گوالیار کا قلعہ‘ مغلوں کے زمانے میں وہ عقوبت گاہ تھی جو باغی شہزادوں اور شاہی خاندان کے نافرمانوں کے لیے مختص تھی
گوالیار کا پر شکوہ قلعہ‘ چھٹی صدی عیسوی میں‘ مہیرا کلہ نام کے بادشاہ نے تعمیر کروایا تھا۔ قدیم وقت سے لے کر آج تک‘ یہ شاہی سطوت کا وہ نشان ہے‘ جسے وقت کی گرد نے اپنے اندر چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ شان و شوکت سے ایستادہ‘ یہ قلعہ کئی صدیوں کے شاہی راز ‘ سموئے ہوئے‘ خاموش کھڑا ہے۔ دیواروں اور بنیادوں میں کیا کیا بھیانک راز چھپے ہوئے ہیں یہ تمام تو کوئی نہیں بتا سکتا۔ مگر مغل بادشاہوں کے دور میں ‘ گوالیار قلعہ کس جبر کا نشان تھا اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔
المیہ یہ تھا کہ مغلوں میں ‘ اقتدار کی تبدیلی کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ اگر بادشاہ موجود ہے ‘ تو اس کے مرنے کے بعد کیا ہو گا۔ اس کے متعلق جوتشی بھی کچھ پیشن گوئی کرنے سے قاصر تھے۔ مغل بادشاہوں کو تو خیر جانے دیجیے مسلمان ممالک ‘ آج تک اسی گھمبیر مسئلہ کا شکار ہیں کہ جائز انتقال اقتدار کیسے ہو؟ موجودہ مسلم ریاستیں‘ جدید ترین دور میں بھی طاقت کے میدان میں مکمل بنجر ہیں۔ یہ المیہ‘ بھیانک صورت میں صدیوں سے سانپ کی طرح پھن لہرا رہا ہے۔ ویسے مغرب کے تہذیب یافتہ ممالک کو دیکھیں ‘ تو شرم آتی ہے ۔ وہاں تو وزراء اعظم یا صدور‘ سرکاری رہائش گاہ سے ذاتی سامان سمیٹتے ہیں۔
خاموشی سے حکومت سے بری الذمہ ہو کر نجی رہائش گاہ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پر ہمارے جیسے ادنیٰ ممالک میں یہ زندگی اور موت کی جدوجہد معلوم پڑتی ہے۔ نہ اقتدار میں آنے کا کوئی جائز ذریعہ ہے۔ ضابطہ یا قانون کے مطابق تو تخت سے اترنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بہرحال مغلیہ دور کے اندر بھی یہی معاملہ تھا۔ سوال تھا کہ بادشاہ کے اقتدار کے لیے ‘ خطرہ بننے والے طاقتور لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟جن میں سے اکثریت‘ بذات خود شاہی خاندان کے افراد کی ہوتی تھی۔ جو نشان عبرت بننے سے پہلے ‘ جاہ و چشم کا سرچشمہ معلوم پڑتے تھے۔
اردگرد‘ ہزاروں درباری خلعتوں میں ملبوس‘ ادب سے کھڑے رہنے کو باعث عزت سمجھتے تھے۔ مگر یہی ‘ طاقتور لوگ ‘ جب اقتدار اعلیٰ کے لیے خطرہ بنتے تھے۔ پھر ان کا انجام اتنا وحشت ناک ہوتا تھا کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔ چند دن پہلے‘ جو قیمتی ترین شاہی ملبوسات پہنے ہوئے‘ سونے چاندی کے تخت پر براجمان ہوتے تھے، پلک جھپکتے ہی‘ شاہی زندانوں کے تہہ خانوں میں سانس لے رہے ہوتے تھے۔ جہاں ان کے اردگرد‘ چوہے ‘ کیڑے مکوڑے اور خاموش محافظ موجود ہوتے تھے۔
گوالیار کا قلعہ‘ مغلوں کے زمانے میں وہ عقوبت گاہ تھی جو باغی شہزادوں اور شاہی خاندان کے نافرمانوں کے لیے مختص تھی۔ اس کے اندر ہزاروں پہرے دار‘ حکیم‘ نباض اور شاہی جاسوس ہوا کرتے تھے۔ جن کا کردار تھوڑی دیر میں عرض کرتا ہوں۔ مغلوں نے اس عظیم قلعہ کو دنیا کی سب سے ہائی سیکیورٹی جیل بنا رکھا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ذہن میں یہ ہو کہ وہاں‘ قیدیوں کو سخت اذیت دی جاتی ہو۔ صاحبان! ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ یہاں شاہی قیدیوں پر کوئی واضح جسمانی ظلم نہیں کیا جاتا تھا۔ مگر یہاں مغلوں کا ایجاد کیا ہوا‘ وہ حربہ استعمال کیا جاتا تھا جس کا نام سن کر ہی بڑے بڑے جری لوگوں کا پتہ پانی ہوجاتا تھا۔
