76

مخدوش صورتحال!

ھ ساتھ ایک اور معاملہ بھی چلتا رہا ۔ وہ تھا کہ نعرے بازی کی حد تک امریکا اور اسرائیل کو ختم کرنے کی زبانی جمع خرچ کی گئی ۔ مگر اس کے لیے جو تیاری کرنی چاہیے تھی ‘ اس سے مکمل گریز کیا گیا ۔مذہبی نعروں کو ‘ ریاستی پالیسی بنا دیا گیا۔ عرض کرنے کا مقصد بالکل سادہ ہے ۔ لوگوں کے ذہنوں میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف جو نفرت بٹھائی گئی ۔ اس کے حساب سے کوئی عسکری تیاری نہیں کی گئی۔

امریکا اور اسرائیل‘ایران کی ساری کمزوریوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے حد درجہ عیاری سے ایران کی بلند ترین انتظامی اور عسکری سطح پر اپنے ایجنٹ بٹھا دیئے تھے ۔ موساد اور سی آئی اے دونوں ایرانی نظام میں بھرپور طریقے سے سرایت کر چکے تھے۔ بلکہ سچ بات تو یہ ہے کہ نظام پر اندر سے قابض ہو چکے تھے ۔ اس میں ہندوستانی ریاستی عنصر بھی شامل تھا۔ ایران کے زیرک ترین رہنما آخری وقت تک یہ بھانپ نہ سکے کہ ہندوستان‘ اسرائیل اور امریکا کے منفی ہتھکنڈے ان کی سالمیت پر ضرب کاری لگا چکے ہیں۔

غداری کا المیہ دیکھئے کہ آیت اللہ اور ان کی ٹیم کے تمام سربراہان کی موجودگی کی اطلاع اسرائیل کو ایران سے ہی باہم پہنچائی گئی تھی ۔ امریکی اور اسرائیلی ایئرفورس نے جو کارروائی کی‘ اس سے ملک اپنی بلند ترین سطح کی قیادت سے محروم ہو گیا۔ تین دہائیوں سے موجود راہبر اعلیٰ کی شہادت ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔ اس خلا کو پورا کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران‘ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اسرائیل اور امریکی ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلز سے حملہ آور ہے مگر یہ قوت بھی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے ۔ ثبوت یہ ہے کہ ایرانی جوابی حملے اسی فیصد تک کم ہو چکے ہیں۔ اس کی فضائیہ اور بحریہ کو تقریباً تقریباً ختم کیا جا چکا ہے۔ آنے والے دن اس ملک کے لیے بہت مخدوش نظر آتے ہیں ۔

یہ جنگ مشرق وسطیٰ سے باہر نکل سکتی ہے ۔ جو سازش ایران کے خلاف کی گئی وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی صورت میں پاکستان کے خلاف بھی کی جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے بھی وہی کردارہیں جو ہمسایہ ملک یعنی ایران کی تباہی میں ملوث نظر آتے ہیں۔ پاکستانی فوج اور فضائیہ نے بروقت طالبان کے خلاف صائب قدم اٹھایا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ابھی تک مشرق وسطیٰ سے یہ جنگ پاکستان آنے کے امکانات بہت زیادہ نہیں ہیں۔ مگر حتمی طور پر کچھ بھی کہنا ممکن نظر نہیں آتا ۔ پاکستان کے ریاستی اور حکومتی قائدین‘آج کے دن تک ایک بہتر خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ مگر ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام اس قدر بڑھ چکا ہے جس سے نبردآزما ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی روش کو ختم کیا جائے اور ملک میں مقبول سیاسی فریقین کو حکومت سونپی جائے تاکہ ہم اندرونی خلفشار سے نجات پا سکیں۔شاید ہم جنگ کا ایندھن بننے سے بچ جائیں۔

بشکریہ اردو کالمز