165

ویکسین نہیں تعلیم کے خلاف مہم چلائیں

ان دنوں کینسر کا سبب بننے والے ایک وائرس کے لیے بننے والی ویکسین کے خلاف مجاہدین پریشان ہو رہے ہیں کہ اس ویکسین سے امت کی تولیدی صلاحیت متاثر ہو جائے گی۔ وہ اطمینان رکھیں، اگر اس کا تولیدی صلاحیت پر ویسا ہی اثر پڑا جیسا پولیو کی ویکسین کا پڑا تھا، تو پھر ہماری قوم کا شرح پیدائش میں پہلا نمبر آ جائے گا۔ پریشان تو ویسے بھی ان قوموں کو ہونا چاہیے جنہوں نے نہ صرف یہ ویکسینیں ایجاد کیں بلکہ کئی دہائیوں سے اپنے شہریوں کو فراہم بھی کر رہے ہیں۔

ہمارے ناقص مشاہدے کے مطابق تو ویکسین سے آبادی میں ویسے کمی ہرگز بھی نہیں ہوتی جیسے تعلیم اور خوشحالی سے ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھ لیں، جیسے جیسے لوگ تعلیم یافتہ اور خوشحال ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے خاندان کا سائز چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ تو بہتر ہے کہ امت کی تعداد بڑھانی ہے تو ویکسین کی بجائے تعلیم اور خوش حالی کی مخالفت کی جائے۔ یعنی آبادی زیادہ کرنے کے خواہاں عصری تعلیم حاصل کرنے سے گریز کریں اور مانگ تانگ کر گزارا کیا کریں۔ یہ بھی نوٹ کریں کہ مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والوں کی آبادی بڑھانے کے سلسلے میں کارکردگی زیادہ ہوتی ہے، یعنی جہالت اور غربت زیادہ ہونے سے آبادی بڑھنے والے فارمولے کے حق میں یہ دلیل بھی جاتی ہے۔

 

سوچیں کہ اگر ترقی یافتہ مغربی ممالک کو ہماری آبادی کم کرنے کی خواہش ہو تو انہیں ویکسین کی ریسرچ اور فراہمی پر پیسے لٹانے کی ضرورت نہیں۔ وہ ہمیں آپس میں اور ہمسایوں سے لڑنے مرنے دیں گے اور اس کام میں مدد کے لیے اپنے جدید ہتھیار بیچ کر چار پیسے بھی بنا لیں۔ یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

اغیار نے ہماری قوم کی مردانگی کم کرنے کے لیے ادویات کا سہارا لینا ہوتا تو ویکسین استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے تو بہت سے لوگ استعمال کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس کی بجائے وہ کھانسی کے شربت میں کچھ گھول دیتے۔ یہ شربت تو بہت سے لوگ سرور لانے کی خاطر پیتے ہیں۔ یا پھر وہ کوئی شے ان اینٹی بایوٹک ادویات میں ملا دیتے جو ہمارے ہاں چھینک آنے پر بھی تفریحاً پھانکی جاتی ہیں۔ تفریحاً یوں کہ وائرس کا تو ان گولیوں نے کچھ بگاڑنا ہوتا نہیں، لیکن ہماری تسلی ہو جاتی ہے کہ اب زکام ٹھیک ہو جائے گا۔

لیکن سب سے بہتر طریقہ تو یہ تھا کہ وہ ویسے ہی مردانہ طاقت والے حکیموں کو اپنی پے رول پر رکھ لیتے جیسے فارما سوٹیکل کمپنیاں اپنی ادویات بیچنے کی خاطر ڈاکٹروں کو رکھتی ہیں۔ بندے جوانی پانے کے شوق میں پھانک لیتے اور پھر حیران ہوتے پھرتے کہ ہمارے دل گردے کیوں فیل ہو گئے ہیں۔ نیلی پیلی گولیاں بھی فراہم کی جا سکتی تھیں۔ وہ ویکسین سے بہت سستی بھی پڑتیں، اور ہمارے مرد مجاہد ان کے دیوانے بھی ہیں۔ اب تو سنا ہے کہ فارما کمپنیوں کو ایسی گولیاں پاکستان میں مارکیٹ کرنے کی اجازت مل گئی ہے، لیکن پھر بھی وہ بھارت سے سمگل ہو کر آتی ہیں۔ مختلف ادویات پاکستان میں بنتی ہیں، ان میں سے بھی بیشتر کا خام مال بھارت ہی سے آتا ہے۔ ان میں کچھ مردانگی کش سفوف ملا دیا جاتا تو دشمن ہماری قوم کا یہ دیرینہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر سکتے تھے۔

 

اوہو۔ اس سے ایک خیال آیا۔ یہ بھارت تو ہمارا دشمن ملک ہے نا؟ وہ کہیں ان رنگ برنگی گولیوں کے ذریعے ہمارا بلاوجہ کی مردانگی کا مسئلہ ہی نہ حل کر رہا ہو۔ ہم بھی حیران ہو رہے تھے کہ گزشتہ بیس تیس برسوں میں پاکستان کی شرح پیدائش گر کیوں گئی ہے؟ ہم اس بارے میں جتنا سوچتے ہیں، اتنا ہی یقین ہوتا جا رہا ہے کہ بزدل دشمن نے ایک مرتبہ پھر رات کی تاریکی والے حملے کی آپشن اختیار کی ہے۔

بشکریہ ہم سب