امریکہ اسرائیل کے ایران پر حملوں کے حوالے سے میں پہلے دن سے اس پختہ رائے کا اظہار کر رہا ہوں کہ پاکستان ایران کی حمایت کر رہا ہے اور سعودیہ کی ہرگز یہ خواہش نہیں کہ ایران کی موجودہ حکومت گر جائے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسرائیل اسکے بعد کسی صورت بھی سعودیہ کے موجودہ ڈھانچہ کو برقرار نہ رہنے دینے کیلئے ہر حد کو عبور کرئیگا۔ ایران سعودیہ کیلئے اس وقت ڈیفنس لائن بن چکا ہے۔ تادم تحریر صورتحال یہ ہے کہ ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل پیرا ہونے کی بجائے گفت و شنید کی طرف راغب دکھائی دیتا ہے اور دنیا بھرکا میڈیا بتا رہا ہے کہ یہ سب پاکستان کی ثالثی میں ہو رہا ہے ۔ مگر ذرا ٹھہریئے پاکستان میںاس دوران سیاسی عناد کے سبب کچھ لوگ اپنے ملک کی ہی جڑیں کاٹنے میںمصروف رہے ، الزامات عائد کیے گئے کہ پاکستان اس جنگ میںدراصل امریکہ و اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے حالانکہ پہلے دن سے عیاںہے کہ پاکستان اس جنگ سے ایران اور خطے کو محفوظ رکھنے کی غرض سے ہر ممکن کوشش کررہا ہے اور ایران کی اعلیٰ ترین سطح سے اس امر کا ببانگ دہل اعتراف بھی کیا جا رہا ہے ۔ چلو تشکر تشکر پاکستان کے نعرے تو گزشتہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران لگے تھے مگر اس بار تو ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے پاکستانی قوم سے اردو میں براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے پاکستانی قوم اور حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر نے اپنی پہلی تقریر میں اپنے شہید والدکیلئے پاکستان کے پسندیدہ ترین ملک ہونے کا ذکر کرنا ضروری سمجھا ، ایران کے اقوام متحدہ میں نمائندے نے روس چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایران پر کئے جانیوالے حملوں کی مذمت کی اور جب دوبارہ سے خلیجی ممالک پر حملوں کے حوالے سے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تو تب بھی پاکستانی نمائندے عاصم افتخار نے اپنی تقریر میں امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کو دہرایا ۔ ایران پر حملے شروع ہوئے تو لڑائی میں فریق ممالک سے ہٹ کر ایران کے وزیر خارجہ نے جس ملک سے سب سے پہلے رابطہ قائم کیا وہ پاکستان تھا ۔ ایرانی صدر نے بعد میں صدر پیوٹن اور وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر طویل گفتگو کی ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نوروز کی مبارک باد دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کی جانب سے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن کے دوران ایرانی صدر سے پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو صدر ٹرمپ سے گفتگو کی اور اب پاکستان کی کوششوں سے دوبارہ مذاکرات کی میز سجنے کو ہے۔ اس سب کے باوجود یہ الزام عائد کرتے چلے جانا کہ پاکستان ایک فریق کے طور پر ہے سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ یا تو یہ لوگ مجتبیٰ خامنہ ای، انکے والد، صدر مسعود پزشکیان ، وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی زیادہ باخبر ہیں یا صریح طور پر جھوٹ گھڑ رہے ہیں اور جھوٹ ہی گھڑ رہے ہیں ۔ ابھی چند دن قبل میری ایرانی سفارتکاروں سے ملاقات ہوئی تو سوال کیا جو لوگ اس صورتحال کو مخصوص مکتب فکر کا رنگ دے رہے ہیں انکے حوالے سے کیا خیال ہے؟ جواب ملاکہ آپ خود بتائیں کہ ایران کے مفاد میں یہ ہے کہ پاکستان کی پوری قوم اس سے ہمدردی رکھتی ہو یا صرف ایک مخصوص مکتب فکر؟ ایران کے مخالفین تو چاہتے ہی ہیں کہ یہ معاملہ مسلکی رنگ اختیار کر جائے اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ ہرگز ایران کی فکر کی نمائندگی نہیں کر رہے ۔ اگر ایران کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں تو پھر کیا یہ لوگ پاکستان میں بسنے والے کسی مکتب فکر کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ اعداد و شمار کی روشنی میں اس کا جواب بھی نفی میں آئیگا ۔ ایم ڈبلیو ایم نے 2013ءکے عام انتخابات میں حصہ لیا اور پورے ملک سے ان کو کوئی بیالیس ہزار ووٹ ہی مل سکے ۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں براہ راست نشستیں 24ہیں ۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے 2015ءکے انتخابات میں ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک پاکستان کو دو ، دو جبکہ جے یو آئی ایف کو ایک نشست ملی جبکہ 2020ءکے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں یہ تینوں جماعتيں ایک ایک نشست ہی حاصل کر سکی ۔ خیال رہے کہ 2020ءکے انتخابات کے وقت پاکستان میں عمران خان کی حکومت تھی ۔ اب ان انتخابی اعداد و شمار کو پیش نظر رکھتے ہوئے تو ان جماعتوں کو گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندہ نہیں قرار دیا جا سکتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہاں تک تو ٹھیک بات ہے کہ پاکستان کے ادارے آپس میں یکجان ہو کر ریاستی امور میں اقدامات کریں مگر سیاسی لوگوں سے تو سیاست دانوں کو ہی نبٹنے دینا چاہئے یہ ان کا ہی کام ہے سب جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں انتخابات قریب ہیں اور اس ملاقات کے امور کو اچانک جس طرح سے اچھالا گیا اس سے آئندہ انتخابات میں ایک نعرہ حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے ۔ سیاست دان پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے ہیں ابھی ایک فریق دوسرے کو برا بھلا کہہ کر فارغ ہی ہوا ہوتا ہے تو دوسرا اٹھ کر کہتا ہے کہ ہم ان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں کیوں کہ سیاسی ذہن کی ایسی ہی تربیت ہوتی ہے اسی طرح سے دوسرے اداروں میں بھی ایک مزاج تشکیل دیا جاتا ہے جو اس ادارے کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے جب اس مزاج کے ساتھ سیاسی امور میں گفتگو کی جاتی ہے تو پھر لا محالہ مسائل جنم لیتے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے امور پر بہت ہی ضرورت تھی تو بس ایک پریس نوٹ جاری کردیتی کہ اس صورتحال میں قانونی یہ پوزیشن ہے اور اس پر عمل کیا جائیگا ۔ خدا کرے کہ اس امریکہ اسرائیل ایران جنگ سے جلد از جلد نجات نصیب ہو اور پاکستان اس کیلئے اپنا بھرپور کردار بھی ادا کر رہا ہے اور بس یہ کردار ان کو ہی نظر نہیں آ رہا ہے جن کی آنکھوں پر سیاسی مخالفت کی پٹی بندھی ہے ۔