یہ طریقہ کار کوئی ہاتھ پیر کاٹنے کا نہیں تھا بلکہ بادشاہ کے حکم پر‘ ایک ایسا مشروب پلانے کا تھا جس کے استعمال سے انسان‘ آہستہ آہستہ‘ اپنی یادداشت ‘ اعتماد اور نام و نشان سب کچھ بھول جاتا تھا۔ اس کے جسم پر ان گنت پھوڑے نکل آتے تھے جن سے ہر وقت پیپ رستی رہتی تھی۔ مشروب‘ پینے والے انسان کی شناخت ہی بدل دیتا تھا۔ وہ ایک بے ضرر ‘ بیمار کیڑے میں تبدیل ہو جاتا تھا۔ جس کی سب سے بڑی راحت موت ہوتی تھی۔ مگر موت سالہا سال انتظار کرواتی تھی۔ تب تک یہ شاہی شہزادے ‘ ایک ڈھانچے میں تبدیل ہو جاتے تھے جو صرف سانس لینے پر قادر ہوتا تھا۔ جو بات نہیں کر سکتا تھا، جو سوچنے کی طاقت سے محروم ہو جاتا تھا۔ جسے اپنے اردگرد‘ سائے‘ بلائیں‘ جن اور چڑیلیں نظر آتی تھیں۔
اس مشروب سے Hallucinaations شروع ہو جاتی تھیں۔ آس پاس‘ نظر نہ آنے والے خیالی دشمن وجود میں آ جاتے تھے۔ اور ایک دن‘ اسی حالت میں ‘ شہزادہ گوالیار کی قید سے آزاد ہو کر سپھل ہو جاتا تھا یعنی موت کی وادی میں گم ہو جاتا تھا۔ لاش‘ قلعہ کے اندر کسی نامعلوم مقام پر دفن کر دی جاتی تھی۔ اس مشروب کا نام ’’پوستان‘‘ تھا۔ شاہی حکیم ‘ پوست کے ڈوڈوں کو کشید کر کے بناتے تھے۔ یہ زہر آلود مشروب پینے میں حد درجہ کھٹا ہوتا تھا اور اس میں سے ناگوار بو آتی تھی۔ شرو ع شروع میں شہزادے‘ پینے سے انکار کرتے تھے تو زبردستی پکڑ کر پوستان‘ مونہہ میں انڈیلا جاتا تھا۔ چند دن بعد‘ قیدی کی قوت مدافعت اتنی کم ہو جاتی تھی کہ جیسے ہی پیالہ سامنے رکھا جاتا تھا۔
اسے سوچے سمجھے بغیر ‘ کسی روبوٹ کی طرح غٹا غٹ پی لیتا تھا۔ یادداشت کھونے کے مزید نزدیک آ جاتا تھا۔ اس مشروب کو پلانے کا طریقہ شاہی حکیموں نے بڑی محنت سے وضع کیا تھا۔ اسے علی الصبح نہار مونہہ پلایا جاتا تھا۔ قانون یہ تھا کہ اگر کوئی انکار کرے ‘ تو اسے کھانا دینا بند کر دیا جاتا تھا۔ اس طرح یہ دن کا پہلا ناشتہ ہی ہوتا تھا۔ پیتے ہی‘ قیدی‘استغراق میں چلا جاتا تھا۔ اسے دن اور رات کا فرق بھی معلوم نہیں ہوتا تھا۔ وہ عالم بے ہوشی میں نہیں جاتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ‘ ہوش و حواس سے عاری ہو جاتا تھا۔ چند مہینوں میں شخصیت مکمل طور پر بدل جاتی تھی۔ بادشاہ کے لیے کسی قسم کاخطرہ بننے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا تھا۔ اپنا نام تک بھول جاتا تھا۔ ہاں ایک اور بات‘ شاہی قیدیوں کو تنہائی میں رکھا جاتا تھا۔ کسی سے بات نہیں کر سکتے تھے۔ اگر پہرے دار کو کوئی جملہ کہتے تھے ‘ تو اس کا جواب کبھی نہیں ملتا تھا۔ مکمل خاموشی ‘اور پوستان کا خوفناک اثر‘ انھیں اعصابی مریض بنا دیتا تھا۔
