43

اسرائیل بڑھ رہا ہے

اس جنگ کے آغاز سے ایک یوم قبل ٹائمز آف اسرائیل میں ایک مضمون شائع ہوا جو کہ اسرائیل کے اہداف اور اس میں انڈیا کی شمولیت کے حوالے سے تھا۔ خیال رہے کہ مودی کچھ یوم قبل ہی اسرائیل گئے تھے اور وہ انڈیا کے پہلے وزیراعظم بھی ہیں کہ جنہوں نے 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیل انڈیا اتحاد کو ”آہنی اتحاد“ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ابھی اسرائیل کی طرف سے ہیکسوجن الائنس کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے کہ جس میں اسرائیل، انڈیا، یونان اور قبرص شامل ہیں جب کہ اسرائیلی وزیراعظم کے بقول اس کا حصہ کچھ عرب اور افریقی ممالک بھی ہیں انہوں نے تو نام نہیں لئے کے کون سے ممالک لیکن ابھی ان کا بھی تذکرہ کرتے ہیں۔ اس ہیکسوجن الائنس کے مقاصد یہ بیان کیے گئے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں موجود ریڈیکل سنی بلاک اور شیعہ بلاک سے نبرد آزما ہونا ہے۔ اس اتحاد کے ذریعے مغربی ایشیا کا نیا نقشہ مرتب کرنا اور خلیج فارس میں انڈیا کی حیثیت کو محتاط مبصر سے بلند کر کے اس خطے کے نقشوں کی نئی تشکیل میں مرکزی نقشہ ساز بنانا ہے تا کہ انڈیا مغربی ایشیا کی فالٹ لائنز پر اپنی اجارہ داری اسرائیل کے ساتھ مل کر قائم کر سکے اور بحیرہ روم سے لے کر انڈو پیسیفک تک کا ڈیزائن اپنی مرضی کا مرتب کر سکے دوسرے لفظوں میں یونان کے پانیوں سے لے کر جزیرہ نما عرب تک بالا دستی قائم ہو جائے کہ جس میں جنوبی ایشیا شامل ہیں۔

 

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یونان اور قبرص وغیرہ اس صف بندی میں کیوں شامل ہیں؟ یونان کے وزیر خارجہ نے انڈین وزیر خارجہ کو کچھ عرصہ قبل ملاقات میں کہا تھا کہ یونان انڈیا کے لئے یورپ کا گیٹ وے ہے۔ یونان ترکی کے ساتھ دیرینہ تنازعات رکھتا ہے اور اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لئے وہ انڈیا کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں کر چکا ہے جبکہ انڈین نیوی کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی بھی فراہم کر چکا ہے۔ یونان اس وقت سے شدید پریشانی کا شکار ہو گیا جب پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ ہوا اور پھر ترکی نے بھی اس معاہدہ میں دل چسپی ظاہر کی۔ یونان میں یہ تصور ہے کہ ترکی کا اعلان شمولیت صرف ایک حکمت عملی کے تحت نہیں کیا گیا ہے اور اس دفاعی اتحاد کو وہ اسلامک نیٹو قرار دے رہے ہیں جس میں پاکستان اپنی ایٹمی قوت کی حامل فوجی طاقت، سعودی عرب 75 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ اور ترکی اپنی فوجی صلاحیتوں کے ساتھ موجود، اور اس کے اثرات ایجین سمندر سے بحر ہند تک موجود۔ جبکہ اسرائیل انڈیا یونان قبرص اتحاد اس کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے کیوں کہ وہ مشرقی بحیرہ روم سے شروع ہو کر انرجی اور ٹریڈ روٹ کی تمام سی لائنز آف کمیونیکیشنز پر اپنی اجارہ داری چاہتے ہیں۔ انڈیا خاص طور پر بحیرہ احمر سے لے کر باب المندب کی تجارتی گزر گاہوں پر بدمعاش بن کر بیٹھنا چاہتا ہے۔ انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور پر گفتگو پھر سہی۔

اسی طرح نہر سوئز کے مقابلے میں بن گوریان کینال کو بنانا اسرائیل کا دیرینہ خواب ہے مگر اس کے لئے غزہ اسرائیل کو درکار ہے اور وہ اس لئے ہی غزہ کی آبادی کو شفٹ کرنے کی منصوبہ بندی میں جتا ہوا ہے۔ تا کہ اس بحری حدود سے لے کر بحر ہند اور خلیج فارس تک اس کی بحری راستوں پر اجارہ داری قائم ہو جائے۔ بحری اہم ترین راستوں میں آبنائے ہرمز پر بھی اس کی نظر ہے، اسرائیل ویسے ہی ابراہام اکارڈ کے سفارتی ہتھیار سے عرب دنیا میں اپنی بالا دستی قائم کر رہا ہے اور وہ اس وقت عرب دنیا کے داخلی اختلافات کو اپنے مفادات میں بھرپور استعمال بھی کر رہا ہے۔ جب اپنے گزشتہ دور حکومت میں صدر ٹرمپ نے سعودی بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ آپ ہمارے بغیر دو ہفتے بھی برقرار نہیں رہ سکتے ہیں تو یہ کوئی اپنی سیمابی طبیعت کی وجہ سے نہیں کہہ دیا تھا بلکہ عرب دنیا کے بدلتے حالات اس کی وجہ تھے۔

