210

سیاست کی بساط پر مفادات کا کھیل

دنیا کے سیاسی منظر نامے میں امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ہی متنازع رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش کا اظہار اور شام پر عائد پابندیاں ہٹانے کا عندیہ بین الاقوامی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس کے برعکس، سعودی عرب کے ساتھ 143 ارب ڈالر کے معاہدے اور 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی مفادات ہمیشہ معاشی اور اسٹریٹجک فوائد سے جڑے ہوتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش کا اظہار ایک حیرت انگیز تبدیلی ہے کیونکہ ان کے دور صدارت میں ایران پر پابندیاں سخت کر دی گئی تھیں۔ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ کیا امریکہ کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی پالیسی کی طرف اشارہ ہے؟ یا یہ صرف وقتی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے؟

ٹرمپ کی پالیسیوں میں تضاد اس وقت واضح ہوتا ہے جب ایک طرف ایران کے ساتھ معاہدے کا عندیہ دیا جاتا ہے اور دوسری طرف ایران کے اتحادی ملک شام سے پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ سعودی ولی عہد سے مشاورت کے بعد پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ آیا خود مختار پالیسی ہے یا سعودی مفادات کے تابع؟

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے دراصل سعودی معیشت کو امریکی منڈیوں سے جوڑنے کی کوشش ہیں۔ سعودی عرب کا بوئنگ 737 طیارے خریدنے کا فیصلہ اور ایف-35 طیاروں کی خریداری کی خواہش امریکی دفاعی صنعت کے فروغ کا باعث بنے گا۔

سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امریکی خدمات اور تربیت فراہم کرنے کا وعدہ اس بات کا غماز ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کر کے اپنے اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دفاعی اتحاد کس کے خلاف ہے؟

پاکستان اور بھارت کے حالیہ تنازع میں چینی جیٹ طیاروں کی کامیابی نے ایشیائی خطے میں فضائی جنگی صلاحیتوں کے حوالے سے نیا منظر نامہ پیش کیا ہے۔ امریکی دفاعی ماہرین کے لیے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ چین کی دفاعی ٹیکنالوجی میں برتری خطے میں امریکی بالادستی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں میں پالیسی کی تضاد نمایاں ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا عندیہ اور دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی مفادات کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہے۔

امریکہ کی جانب سے شام پر پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ اور سعودی عرب کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے اقتصادی اور دفاعی محاذوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

امریکہ کی بدلتی پالیسیوں کا محور دراصل عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو توازن میں رکھنا ہے۔ ایران کے ساتھ معاہدے کا عندیہ اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط دفاعی تعاون کا وعدہ امریکی مفادات کے تناظر میں تو معنی خیز ہے، لیکن اس کا عالمی امن پر کیا اثر ہوگا، یہ ایک بڑا سوال ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری امریکی پالیسیوں کو محض معاشی مفادات کے تناظر میں نہ دیکھے بلکہ ان کے دور رس نتائج پر بھی غور کرے۔ کیا امریکہ واقعی ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے یا یہ محض وقتی حکمت عملی ہے؟ اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کیا مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے واقعی سودمند ثابت ہوگا؟ ان سوالات کے جوابات آنے والا وقت ہی دے گا۔

بشکریہ اردو کالمز