اس سوال کے بعد تو ذہن میں اُٹھنے والے وسوسوں نے سوچوں کی نگری میں طوفان سا برپا کر دیا۔ بظاہر سویا ہوا ضمیر ایک دم ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھا اور کسی منھ پھٹ صحافی کی مانند بار بار دریافت کرنے لگا کہ جس کالج میں آپ اپنے بچوں کو پڑھانا مناسب نہیں سمجھتے یا اُس کو اِس قابل نہیں بنا سکے، کیا وہاں سے تنخواہ لینا رزقِ حلال کے زُمرے میں آئے گا؟ رزقِ حرام کا سب سے بڑا اور خوف ناک نقصان جو مَیں نے پڑھ، سن رکھا تھا، وہ یہ تھا کہ اس کے مرتکب فرد یا افراد کی دعا قبول نہیں ہوتی، بقول انجم رومانی: انجم دعا قبول ہو تو آخر کس طرح رزقِ حرام سب کے شکم تک پہنچ گیا پھر تو مَیں نے بڑے گریڈ کی وہ سرکاری نوکری کہ جس کے لیے کبھی مَنتیں مانا اور دعائیں مانگا کرتے تھے اور اپنے شہر میں پوسٹنگ کے دوران جس میں فراغت کی عیاشی کے ساتھ ساتھ ذاتی کاروبار، اکیڈمی بازی، اپنا پرائیویٹ کالج، پراپرٹی ڈیلنگ اور گاؤں کے زمیندارے جیسے بہت سے خرخشے دھڑلّے سے پالے جا سکتے تھے، کو دل، دماغ ، حواس، قیاس سے نکال کر لاہور کے ایک ایسے ادارے میں آنے کا فیصلہ کر لیا، جہاں سے لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں، بچیوں کو پورے اعتماد سے پڑھایا جا سکتا تھا۔ یقین کریں اس مشکل فیصلے کے بعد نہ صرف رزق، مکان، سیاحت، استراحت کے معاملات بہتر سے بہترین ہوتے چلے گئے۔ خدائے بزرگ و برتر کی اتنی نوازشات کے بعد دل میں فریضۂ حج کے لیے دیارِ مقدس کی زیارت کے شوق نے پھر سر اٹھایا ۔ چنانچہ تین بار سرکاری حج کے لیے باقاعدہ درخواست دی۔ سُن رکھا تھا کہ سرکاری قرعہ اندازی میں اگر پہلی دوسری بار نام نہ آئے تو تیسری بار لازمی آ جاتا ہے۔بعد میں پتہ چلا کہ یہاں بھی نام ڈلوانے کے لیے کچھ ذاتی پیچ لڑانے پڑتے ہیں۔ ایک مولانا دوست نے میری بار بار کی درخواست بازی کا سن کے کہا بھی کہ آپ اپنی درخواست کا نمبر بتائیں، حج کمیٹی میں میرے کئی دوست ہیں، مَیں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں آپ کا نام ڈلوا دیتا ہوں لیکن خدائی معاملات میں کسی بندے کی مداخلت کا تو زندگی میں کبھی سوچا بھی نہیں۔ پھر اگرچہ پرائیویٹ حج بہت مہنگا تھا لیکن میرا دعا کی طاقت پہ ہمیشہ بہت پختہ یقین رہا ہے۔ اس لیے سرکاری بد معاملگیوں سے دل برداشتہ ہو کر اسی مہنگے حج کے لیے خواہش دل میں پالنا شروع کر دی۔ مَیں نے پڑھا، سنا اور تجربہ کر کے بھی دیکھا ہے جو معاملہ کامل اللہ پہ چھوڑ دیا جائے، وہ اگر آپ کے حق میں بہتر ہے تو کسی نہ کسی طرح ہو کے رہتا ہے، اس میں یقین کا طاقتور ہونا ضروری ہوتا ہے۔ چنانچہ 2023ء میں میری توقعات سے بڑھ کے دو ہفتے کے وی آئی پی حج کا بندوبست ہو گیا۔ حج کے اس خوبصورت اور مقدس فریضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مکہ اور مدینہ کے پانچ ستاروں والے ہوٹلز میں قیام، اس کے ساتھ ساتھ مکہ کے نووٹل ٹھاکر ہوٹل میں تیس سال سے مکہ میں مقیم، اُردو زبان کے بہت بڑے سیوک اور عمدہ مزاح نگار، نیز نئے پرانے مکہ کی رگ رگ سے واقف نوی ممبئی (انڈیا)کے انجنئیر نادر خاں سرگروہ، جس نے فیس بک اور وٹس اَپ کے مندرجات سے نہ صرف مجھے تلاش کر لیا بلکہ اس’ عالم میں انتخاب‘ شہر کی نئے انداز سے سیر کرائی اور اسی طرح ڈھاکہ یونیورسٹی کے شاہی مہمان متعدد پروفیسروں بالخصوص عربی کے ڈاکٹر نصیرالدین سے مسلسل ملاقاتیں آج تک دل پہ رقم ہیں۔ فیض کے الفاظ میں ’کب کے ٹھہرے ان اجنبیوں‘ اور ناصر کے بقول ان ’ساحلوں پہ گانے والوں‘سے اچانک آشنائی اور دوستی نبھانے جیسے جذبات سے آگاہی نے کتنے ہی زخم اور امیدیں تازہ کر دیں، ان ملاقاتوں کا حال میرے تفصیلی مضمون ’ مَیں نے ڈھاکہ تَیرتے دیکھا‘ میں موجود ہے، جب کہ اس پورے سفر کی تفصیل میرے حج کے سفرنامے ’تیرے عفوِ بندہ نواز میں‘ (مطبوعہ قلم فاونڈیشن، لاہور ۲۰۲۴ئ) میں آ چکی ہے۔ دو بار خدا اور اُس کے رسول ﷺ کی سرزمین کو جی بھر کے دیکھنے، دین کی اصل روح کو سمجھنے اور اپنے اَفرنگی، زُنّاری، درباری، فرقہ ورانہ، جاہلانہ رنگ میں رنگے ڈھلمل عقیدوں کو توحید اور قرآن کی پختگی عطا ہونے کے بعد رزقِ حلال سے دھیلا دھیلا اکٹھا کرتے اور میلہ میلہ گھومتے اس پینڈو کے ذہن میں عالمی میلہ دیکھنے کے خواب نے نوجوان ہیروئن کی مانند انگڑائی لی۔ فلموں، ڈراموں، ڈاکومنٹریز اور سوشل میڈیا میں دیکھتے، کتب و رسائل و اخبارات میں پڑھتے، دور نزدیک کے احباب سے سنتے سنتے لندن، پیرس، امریکہ، سوئزرلینڈ، سنگاپور، بنکاک، دوبئی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور مختلف روسی ریاستوںکی دھاک اگرچہ دل کے مختلف گوشوں میں بگو گوشے کی صورت اختیار کر چکی تھی لیکن جوں ہی کہیں سورج کی سرزمین جاپان، وہاں کے لوگوں، ان کے رہن سہن، وہاں پر نافذ سب کے لیے یکساں قوانین، بھرپور انسانی تحفظ اور ترقی کی رفتار میں سب کو پیچھے چھوڑ جانے کے باوجود خالص مشرقی اَقدار کو سینے سے لگائے رکھنے کی بات آتی تو ان دنیاوی ’معجزات‘ کو دیکھنے کی تمنا باقی سب خواہشوں پہ بازی لے جاتی لیکن وہاں جانے میں حائل سفری، حضری، مالی مشکلات، خیالی دنیا پہ ویسے ہی غالب آ جاتیں جیسے شیخ سعدی کے بقول لہسن کی بُو مُشک و عنبر کی خوشبو کو ڈھانپ لیتی ہے اور ڈھول کی آواز بربط کے سازوں کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ ایسے مواقع پہ دانائے راز اقبال ہمیشہ آڑے آتا ہے، جس کی شاعری ناکام حسرتوں، رِستے زخموں اور ٹوٹتی امیدوں کے لیے ہمیشہ مرہم کا کام کرتی ہے۔ وہ خرابیِ حالات، وسائل کی کمی اور روز و شب کے مسائل کے باوجود ہمیشہ اونچی پرواز کے مشورے دیتا ہے۔ انھوں نے فرما رکھا ہے کہ: فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی دو دہائیاں ادھر کی بات ہے کہ ہمارے ایک نیم خواندہ مگر پُرعزم عزیز مخدوش گھریلو حالات کی رفو گری کے لیے وطنِ عزیز میں چھوٹی موٹی (موٹی صرف روزمرہ کی لاج رکھنے کے لیے آیا ہے) نوکریاں، ٹھیکے داری، مکان سازی میں پیش آمدہ دشواریوں سے دل برداشتہ ہو کر کسی دوست کے جاپان میں مقیم بھائی کی وساطت سے وہاں کا ویزہ حاصل کرنے میں کامران ٹھہرے۔ ہمارے اس برادرِ نسبتی نور الامین اولکھ کو بعد میں جُوق در جُوق جاپان سدھارنے والی خاندانی ٹیم کا اوپنر بیٹسمین کہا جا سکتا ہے۔ زبان کی دشوایاں، کھانے پینے کے لاینحل مسائل، پاکستانی کرنسی کی بدحالی کی بنا پر مہنگائی کا جن، ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کا کوہ قاف سر کرنا، ہر جگہ، ہر مقام پر وقت کی سخت ترین پابندی ، ناکام لَوٹنے کی شرمندگی، ان سب مشکلات کے ساتھ ساتھ طویل سفر پہ جا کے میسر آنے والی مزدوری نما آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی، اوور ٹائم ،پھر اسی طرح ٹھکانے کا حصول اور وہاں پہ بلا ناغہ واپسی، یہ سب کچھ جتنا مشکل تھا، وہ شاید بیان سے ظاہر نہیں ہو سکتا۔ مختصر یہ کہ اس بھائی کی استقامت نے اِنّامع العسرِ یُسرا َ پہ کامل یقین ہونے کی بنا پر ہمت نہ ہاری اور رفتہ ملازم و مزدوری کو چھوٹے موٹے کاروبار کی شکل دی۔ اس طرح کی طویل ریاضت کے بعد وہ بالآخر جاپان کی سرزمین پر قدم جمانے میں کامیاب ٹھہرے۔ (جاری)
47