 

عرب دنیا میں سعودی عرب اور یو اے ای کی بالا دستی کا مقابلہ اب روز روشن کی مانند عیاں ہے۔ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا جس میں سہولت کاری یو اے ای نے کی، اسرائیل غزہ کی آبادی کو جلا وطن کر کے یہاں بسانے کے ساتھ ساتھ اپنی فوجی و انٹیلی جنس موجودگی چاہتا ہے اور یو اے ای صومالی لینڈ سے سٹراٹیجک تعلقات رکھتا ہے، بربیرہ بندر گاہ و ائر پورٹ کی تعمیر کر کے دی ہے جبکہ سعودی عرب نے اسرائیل کے تسلیم کرنے پر پاکستان سمیت ممالک کی مشترکہ مخالفت کا ہدف حاصل کیا تھا، سوڈان میں سعودی حمایت یافتہ سوڈانیز آرمڈ فورسز کا مقابلہ یو اے ای کی حمایت یافتہ ریپڈ اسپورٹ فورسز کر رہی ہے جبکہ سعودی حمایت یافتہ فورسز سے پاکستان نے اسلحہ فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ کیا ہے۔ یمن کے معاملے پر تو ابھی سعودی عرب اور یو اے ای بالکل آمنے سامنے تھے خیال رہے کہ 2021 میں یو اے ای اور اسرائیل نے یمن کے پاس بحری مشقیں کی تھیں اور دو اہم جزائر پر لسننگ پوسٹس بھی قائم کی تھیں۔ اگر ہم صومالی لینڈ سے لے کر یمن تک ان اختلافات پر نظر ڈالیں گے تو دیکھیں گے کہ یہ سب یمن سے جڑے ہوئے ہیں اور اس وقت اسرائیل انڈیا اور ابراہام اکارڈ میں شامل کچھ عرب ریاستوں کی قیادت کرتا ہوا بحیرہ روم سے لے کر خلیج فارس تک تجارتی اور توانائی کے راستوں پر بالا دستی قائم کرنے کے لئے بڑھا چلا آ رہا ہے۔

اب آئیے اس جنگ کی طرف، ایران کی موجودہ حکومت گر گئی تو ایرانی گیس و تیل کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز تک پر اسرائیلی بالا دستی قائم ہو جائے گی۔ با الفاظ دیگر پاکستان کے توانائی کے تمام راستے اسرائیل اور انڈیا کے زیر تسلط ہوں گے۔ عرب دنیا میں ایک ہی ملک رہ جائے گا جو کہ اسرائیل کو جلد یا بدیر چیلنج کر سکتا ہو گا یعنی سعودی عرب۔ مڈل ایسٹ کے نقشوں کی تبدیلی کی اسرائیلی خواہش چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے نقشوں میں تبدیلی نہیں بلکہ سعودی عرب کو ری ڈیزائن کرنے کی بات ہے، میں نے بہت احتیاط سے لفظ استعمال کیا ہے چاہے وہ ابراہام اکارڈ میں ہی کیوں نہ شامل ہو جائے اتنی بڑی مملکت برداشت نہیں ہو گی۔ اس تصویر میں مزید رنگ بھرے کہ انڈیا کی مدد سے عدم استحکام افغانستان، بلوچستان کے ساتھ آیا بیٹھا اسرائیل انڈیا اتحاد اور ایک طرف خود انڈیا جبکہ عرب دنیا میں اسرائیل انڈیا بالا دستی۔ جب یہ خبر جاری کی گئی کہ سعودی ولی عہد نے ایران پر حملے کا کہا تو میرا تبصرہ تھا کہ وہ اپنے پر خود کش حملہ نہیں کر سکتے ہیں اور اس وجہ سے ہی سعودی عرب ایرانی حملوں کے باوجود غیر معمولی ”تحمل“ کر رہا ہے کیوں کہ اس وقت ایرانی حکومت اور سعودی حکومت کی بقا ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں اور پاکستان کے مفادات بھی اس سے ہی پیوستہ ہیں اس لئے کہ اسرائیل بڑھ رہا ہے۔

بشکریہ ہم سب