جہاں تک میرے بچوں کا معاملہ ہے، مَیں نے انھیں دنیا جہان کے مروج سانچوں میں فِٹ کرنے کی کبھیکوشش تو کیا خواہش بھی نہیں کی۔ ہمارے ہاں گھر گھر سے بیٹی کو ہر صورت ڈاکٹر اور بیٹے کو حتی الوسع انجنیئر بنانے کی تکرار اور پھر عملی زندگی میں ان کے شعبوں کے گھناؤنے کردار کی وجہ سے طبیعت پہلے دن سے ان پیشوں سے اِبا کرنے لگی تھی۔ان شعبوں پہ بہت غور کیا، پوری دنیا میں یہ مشکل پیشے اپنی دیانت داری اور کارناموں کی بنا پر لائقِ تکریم ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسا چلن رائج ہے کہ پیسے کی ہوس کے علاوہ ان کا کوئی مشن، مقصد ، مصرف نظر نہیں آتا۔ ہمارے ایک مزاح نگار دوست بڑی عید پہ بکرا منڈی گئے تو جاتے ہی ان کی ایک مسکین سے دُنبے پہ نظر پڑی، چنانچہ انھوں نے جھٹ پوچھا: ’یہ سچ مچ کا دُنبہ ہے یا اسے مار مار کے دُنبہ بنایا گیا ہے؟ ‘ یقین کریں ہمارے ہاں بھی پرائمری سکول سے شروع ہونے والی ٹیوشنوں، میٹرک ایف ایس سی میں نمبروں کے حصول کے لیے لگنے والی چوہا دوڑ، میڈیکل، انجنیئرنگ میں داخلے والے ایم کیٹ/ ای کیٹ کے لیے ہونے والی کیٹ واک اور اس کے لیے خاندان بھر کی رسہ کشی، پھر پانچ چھے سال تک اٹھنے والے جائز، ناجائز اخراجات، خدمت کی بجائے بزنس کے لیے بنائے گئے پرائیویٹ اداروں کے نخرا جات، اس کے بعد انٹرن شپ کے بخرا جات، سب سے آخر میں سرکاری نوکری یا پرائیویٹ کلینک کے مسخراجات، مار مار کے دُنبہ بنانے والی کیفیت سے کم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاروں بچوں کے جب جب سکول جانے کی نوبت آئی اور انھوں نے اِدھر اُدھر سے اُٹھنے والی آوازوں کی رَو میں دریافت کیا کہ ہم نے بڑے ہو کر کیا بننا ہے تو مَیں نے مذکورہ بالا کھینچا تانی کے ردِ عمل کے طور پر ہمیشہ یہی جواب دیا کہ ڈاکٹر اور انجنیئر کے علاوہ کچھ بھی بن جانا، اس میں آپ کی چوائس کو ترجیح دی جائے گی۔ پھر یہی ہوا کہ بڑی بیٹی نے بغیر ٹیوشن کے مناسب نمبروں والا میٹرک کیا تو خاندان کے مشترکہ فیصلے کے مطابق قر ۂ فال ہوم اکنامکس کالج کے نام پڑا، جو گلبرگ لاہور میں میرے کالج کے قریب واقع تھا۔ بیٹی نے اس فیصلے کو پسند کیا۔ داخلہ کسی کیٹ شَیٹ کے بغیر ہو گیا اور بیٹی چھے سال کی اننگز کھیلنے کے لیے لاہور چلی آئی۔ پانچویں سال خاندان میں رشتے کی بات چلی تو اپنے خاندان ہی کے سُنت کے مطابق طے کردہ ضابطے (بلوغت کے بعد فورا! شادی) کے مطابق کوئی حیل و حجت نہیں کی۔ یہ پوری برادری میں انوکھی بات تھی کہ لڑکی کا آخری تعلیمی سال باقی ہے (جو بعد میں لڑکے والوں نے وعدے کے مطابق احسن طریقے سے مکمل کرایا) اُدھر لڑکے نے بی کام کا امتحان دیا ہوا ، نہ ایم فل، نہ پی ایچ۔ ڈی، نہ پاؤں پہ کھڑا ہونے کا بہانہ ، نہ اپنا مکان، نہ آبائی دُکان … خالصتاً اللہ تعالیٰ کے آسرے پہ سادگی سے نکاح، پھر رخصتی۔خدا کا کرنا کہ ایک ہی سال میں لڑکا جاپان چلا گیا، تھوڑے سے کاروبار میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا گیا، اگلے سال بیٹی بھی روانہ۔ اب وہ تین پیارے پیارے بچوں (عائشہ، محمد، عیسیٰ) کے والدین ہیں۔ قادرِ مطلق نے ہر طرح کی نعمت سے نواز رکھا ہے۔ دوسرے نمبر پہ بیٹا عانش احمد وِرک ہے۔ اکلوتا ہونے کی وجہ سے لاڈلا اور من مرضیا۔ جٹوں والے نمبروں (700) کے ساتھ میٹرک کیا تو اسے ایف سی کالج لے آیا، مضامین بھی اسی کی پسند پہ چھوڑ دیے۔ ایف سی کی جن مزے دار اداؤں کی بنا پر مَیں نے بیسویں سرکاری سکیل کے لیے ایچ ای سی، اسلام آباد سے (equlance)سرٹیفکیٹ لانے کی بھی زحمت گوارا نہ کی، محض انیسواں جوائن کر کے گھر کے قریب ترین واقع گورنمنٹ کالج آف سائنس سے نابالغ (primature) ریٹائرمنٹ لے لی۔ ان میں ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان کے اس اعلیٰ ترین کالج میں فیکلٹی کے بچوں کو نہ صرف داخلہ دے دیا جاتا ہے بلکہ فیس بھی مکمل معاف ہے۔ اسی طرح kinship کا سلسلہ تو کئی نسلوں تک چلتا ہے۔ بیٹے کی پوری کوشش تھی کہ وہ بارہ جماعتیں پاس کر کے جاپانی قافلے میں جا شامل ہو لیکن مَیں دل سے چاہتا تھا کہ وہ ہمارے پاس رہے اور گھر میں اَبّا لگ کے مجھے پڑھنے لکھنے کے لیے آزاد کر دے۔ اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پہلے تو ہم نے اس پہ سولہ سالہ تعلیم کی شرط عائد کر دی، پھر شادی اور عملی زندگی۔ شادی کے لیے اس کی خواہش کے مطابق ایسی لڑکی کی تلاش تھی، جو خاندانی روایت کے مطابق نوکری وغیرہ کے جھنجٹ میں نہ پڑے۔ مَیں اس مہم کو اپنے کالج ہی سے سر کرنے کی کوشش میں تھا۔ اِدھر اُدھر سے ایک دو ڈاکٹر، لیکچرار وغیرہ کے رشتوں پر اس نے یہ کہہ کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہر لڑکی ملازمت یا پریکٹس کے خواب دیکھتی ہے، جب کہ میری ترجیح گھریلو لڑکی کی ہے، مَیں کسی کے سپنے توڑنا نہیں چاہتا۔ اس لیے کم پڑھی لکھی اور فیوچر پلاننگ کی بجائے فیملی پلاننگ والی لڑکی مناسب رہے گی۔ پھر یہ تلاش بھی اس نے خود ہی مکمل کر لی اور ہم نے اسی کی خواہش کو عملی عروسی جامہ پہنا دیا ۔ اَبّے کی اچھی خاصی ملازمت کے باوجود ایک بات تو اس مستقبل کے اَبّے نے کالج میں آتے ہی مجھ پہ واضح کر دی تھی کہ وہ زندگی میں کبھی بندھی ٹکی نوکری نہیں کرے گا، جب بھی کیا، اپنا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار ہی کرے گا یا گاؤں میں کوئی فارم ہاؤس بنا کے جدید انداز کی زراعت یا ڈیری وغیرہ کا سلسہ شروع کرے گا۔ 2018ء میں جب وہ گریجویٹ ہوا تو ہم نے اسے اپنے ملک میں کوئی بھی کاروبار کرنے پہ اُکسایا۔ اس نے ہماری خواہش پر تھوڑا بہت سروے کر کے جٹوں زمینداروں کا سپوت ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے آٹے کا کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ’کنک‘ کے نام سے ایک برانڈ بھی رجسٹرڈ کروا لیا۔ ایک آدھ دوست، دو ایک رشتے داروں کے ساتھ مل کے اچھی نسل کی گندم خریدی، صفائی کروا کے، خود پسوا کے، ایک ایک، دو دو پانچ پانچ کلو کے پرنٹڈ تھیلے بنا کے گھر گھر ، سٹور سٹور سیمپلنگ بھی شروع کر دی۔ مجھے یاد ہے ان دنوں ہمارے گھر میں کسی بوڑھے مزدور کے سر کی طرح جگہ جگہ آٹا اُگ آیا تھا۔ کچھ اپنوں نے مذاق بھی اڑایا کہ یونیورسٹی پروفیسر کا گریجویٹ بیٹا آٹا بیچ رہا ہے۔ اگرچہ کسان کے کھیت سے غلّہ منڈی، چکی کی مشقت ، پَیکنگ اور ٹرانسپورٹیشن تک ایک مشکل سلسلہ تھا لیکن یقین جانیں ایک ممی ڈیڈی قسم کے لاڈلے کو رات دن عملی کوششیں کرتے دیکھ کے خوشی بہت ہوتی تھی۔ اس محنت کا صلہ یہ ملا کہ بہت جلد اس نے یہ خوش خبری سنائی کہ آٹے کی کوالٹی دیکھ کے ایک دو بڑے سٹور والوں نے آفر کی ہے کہ آپ جگہ جگہ پھرنے کی بجائے ایک دفتر بنا کے بیٹھو، ہمارے ساتھ فی ٹرک کے حساب سے معاہدہ کرو ، کوالٹی اور ٹِیپ ٹاپ ہماری مرضی کی، قیمت آپ کی مرضی کی۔ (جاری)
71