بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، یہ جملہ ہم نے بارہا سنا، دہرایا اور شاید رٹا لگا لیا ہے، مگر اس جملے کی معنویت کی گہرائی میں جانے کا وقت کب آئے گا؟ جب ایک بچہ اپنی معصومیت سمیت کسی درندہ صفت انسان کا شکار ہو جاتا ہے؟ یا جب ایک ماں چیخ چیخ کر انصاف مانگتی ہے اور ریاستی ادارے بےحسی کی چادر اوڑھے سوتے رہتے ہیں؟ ان تلخ سچائیوں کے بیچ حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت کی طرف سے شروع کی گئی مہم “محفوظ بچے، محفوظ پنجاب” ایک تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتی ہے — بشرطیکہ یہ مہم نعرے بازی سے نکل کر عملی اقدامات تک پہنچے۔
مہم کیا ہے؟
پنجاب حکومت نے بچوں کو جنسی استحصال اور ہراسانی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے جس میں اینی میٹڈ کرداروں “ہیا” اور “بہادر” کے ذریعے بچوں کو “اچھے لمس” اور “برے لمس” کا فرق سکھایا جا رہا ہے۔ ان کرداروں کے ذریعے بچوں کو نہ صرف خطرات سے آگاہ کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں یہ بھی سکھایا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی ناگوار صورتِ حال میں کس طرح ردعمل دیں، کس سے مدد طلب کریں، اور اپنی حفاظت کیسے کریں۔
اس مہم کو وزارتِ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو، اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے، جس میں نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ گھریلو اور سماجی سطح پر بھی والدین اور سرپرستوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کی گواہی
یہ مہم کسی خیالی خطرے کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی بنیاد ان خوفناک زمینی حقائق پر ہے جنہیں ہم بطور معاشرہ عرصہ دراز سے نظر انداز کرتے آ رہے ہیں۔ 2024 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے 3,364 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں زیادہ تر متاثرہ بچے 11 سے 15 سال کی عمر کے تھے، جبکہ 56 فیصد واقعات جان پہچان والوں کے ہاتھوں پیش آئے۔
یہ اعداد و شمار صرف وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے — اور ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ غیر رپورٹ شدہ واقعات کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ہمارے سماج میں ایسے موضوعات پر بات کرنا آج بھی شرمندگی یا بدنامی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔
سماجی بے حسی کا چہرہ
بچوں کے جنسی استحصال جیسے حساس اور سنجیدہ موضوع کو اکثر مذہبی، ثقافتی اور روایتی رکاوٹوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ اکثر والدین اس خوف سے بچوں کو آگاہی دینے سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں وہ “قبل از وقت بالغ” نہ ہو جائیں، یا ان کا “معصوم ذہن” خراب نہ ہو جائے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی معصوم ذہن استحصال کا شکار بن جاتا ہے اور اسے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
اساتذہ بھی اکثر تربیت یافتہ نہیں ہوتے کہ وہ بچوں کو ان مسائل پر شعور دے سکیں یا کسی متاثرہ بچے کی مدد کر سکیں۔ ایسے میں ریاست کا یہ قدم خوش آئند ہے کہ کم از کم بات چیت کا آغاز ہو رہا ہے، ورنہ ہم تو صدیوں سے “بات کرنے سے بات بگڑتی ہے” والے فلسفے پر چلتے آئے ہیں۔
کیا یہ کافی ہے؟
یہ سوال بہت اہم ہے۔ آگاہی مہمات کا آغاز ضروری ہوتا ہے، مگر ان کا اختتام صرف اشتہاری مہمات، سوشل میڈیا ویڈیوز یا سیمینارز پر نہیں ہونا چاہیے۔ اس مہم کی کامیابی کے لیے چند لازمی اقدامات درکار ہیں:
1. نصاب میں مستقل شمولیت:
اچھے اور برے لمس، پرائیویسی، جسمانی خود مختاری جیسے موضوعات کو اسکول نصاب کا حصہ بنایا جائے — خاص طور پر پرائمری سطح سے۔
2. اساتذہ کی تربیت:
اساتذہ کے لیے خصوصی تربیتی پروگرامز کا انعقاد ہو تاکہ وہ بچوں سے مؤثر رابطہ کر سکیں اور حساس کیسز میں مدد فراہم کر سکیں۔
3. والدین کی شمولیت:
گھریلو سطح پر آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ والدین کو یہ باور کروایا جائے کہ جنسی تعلیم، جنسی بے راہ روی کی طرف قدم نہیں، بلکہ تحفظ کی جانب پہلا قدم ہے۔
4. رپورٹنگ میکانزم کی بہتری:
بچوں کے لیے آسان اور خفیہ رپورٹنگ سسٹمز تشکیل دیے جائیں، جن پر وہ اعتماد کے ساتھ اطلاع دے سکیں۔
5. قانونی نظام کی فعالیت:
زینب الرٹ بل جیسے قوانین پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ پولیس، ہسپتال اور عدالتی عملہ بچوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے۔
اداروں کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ
چائلڈ پروٹیکشن بیورو جیسے ادارے موجود ہیں مگر ان کی کارکردگی اکثر کاغذی حد تک محدود رہتی ہے۔ فنڈز کی کمی، تربیت یافتہ عملے کی قلت، اور کیسز کی مناسب پیروی نہ ہونے کے باعث کئی بچے انصاف سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اگر یہ مہم ان اداروں کو بھی جوابدہ بنانے کا ذریعہ بنے تو اس کے حقیقی ثمرات سامنے آ سکتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں رسائی کا مسئلہ
شہری علاقوں میں تو شاید یہ مہم کسی حد تک کامیاب ہو جائے، مگر دیہی علاقوں میں جہاں نہ انٹرنیٹ ہے، نہ تربیت یافتہ اساتذہ، وہاں آگاہی کی یہ روشنی کیسے پہنچے گی؟ اس کے لیے موبائل ٹیمز، ریڈیو پروگرامز، مقامی زبانوں میں مواد، اور کمیونٹی لیڈرز کی شمولیت ناگزیر ہے۔
ایک اجتماعی ذمے داری
اس مہم کی کامیابی صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، ہر ماں، ہر باپ، ہر استاد، اور ہر صحافی کی بھی ہے۔ ہمیں معاشرتی رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے، شرمندگی اور خاموشی کی دیوار گرا کر بچوں کے ساتھ ایک ایسا رشتہ قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ خود کو محفوظ اور بااعتماد محسوس کریں۔
⸻
اختتامیہ
“محفوظ بچے، محفوظ پنجاب” صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایک سماجی عہد ہے — کہ ہم اپنے بچوں کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنائیں گے، کہ ہم ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے، کہ ہم خوف کی زنجیریں توڑیں گے اور شعور کا چراغ جلائیں گے۔
اگر یہ مہم محض ایک سرکاری مہم نہیں بلکہ ایک سماجی بیداری کی تحریک بن جائے تو یہ ہمارے بچوں کے لیے ایک محفوظ کل کی نوید بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر یہ بھی چند اشتہارات اور سیمینارز میں سمٹ کر رہ جائے گی — اور بچے، وہ پھر ایک بار نظر انداز ہو جائیں گے، کسی اندھیرے کمرے میں، کسی بند دروازے کے پیچھے، اپنے بچپن سمیت۔