفظ” جیسے الفاظ صرف غیر سرکاری تنظیموں یا بین الاقوامی اداروں کی زبان پر سنائی دیتے تھے۔ مگر آج یہ الفاظ ملٹی نیشنل کمپنیوں، بینکوں، تعمیراتی گروپوں، اور حتیٰ کہ سرکاری منصوبہ بندی کے خاکوں میں بھی نظر آتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ وہ ماحولیاتی شعور رکھتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ان کا شعور صرف “برانڈ امیج” بہتر بنانے یا سرمایہ کاری کے مواقع حاصل کرنے تک محدود ہے۔ یہ رویہ نہ صرف ماحولیاتی تحریک کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عام آدمی کو بھی گمراہ کرتا ہے۔

پاکستان میں کئی کمپنیاں اپنی مصنوعات کو “ماحول دوست”، “قدرتی اجزاء سے تیار کردہ” یا “پائیدار ترقی کا ضامن” کہہ کر مارکیٹ میں پیش کرتی ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان مصنوعات کی تیاری میں نہ تو ماحول کا خیال رکھا جاتا ہے، نہ مزدوروں کے حقوق کا۔ بعض تعمیراتی کمپنیاں “گرین ہاؤسنگ” کے منصوبوں کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر وہی منصوبے درختوں کی کٹائی، پانی کے ذخائر کی تباہی، اور مقامی آبادی کی بے دخلی کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے دعوے دراصل سرمایہ کاروں، بینکوں، اور عام صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا کا کردار کیا ہے؟ کیا میڈیا گرین واشنگ کو بے نقاب کر رہا ہے یا اس کا حصہ بن چکا ہے؟ بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا کا کردار زیادہ تر غیر فعال اور غیر تنقیدی رہا ہے۔ ماحولیاتی مسائل پر رپورٹنگ کے لیے ہمارے نیوز رومز میں نہ مہارت ہے، نہ وسائل، اور نہ ہی دلچسپی۔ بیشتر رپورٹرز کے پاس نہ ماحولیاتی اصطلاحات کی سوجھ بوجھ ہے، نہ ان کے پاس ڈیٹا تک رسائی۔ اور جو رپورٹر یا صحافی سنجیدگی سے اس موضوع پر کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں یا تو اشتہارات سے وابستہ پابندیاں روک دیتی ہیں یا ایڈیٹوریل پالیسی۔

میڈیا ہاؤسز میں موجود کارپوریٹ مفادات اور اشتہارات کی دوڑ نے سنجیدہ صحافت کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ جب کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا اشتہار پورے صفحے پر شائع ہو رہا ہو اور وہی کمپنی ماحولیاتی بدعنوانی میں ملوث ہو، تو کیا ایک صحافی اس کے خلاف لکھ سکتا ہے؟ جب کسی کنسٹرکشن ٹائیکون کی جانب سے ماحولیاتی خلاف ورزی پر رپورٹنگ کی جائے، اور وہی شخص میڈیا ہاؤس کا اسپانسر بھی ہو، تو کیا ادارتی آزادی ممکن ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں گرین واشنگ محض ایک تجارتی ہتھکنڈہ نہیں بلکہ صحافت کے ضمیر پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

کارپوریٹ بیانیے کو مزید طاقت اس وقت ملتی ہے جب ریاستی ادارے اور ماحولیاتی ریگولیٹری باڈیز خاموش رہتی ہیں یا خود ان دعوؤں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ مثلاً کئی سرکاری منصوبے ماحولیاتی تحفظ کے نام پر لانچ کیے جاتے ہیں، جیسے “گرین پاکستان پروگرام”، “شجرکاری مہم” یا “کلین اینڈ گرین سٹی” جیسے نعرے۔ مگر ان کے نتائج اور اثرات پر کبھی کوئی جامع آڈٹ نہیں ہوتا۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ پودے کہاں لگے، کتنے پلے، کتنے مرجھا گئے، اور کتنے فوٹو سیشن کے بعد دفن ہو گئے۔

اس پورے منظرنامے میں عوام ایک خاموش تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ انہیں نہ گرین واشنگ کی اصطلاح کا علم ہے، نہ اس کے اثرات کا۔ تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور میڈیا — تینوں نے عوامی شعور بیدار کرنے میں کوتاہی برتی ہے۔ ماحولیاتی تعلیم کو اسکول اور کالج کے نصاب میں باقاعدہ شامل نہ کیا جانا اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی کمپنی اپنے پلاسٹک کے پیکٹ پر درخت کی تصویر لگا دیتی ہے، تو لوگ اسے واقعی ماحول دوست سمجھ لیتے ہیں۔

گرین واشنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ اصل ماحولیاتی کوششوں کی ساکھ کو تباہ کر دیتی ہے۔ جب ہر دوسرا ادارہ جھوٹا دعویٰ کرے گا تو سچے دعوے بھی بے وزن ہو جائیں گے۔ جب ہر اشتہار میں “سبز زمین” دکھائی جائے گی، تو اصل سبز زمین کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ میڈیا، محققین، صحافی، اور تعلیمی ادارے اس موضوع کو سنجیدگی سے لیں۔

ماحولیاتی صحافت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں میں ماحولیاتی مواصلات (Environmental Communication) کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ صحافیوں کی تربیت کے لیے ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد ہونا چاہیے۔ میڈیا ہاؤسز کو اپنے اشتہارات اور خبری ادارتی پالیسی میں شفافیت لانا ہو گی۔ سب سے بڑھ کر، ریگولیٹری اداروں کو گرین واشنگ کے خلاف قانون سازی کرنی ہو گی، تاکہ جو ادارے جھوٹے دعوے کریں، ان پر جرمانہ یا قانونی کارروائی ممکن ہو۔

یہ کالم ایک پکار ہے — اُن تمام اہل قلم، محققین، صحافیوں اور شعور رکھنے والوں کے لیے جو چاہتے ہیں کہ پاکستان میں نہ صرف سبز نعروں کا بول بالا ہو، بلکہ سبز زمین اور صاف فضا کی حقیقت بھی میسر ہو۔ ہمیں صرف “سبز” نظر آنا نہیں، “سبز” ہونا ہے — اور یہ صرف تبھی ممکن ہو گا جب سچائی کو بنیاد بنایا جائے، اور گرین واشنگ کو بے نقاب کیا جائے۔

بشکریہ اردو کالمز