تم ماسک کیوں پہنتی ہو؟ ہم سے سوال کیا گیا۔
کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ مجھے بار بار کووڈ ہو اور پھر لانگ کووڈ۔ ہم نے جواب دیا۔
کیا تم نے ویکسین نہیں لگوائی؟ پھر سوال۔
ہم نے فائزر کے تین انجکشن بھی لگوائے ہیں اور ماڈرنا کے بھی۔ ہمارا جواب۔
پھر تو تم محفوظ ہو گئیں نا۔
نہیں، وائرس بار بار اپنی شکل بدل کر حملہ کر رہا ہے۔ ہم نے کہا
تو بھئی اب یہ فلو جیسا ہو گیا نا۔ روٹین کی بات۔ جواب ملا۔
نہیں یہ فلو جیسا نہیں، یہ ایچ آئی وی جیسا ہے جو ایڈز بیماری کرتا ہے سو اس سے جتنا بچ کر رہا جائے اتنا ہی اچھا۔ ہم نے جواب دیا۔
اس کا مطلب ہے ویکسین کا کوئی فائدہ نہیں۔ مایوسی کا اظہار۔
فائدہ ہے۔ اور وہ یہ کہ فوری طور پہ موت واقع نہیں ہو گی جیسے دو ہزار انیس میں ہوا مگر جب وائرس کی تبدیل زدہ شکل جسم میں داخل ہو گی تب لازمی طور پہ جسم کو نقصان پہنچائے گی جو کچھ عرصے بعد پتا چلے گا۔
اب لانگ کووڈ کی کہانی سنیے!
تین براعظموں میں مقیم ریسرچر جو کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملے مگر ان کی ریسرچ کا تانا بانا ایک دوسرے سے ملتا ہے۔
براعظم یورپ کے ملک اٹلی میں ایک چائلڈ سپیشلسٹ نے نوٹس کرنا شروع کیا کہ کہ کووڈ کا شکار ہونے والے بچے ٹھیک ہونے کے بعد بھی سانس کی بے ترتیبی اور شدید تھکاوٹ کا شکار تھے۔ کچھ ٹیسٹ کروانے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ جسم میں چھوٹی شریانوں کو نقصان پہنچا ہے اور خون میں جمنے کی صلاحیت زیادہ ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں چھوٹے چھوٹے خون کے لوتھڑے جسم میں مختلف شریانوں میں جا کر پھنس جاتے ہیں اور اس عضو کو پہنچنے والا خون یا تو بند ہوجاتا ہے یا انتہائی کم۔
کیا اس وجہ سے ان بچوں میں سانس بے ترتیب اور تھکاوٹ ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں؟
کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا مگر اس کا کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہے، اس نے سوچا۔
یہ لانگ کووڈ کے بارے میں پہلی تھیوری تھی۔
براعظم امریکہ میں رہنے والے ایک مائیکرو بیالوجسٹ ڈاکٹر نے مشاہدہ کیا کہ کووڈ ہو جانے کے بعد بھی وائرس جسم میں موجود رہتا ہے اور بعد میں نظر آنے والی علامات کا ذمہ دار ہے۔ وائرس کا خاص ٹھکانہ نروز ہیں اور اسی سے بے تحاشا تھکاوٹ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
یہ لانگ کووڈ کے بارے میں دوسری تھیوری تھی۔
براعظم آسٹریلیا میں مقیم یونیورسٹی آف ساؤنڈ ویلز کے ڈاکٹر نے دریافت کیا کہ کووڈ کے بعد انسانی جسم کی قوت مدافعت کا نظام انتہائی بگڑ جاتا ہے۔ وہ سیلز جو کووڈ کے خلاف لڑتے ہیں، کبھی نارمل نہیں ہو پاتے۔
یہ لانگ کووڈ کے بارے میں تیسری تھیوری تھی۔
تینوں ریسرچرز نے ان تھیوریز کا آپس میں تعلق دریافت کرنے کی کوشش کی جو لانگ کووڈ کا سبب بنتا ہے۔
یورپین ڈاکٹر نے کہا کہ یہ ایک مثلث کی مانند ہے۔ جسم میں موجود وائرس خون کی شریانوں پہ حملہ کرتا ہے، جواباً بلڈ کلاٹس بننے لگتے ہیں یا امیون سسٹم بگڑنے لگتا ہے۔
امریکہ میں کووڈ سے مرنے والے چوالیس لوگوں کے جسم کا معائنہ کیا گیا۔ ان سب کے مختلف اعضا میں وائرس موت کے بعد بھی موجود تھا۔ ان اعضا میں دماغ، مسلز اور پھیپھڑے شامل تھے۔
اس ریسرچ کے بعد ایک گیسٹرو انٹرولجسٹ نے ان مریضوں کی انتڑیوں سے مواد لیا جو لانگ کووڈ کے شکار تھے اور یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے کہ وہاں وائرس موجود تھا۔
لانگ کووڈ ہے کیا؟
امریکہ کے ادارے سی ڈی سی نے بیس لاکھ مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ دیکھنے کے بعد رپورٹ کیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک مریض جسے کووڈ ہوا، ٹھیک ہونے کے بعد لانگ کووڈ کا شکار ہے۔
امریکہ میں رہنے والے ایک ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 اور لانگ کووڈ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ کووڈ 19 جنہیں ہوا یا ہو رہا ہے، وہ لانگ کووڈ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس کا تناسب ان لوگوں میں زیادہ ہے جنہیں کئی بار کووڈ 19 کے مختلف سڑینز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
لانگ کووڈ کی ایک اور اہم علامت برین فاگ ہے یعنی دماغی صلاحیتوں کا کمزور پڑ جانا۔ دماغ کی شریانوں میں ننھے منے کلاٹ پھنس کر ان کو بند کرتے ہیں اور نتیجتاً دماغ کا وہ حصہ بے کار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کلاٹس نروز کو بلاک کرتے ہوئے انہیں ہلاک کرتے ہیں۔
صاحب، جو بھی ہے وہ کچھ برسوں بعد ہی کھلے گا، تب تک احتیاط کیجیے کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔
ماسک پہنیے۔