ویسے تو یہ حربہ ‘ تمام مغل بادشاہ استعمال کرتے تھے۔ مگر اورنگ زیب عالمگیر ‘ اسے بغیر کسی اخلاقی دباؤ کے ‘ حددرجہ آرام سے استعمال کرنے کا حکم دیا کرتا تھا۔ مراد بخش‘ اورنگ زیب کا بھائی تھا۔ شہنشاہ اسے باغی گردانتا تھا۔ مراد بخش ‘ تخت پر بیٹھنا موروثی حق سمجھتا تھا۔ باغی بھائی کو‘ شہنشاہ نے دھوکے سے گرفتار کروایا۔ جب دربار میں سونے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا پیش کیا گیا۔
کمال رحم فرماتے ہوئے ‘ بادشاہ نے گردن زنی کا حکم نہیں دیا بلکہ گوالیار کے قلعہ میں بھیج دیا گیا۔ جہاں ایک ‘ خفیہ اور شکستہ موت انتظار کر رہی تھی۔ ہاں‘ایک اور بات ‘ مغل‘ شاہی باغیوں کو قتل نہیں کرواتے تھے اس لیے کہ اس طرح باغیوں کے لیے فوج اور عوام میں ‘ ہمدردی کے جذبات ابھر آتے تھے۔ عوام کی نظروں سے اوجھل ‘ گوالیار کا قلعہ‘ ان کے لیے موجود ہوتا تھا۔ جہاں وہ بغیر کسی ثبوت کے مار دیے جاتے تھے۔ ہاں‘ ایک اور نقطہ۔ اہم ترین شاہی قیدیوں کی ہر ماہ‘ درباری مصور‘ آ کر تصویر بنایا کرتا تھا۔ اسے پھر اورنگ زیب کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔ اس طرح بادشاہ کو معلوم پڑ جاتا تھاکہ قیدی کس بدحالی کا شکار ہے۔ کتنا کمزور ہوا ہے ، چہرے پر کتنا ضعف آ چکا ہے۔ مرنے کے بعد کی تصویر بھی بادشاہ کے ملاحظہ کے لیے پیش کی جاتی تھی۔ مغل تاریخ کا سب سے عوام دوست شہزادہ ‘ کامران بھی اسی ظلم و ستم کا شکار ہو کر مارا گیا۔ پوستان نے اسے مفلوج کر دیا۔ پھر اورنگ زیب نے رحم فرماتے ہوئے‘ اس کا گلہ کٹوا کر مروا دیا۔
شائد آپ سوچ رہے ہوں کہ میں کیا ‘ گوالیار کے قلعہ اور زہر آلود پوستان کا ذکر کر رہا ہوں۔ اب تو یہ صرف ایک کہانی معلوم ہوتی ہے۔ نہیں جناب نہیں! آج بھی دنیا میں کچھ نہیں بدلا۔ جو شخص بھی آمر کے اقتدار کے لیے خطرہ بنتا ہے اسے بالکل قدیم انداز میں ہی قید میں رکھا جاتا ہے۔ بغیر کسی کو بتائے ہوئے‘ پوستان طرز کے زہر کا جدید طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ باغی کی قوت ارادی اور حوصلہ توڑنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ اگر یہ حربہ ناکام ہو جائے تو انصاف کی مسند پر بیٹھے ہوئے ‘ بلند پایہ قاضیوں کے ذریعہ اسے قتل کروا دیا جاتا ہے۔ جسے آج پھانسی کا نام دیا گیا ہے۔ مگر ہوتا وہ قتل ہی ہے۔
دور کیوں جاتے ہیں کیا ضیاء الحق نے اپنی مخالف سیاسی جماعت کے سربراہ کو ‘ حد درجہ ہائی سیکیورٹی جیل میں نہیں رکھا؟ کیا سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو شاہی قلعہ میں ظلم و ستم کا نشانہ نہیں بنایا گیا؟ کیا پاکستان کے وزیراعظم کو پھانسی گھاٹ کا نظارہ نہیں دیکھنا پڑا؟ ویسے دنیا کے کسی بھی آمر حکمران کے طرز عمل میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں۔ اختلاف رائے کرنے والے باغیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ ہاں جب مکافات عمل شروع ہو کر‘ اپنی باری آتی ہے تو جمہوریت اور انسانی حقوق یاد آ جاتے ہیں۔
آج بھی دنیا میں گوالیار طرز کے کئی عقوبت خانے موجود ہیں، جیسے امریکا نے گوانتاناموبے کا عقوبت خانہ بنا رکھا ہے۔ شاہی باغیوں کو جدید دور کا پوستان ‘ پلا کر نت نئی بیماریوں میں مبتلا کیا جاتا ہے اور موت کی گھاٹی کے نزدیک تر کر دیا جاتا ہے!
