220

صرف گولی مارنے کی اجازت ہے، زندہ دفن کرنے کی نہیں

ویڈیو وائرل ہے، قوم کے جذبات مشتعل ہیں۔ لوگ غمزدہ ہیں۔ ردعمل شدید ہے۔ لڑکی کا نام پہلے شیتل اور لڑکے کا زرک بتایا جا رہا تھا، اب ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کے توسط سے ان کے حقیقی نام سامنے آئے ہیں، بانو ولد وڈیرہ بارو ساتکزئی، احسان ولد وہاب سمالانی علاقہ ڈغگاری مارگٹ۔ لڑکی کی بہادری کی سب تعریف کر رہے ہیں۔ جس دلیری سے اس نے قاتلوں کا سامنا کیا، اس نے سب کو متاثر کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تسلی دی کہ غم نہ کریں، واقعہ نیا نہیں، پرانا ہے، عید سے بھی پہلے کا۔ پھر پہلے ایک شخص کی گرفتاری کی خبر دی اور اب گیارہ کی۔ لیکن کیا انہیں سزا ملے گی؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ یہ تو بلوچ روایات ہیں، اس پر قتل کی سزا کیوں؟ یہ بلوچ روایات پر قتل کر دینے والا جملہ میرا نہیں بلکہ بی این پی (عوامی) کے سابق صدر اسرار اللہ زہری کا ہے، جو بلوچستان سے سینیٹر اور صوبائی وزیر بھی رہے ہیں۔ اس کا پس منظر یاد کر لیتے ہیں۔

 

اگست 2008 میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے واویلا مچایا کہ بابا کوٹ، جعفر آباد، بلوچستان میں پانچ عورتوں کو زندہ دفن کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر ان میں سے تین کے متعلق بتایا گیا کہ وہ 18 برس کی فوزیہ بی بی تھی، دو کے متعلق خیال تھا کہ ان کی عمریں 16 اور 14 سال ہیں۔ ساتھ فوزیہ کی 38 سالہ رشتے دار جنت بی بی اور ایک لڑکی کی 45 سالہ ماں فاطمہ بی بی کا نام لیا گیا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا


ان پانچ خواتین کا تعلق صوبہ بلوچستان کے ضلع جعفر آباد کے گاؤں بابا کوٹ سے تھا اور وہ عمرانی قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ تینوں نوجوان خواتین نے اپنے قبیلے کے افراد کے فیصلے کے خلاف اوستہ محمد قصبے کی سول عدالت میں شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دو دیگر خواتین، جو بڑی عمر کی تھیں، لڑکیوں کے خاندان سے تھیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) ، ملک میں ایف آئی ڈی ایچ سے منسلک لیگ، کی جمع کردہ معلومات کے مطابق، ان کے منصوبے کا پتہ چلا، اور 13 جولائی 2008 کو، پانچ خواتین کو مبینہ طور پر گرفتار کیا گیا اور صوبائی حکومت کی پلیٹوں والی ایک جیپ میں صحرا میں لے جایا جس میں ایک صوبائی وزیر کا بھائی بھی موجود تھا۔ نوجوان خواتین میں سے تین کو مارنے کے بعد ، مردوں نے ان پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ پھر انہیں زندہ حالت میں دفن کر دیا گیا۔ وہاں موجود دو دیگر خواتین کو بھی اس وقت زندہ دفن کر دیا گیا جب وہ متاثرین کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔


معاملہ عالمی سطح پر اچھلا۔ اس وقت پاکستان میں سوشل میڈیا تو کوئی خاص نہیں تھا، لیکن الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے اس کی بھرپور کوریج کی۔ صوبائی حکومت نے بتایا کہ اتنا ظلم بھی نہیں ہوا، کہ پانچ کو زندہ دفن کیا ہو، صرف تین کو قتل کیا گیا۔ ابتدائی طور پر لاشوں پر گولیوں کے نشان بتائے گئے، پھر پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر نے کہا کہ نہیں، برآمد ہونے والی دو لاشوں کے سروں پر پتھروں اور ڈنڈوں کی چوٹ لگنے سے موت ہوئی ہے۔

بی بی سی کا نمائندہ اس علاقے میں گیا اور اس نے رپورٹ کیا:


نصیرآباد سے دو گھنٹوں کی مسافت پر عمرانی قبیلے کے آبائی علاقے تمبو میں عورتوں کے قتل پر کوئی سوگ ہے نہ پشیمانی۔ ان عورتوں کی کہانی ان کے ناموں کی طرح دو تین راستوں پر چل رہی ہے۔ قتل کی گئی عورتوں کے نام حمیداں عرف عزت خاتون، جنت عرف رحیماں خاتون اور سیانی عرف فاطمہ بتائے جا رہے ہیں۔

عورتوں کے اجتماعی قتل کی واردات چودہ جولائی کی رات ہوئی اور اس کی خبر پندرہ جولائی کو مقامی میڈیا میں آ گئی۔ مقامی پولس حرکت میں نہ آئی تو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امان اللہ خان نے سولہ جولائی کو از خود نوٹس لیا اور رپورٹ طلب کی۔

 

علاقے میں کہا جا رہا ہے کہ عورتیں تین تھیں اور پسند کی شادی کے لیے گھر سے نکلی تھیں۔ ان میں سے ایک قبیلے کے سردار کی بھتیجی یا بھانجی تھیں اور انہیں اوستہ محمد کے ایک ہوٹل سے سرکاری جیپ میں اٹھایا گیا اور بعد میں قتل کیا گیا۔

