162

رام رحیم کی مذہب فروشی اور بدمعاشی

آج ہم آپ کو کہانی سنائیں گے ایک مذہب فروش بدمعاش کی، جس نے گرمیت رام رحیم سنگھ کے نام سے شہرت پائی۔ رام رحیم کا ڈیرہ سچا سودا ہریانہ میں ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ہماری بیشتر راؤ برادری بھی اس ہی مقدس خطے سے تعلق رکھتی ہے۔ آج کل ایک راؤ رحیم ایڈووکیٹ بھی اپنی مذہبی خدمات کی وجہ سے مشہور ہیں، گمان ہے کہ ان کا آبائی علاقہ بھی ہریانہ ہی ہو گا۔ خیر ہم راؤ رحیم ایڈووکیٹ سے اپنی عقیدت کو فی الحال بھول کر رام رحیم کی طرف واپس آتے ہیں۔

 

گرمیت سنگھ نامی یہ شخص راجھستان کی سورت گڑھ تحصیل میں سنہ 1967 میں پیدا ہوا، جو راجھستان، پنجاب، ہریانہ اور پاکستان کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔ اس نے ڈیرا سچا سودا نامی ایک تنظیم کی سربراہی کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو اپنا چیلا بنایا اور غیر معمولی اثر رسوخ حاصل کیا۔

 

ڈیرہ سچا سودا نامی تنظیم کا بانی قلات، بلوچستان سے ترک وطن کر کے ہریانہ کے سرسا نامی علاقے میں جا بسنے والے ایک شخص مستانہ بلوچستانی تھا۔ اسے اس کے چیلے ”شاہ مستانہ بلوچستانی جی“ کہہ کر پکارتے تھے۔ شاہ جی نے سنہ 1948 میں ڈیرہ سچا سودا نامی تنظیم اور آشرم قائم کیے۔ شاہ جی کا 1960 میں دیہانت ہوا۔ انہوں نے مبینہ طور پر بھوش وانی کی تھی کہ سات برس بعد وہ دوبارہ جنم لیں گے۔

 

شاہ مستانہ جی کے پرلوک سدھارنے کے سات برس بعد، سنہ 1967 میں پیدا ہونے والا رام رحیم سات برس کی عمر میں ڈیرہ سچا سودا میں شامل ہوا۔ اس کے ماتا پتا دونوں شاہ ستنام سنگھ جی کے چیلے تھے۔

شاہ مستانہ جی کے بعد ڈیرے کے سربراہ شاہ ستنام سنگھ جی بنے جن کے پاس یہ منصب 1960 سے 1990 تک رہا۔ گرمیت رام رحیم سنگھ 1990 میں سربراہ بنا۔ اس کے سربراہ بننے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔

 

انڈیا ٹوڈے بتاتا ہے کہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ ”خالصتان کمانڈو فورس“ نامی طاقتور دہشت گرد تنظیم کا سربراہ گرجنت سنگھ عرف راجھستانی، رام رحیم کا پرانا دوست تھا۔ وہ سرسا میں اکثر اس سے ملنے جاتا۔ پولیس انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے مطابق وہ سرسا کے ڈیرہ سچا سودا کے وسیع علاقے میں ہتھیار بھی چھپاتا۔ ستمبر 1990 میں جب رام رحیم کا سربراہی کے لیے تقرر کیا گیا، تو راجھستانی بھی اس موقعے پر موجود تھا۔ ایک روایت کے مطابق، جس کی بڑی شدت اور بسا اوقات تشدد سے نفی کی جاتی ہے، ”شاہ ستنام سنگھ جی کی کنپٹی پر رکھا ریوالور انہیں بلا جبر و اکراہ اس تقرری پر قائل کرنے کے لیے کافی ثابت ہوا“ ۔ شاہ ستنام سنگھ جی نے دسمبر 1991 میں مشکوک حالات میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔

 

راجھستانی اگست 1991 میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا، لیکن اس وقت تک رام رحیم اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹا کر اپنی سرداری مضبوط کر چکا تھا۔

بشکریہ ہم سب