منٹھوکھا ، ایک پُر کیف سیاحتی مقام

تحریر: ممتاز شگری

گلگت بلتستان کی سرزمین اپنی سنگلاخ چٹانوں، بلند و بالا ہیبت ناک پہاڑوں اور برف پوش چوٹیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی پہچان رکھتی ہے۔ لیکن اسی وادیِ مہر و وفا کے سینے میں قدرت نے کچھ ایسے گوشے بھی تخلیق کر رکھے ہیں جنہیں دیکھ کر انسانی عقل ورطہِ حیرت میں گم ہو جاتی ہے۔ سکردو شہر سے تقریباً 80 کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد جب ہم ضلع کھرمنگ کے حسین و جمیل گاؤں 'منٹھوکھا' میں داخل ہوتے ہیں، تو تھکن کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ منٹھوکھا آبشار گلگت بلتستان کے مشہور تفریحی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں پہنچ کر آنکھوں کے سامنے ایک ایسا منظر طلوع ہوتا ہے جسے لفظوں کے پیرائے میں ڈھالنا  یقیناً کسی امتحان سے کم نہیں، یہاں پر بیتے گئے پرسکون لمحات اور یہاں کی خوبصورتی کو بیان کرتے ہوئے خوبصورت الفاظ بھی کمتر لگنے لگتے ہیں۔ ہماری خوش قسمتی سمجھیں کہ زندگی میں دوسری بار اس آبشار کی سیر کا موقع اساتذہ کے لئے منعقدہ ایک تربیتی سیشن کے توسط سے ملا۔ اپنے دوستوں کے ہمراہ یہاں کی پُر کیف فضاؤں سے لطف اندوز ہونے کا یہ موقع زندگی کے یادگار لمحات میں سے ایک تھا۔ منٹھوکھا فطرتی حسن کا ایک ایسا شاہکار جو اپنی کشش اور رعنائی میں اپنی مثال آپ ہے۔

منٹھوکھا آبشار کی سب سے بڑی انفرادیت اس کی ہیبت اور خوبصورتی کا وہ حسین سنگم ہے جو بیک وقت دیکھنے والے پر طاری ہوتا ہے۔ تقریباً 180 فٹ کی بلندی سے گرتا ہوا یہ شفاف پانی جب پہاڑ کا سینہ چیر کر نیچے اترتا ہے، تو فضا میں ایک دودھیا بادل سا چھا جاتا ہے۔ اس آبشار کی بلندی اور عمودی ڈھلوان کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اگر آپ اس کے دامن میں کھڑے ہو کر اس کے منبع (جہاں سے پانی گرنا شروع ہوتا ہے) کو دیکھنا چاہیں، تو آپ کو اپنی گردن 85 ڈگری کے زاویے پر موڑ کر آسمان کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے بادلوں کے پار سے کوئی چاندی کی لکیر زمین کی طرف کھنچی چلی آ رہی ہو۔دور دور تک سرد پانی کے چھینٹوں کا جسم اور لباس پر لگنا اس منظر کو اور لذت آمیز بنا دیتا ہے۔

منٹھوکھا کی ایک اور خاص بات اس کا وہ مخصوص آہنگ ہے جو سماعتوں میں رس گھولتا ہے۔ جب یہ پانی چٹانوں سے ٹکراتا ہوا نیچے بہتا ہے، تو فضا میں ایک ایسی موسیقی جنم لیتی ہے جیسے کوئی مشاق غزل گو کسی خاص بحر اور وزن میں غزلیں گنگنا رہا ہو۔ پانی کی یہ سرسراہٹ اور گرنے کی تال کا امتزاج دلوں کو وہ کیف اور سرور بخشتا ہے جو کسی مصنوعی موسیقی میں ممکن نہیں۔ یہاں کی خاموش وادی میں پانی کی یہ 'گنگناہٹ' ایک عجیب سا سماں باندھ دیتی ہے، گویا قدرت خود محوِ کلام ہو۔

منٹھوکھا محض ایک آبشار نہیں، بلکہ فطرت کے ساتھ جڑے تفریحی تجربات کا ایک مکمل پیکیج ہے۔ آبشار کے دامن میں بہتے صاف شفاف پانی کو بروئے کار لاتے ہوئے یہاں بہترین فش فارمز قائم کیے گئے ہیں۔ ان فارمز میں مختلف نسلوں کی، خاص طور پر ٹھنڈے پانی کی ملکہ 'ٹراؤٹ مچھلیاں' موجود ہیں۔ شفاف پانی کی سطح پر ان مچھلیوں کا اچھلنا کودنا اور لہروں کے ساتھ کھیلنا ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے، جو نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے لیے بھی دیدنی ہوتا ہے۔ میں نے پچھلے سال کی طرح اس سال بھی اسکردو ہنزہ ٹورhttps://skarduhunzatour.com/  کےساتھ سفرکیا، ان کی سروس باکمال اور لاجواب تھی

سیاحوں کی سہولت کے لیے یہاں اب معیاری ہوٹلز اور ریسٹورنٹس بھی دستیاب ہیں۔ ان ہوٹلوں کی بالکونی میں بیٹھ کر، ہاتھ میں چائے کی گرم پیالی لیے، سامنے گرتی ہوئی آبشار کا نظارہ کرنا ایک ایسا تجربہ ہے جو عمر بھر یاد رہتا ہے۔ یہاں بیٹھ کر جب انسان بہتے پانی کی موسیقی سنتا ہے اور سامنے پہاڑوں کی اوٹ سے سورج کی کرنیں پانی کے قطروں سے ٹکرا کر قوسِ قزح بناتی ہیں، تو انسان خود کو کسی دوسری دنیا کا باسی محسوس کرنے لگتا ہے۔

آج کی مشینی زندگی، شہروں کے ہنگاموں اور ذہنی تناؤ سے نجات کے لیے یہ مقام کسی آکسیجن سے کم نہیں۔ جنریشن زی کے الفاظ میں آکسیجن کے بجائے "میڈیسن" بھی کہہ سکتے ہیں۔ آبشار کے قریب لگی کسی کرسی پر چند لمحے ساکت بیٹھ کر دیکھیں تو ہم محسوس کرسکتے ہیں کہ پانی کا شور دراصل آپ کے اندر کے شور کو خاموش کر رہا ہے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور پانی کی ہلکی پھوار جب چہرے کو چھوتی ہے، تو روح تک تروتازہ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال بھر یہاں سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

منٹھوکھا آبشار کھرمنگ کے ماتھے کا وہ جھومر ہے جو رہتی دنیا تک قدرت کی صناعی کا اعلان کرتا رہے گا۔ منٹھوکھا کے یہ خوبصورت نظارے بانہیں پھیلائے اربابِ ذوق کو دعوتِ نظارہ دے رہے ہیں۔ آئیں اور اس خا موش اور پُر اثر قدرتی مکالمے کا حصہ بنیں۔

 

بشکریہ روزنامہ آج