دوسری کہانی علاقے میں یہ عام ہے کہ ان عورتوں کو قبیلے کے سردار کے لڑکوں نے دوستی رکھنے کے لیے تنگ کیا۔ جب وہ آمادہ نہیں ہوئیں تو انہیں سیاہ کاری کا الزام لگا قتل کر دیا گیا۔

عام حالات میں ایسے قتل کیس کی تفتیش پولیس کا کوئی بھی انسپکٹر سطح کا افسر کرتا ہے مگر علاقے میں حالات کچھ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کہ پولیس کے ضلعی افسر نے ایک مقامی صحافی کو طعنہ دیا کہ تم خود بھی بلوچ ہو پھر مجھ سے کیوں ایسے سوالات کرتے ہو کہ غیرت آ جائے۔

 

پولیس جب بابا کوٹ جا رہی تھی تو وزیراعلی ہاؤس کوئٹہ سے علاقے میں ایک وائرلیس پیغام جاری ہوا کہ آج قبر کشائی نہ کی جائے۔ صوبے کے پولیس سربراہ سے مقامی افسران کے رابطوں کے بعد صورتِ حال واضح ہوئی کہ وزیراعلی نے ایسا کوئی پیغام نہیں جاری کیا تھا۔

ڈی آئی جی سبی کے مطابق اگر اُس رات قبر کشائی نہ کی جاتی تو ان لاشیں نکال کر کہیں دور دفنا دی جاتیں۔ عورتوں کی لاشیں تلاش کرنے میں پولیس نے جن چار جگہوں پر کھدائی کی تھی ان میں سے ایک گڑھے میں جنگلی جانور دفن تھا۔ ایک اور گڑھے میں دو عورتوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں، جنہیں جانوروں نے نوچا تھا اور جنہیں شکاریوں نے دوبارہ مٹی ڈال کر دفن کیا تھا۔

ان حالات میں مقامی ڈاکٹروں نے بھی اپنا کردار کچھ اس طرح نبھایا کہ قبر کشائی سے انکار کر دیا۔ پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل شبیر شیخ کے مطابق مقامی ہسپتال کے ڈاکٹر چونکہ خود بھی عمرانی قبیلے کے ہیں اس لیے انہوں نے پہلے تو قبر کشائی سے انکار کر دیا مگر جب انہیں گرفتاری کی دھمکی دی گئی تو آمادہ ہو گئے اور علاقے میں پولیس کے ساتھ گئے۔


بی بی سی کے نمائندے کی رپورٹ آپ نے پڑھی، اب چلتے ہیں پارلیمنٹ کے ایوان بالا، سینیٹ میں۔ سینیٹ میں یہ معاملہ زیر بحث آیا تو صوبہ بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے سینیٹر اسرار اللہ زہری نے پارلیمنٹ کو بتایا ”بلوچ قبیلے نے قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ عورتوں کو زندہ دفن کیا ہے اس لیے اس معاملے کو نہ اُچھالا جائے۔“ انہوں نے مزید کہا ”یہ صدیوں پرانی روایات ہیں اور میں ان کا تحفظ کرتا رہوں گا۔ صرف غیر اخلاقی کام کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے۔“

قبیلے نے ایک دو لوگوں کو مقدمہ قتل میں نامزد کیا۔ پھر وقت کی دھول میں یہ معاملہ دب گیا۔ کسی کو علم نہیں کہ لڑکیوں کو پسند کی شادی کرنے کے جرم میں زندہ دفن کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا۔ گمان تو یہی ہے کہ عورتوں کے لواحقین نے انہیں معاف کر دیا ہو گا اور وہ اپنی روایات کا تحفظ کرنے کے لیے آزاد پھر رہے ہوں گے، جیسا کہ بانو اور احسان کے معاملے میں روایات کی پاسداری سے عیاں ہو رہا ہے۔ علاقے کے لوگوں اور پولیس اہلکاروں کا اس بارے میں موقف ہمیں اس سے کہیں زیادہ سنگین کیس سے معلوم ہو چکا ہے۔ انگریزی کی ایک کہانی پڑھی تھی جس میں سارا گاؤں ہی قاتل تھا۔ انگریزوں کا فکشن ہو گا، ہمارے ہاں تو حقیقت ہے۔

 

پہلے بھی شدت کم کرنے کے لیے بتایا گیا تھا کہ پانچ کو زندہ دفن نہیں کیا، تین کو قتل کیا ہے، بس دو لاشیں ملی ہیں، اب اس معاملے میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ کوئٹہ پولیس نے ساتکزئی قبائل کے سربراہ سردار شیر باز ساتکزئی کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا۔ اس پر سراوان کے سرداروں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سردار شیر باز ساتکزئی کے گھر کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔

اور ہاں، اب ہماری قومی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے مقتولہ کی کردار کشی شروع کی جا چکی ہے، تاکہ عوام کو سمجھایا جا سکے کہ قاتلوں نے بالکل ٹھیک کیا، بلکہ غیرت کے ان مجاہدوں کو حکومت سزا نہیں کوئی تمغہ دے دے۔ شاید اسی پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے بانو نے کہا ہو گا کہ ”صرف گولی مارنے کی اجازت ہے“ ۔ بانو نے زندہ دفن کرنے کی اجازت نہیں دی ہو گی۔

بشکریہ ہم سب