آج کم و بیش 55سال بعد پاکستان پر وہی موقع آیا ہے کہ اس کی تقدیر بدل سکتی ہے، جی ہاں! یہ 70کی دہائی کی بات ہے کہ پاکستان نے ایک ایسے وقت میں تاریخ کا اہم باب لکھا جب ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سرد جنگ کی شدت عروج پر تھی۔ اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل یحییٰ خان نے امریکہ اور چین کے درمیان ایک خفیہ سفارتی راستے کا کام کیا، جو تاریخ میں ’’پاکستان چینل‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور اسی بابت 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا ایک خفیہ لیکن تاریخ ساز دورہ کیا تھا۔ خیر اگر ہم تفصیل میں جائیں تو اُس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن پہلے رہنما تھے جو چین امریکا تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے تھے،،، اور اس خواہش کا اظہار وہ اپنی الیکشن مہم میں بھی کئی بار کر چکے تھے،،، اس لیے صدر منتخب ہونے کے بعد 1969 میں انھوں نے پاکستان کے اس وقت کے صدر یحییٰ خان سے چین سے خفیہ رابطہ کاری کے لیے مدد مانگی تھی۔اور انہی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر اُس وقت امریکہ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہنری کسنجر پاکستان کی وساطت سے نو جولائی کو بیجنگ خفیہ مشن پر گئے اور 11 جولائی کو واپس آئے۔کسنجر کے اسی خفیہ دورے کے اگلے برس فروری میں صدر رچرڈ نکسن نے چین کا دورہ کیا، اور اس طرح عالمی بساط پر امریکہ نے دو کمیونسٹ طاقتوں کے درمیان اختلافات کو اپنے لیے استعمال کرنے کے پروگرام کا آغاز کیا۔اس ’’پراسس‘‘ کے دوران ہر بات انتہائی صیغہِ راز میں رکھی جا رہی تھی۔اس حوالے سے اُس وقت کے پاکستانی سفیر آغا ہلالی کے صاحبزادے، ظفر ہلالی جو خود بھی سفارت کار رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ جب کسنجر چین کے دورے پر روانہ ہو رہے تھے تو اسی وقت پہاڑی مقام (مری) کی جانب ایک نقلی کسنجر کو روانہ کیا گیا تھا تاکہ یہ تاثر یقینی بنے کہ وہ مری آرام کے لیے جا رہے ہیں، نہ کہ کسی خفیہ مشن پر۔اس کے علاوہ ایک بوئنگ میں سفری سہولتوں اور حفاظتی انتظامات کا ذکر کیا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ جب 11 جولائی کو طیارہ چکلالہ ایئر پورٹ پر اترے گا تو اس پارٹی کو گھوم گھما کر گیسٹ ہاؤس لے جایا جائے گا تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ یہ پہاڑی مقام سے آئے ہیں۔ بہرحال اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بحال ہوئے اور ایک دوسرے کے صدور و وزرائے خارجہ نے دورے کیے ،،، یہ یقینا پاکستان کی مدد سے ہی ممکن ہوا تھا جس نے چینی رہنماؤں کو اپنے اثر و نفوذ کے ذریعے بات چیت کے لیے قائل کیا، اگرچہ ان حالات میں چینی بھی امریکیوں سے تعلقات کے خواہاں تھے۔امریکہ اور چین کے تعلقات میں پاکستان کے اس کردار، خفیہ سفارت کاری اور اعتماد سازی کو بہت زیادہ سراہا جاتا ہے۔ اس دورے کے بعد کمیونسٹ بلاک کی ابھرتی ہوئی طاقت تقسیم ہوئی اور کمیونسٹ بلاک آہستہ آہستہ کمزور ہونا شروع ہو گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان جس نے اس خفیہ مشن کے انتظامات میں کلیدی کردار ادا کیا اُسے اِس خدمت کے عوض کیا ملا؟ حالانکہ اُس وقت پاکستان نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیاتھا جس سے امریکا اور چین دونوں کو بے پناہ فائدہ ہوا،،،کہا جاتا ہے کہ کسنجر کو خدشہ تھا کہ پاکستان اس اہم خدمت کے بدلے میں بڑے مطالبات کرے گا، مگر پاکستان نے کچھ نہیں مانگا۔ وہ اس کا ذکراپنی کتاب ’’On China‘‘ میں بھی کرچکے ہیں،، حالانکہ اُس وقت پاکستان کے اندرونی حالات بھی خراب تھے،،، مشرقی پاکستان میں حالات بگڑ رہے تھے،،، بھارت کی تنظیم مکتی باہنی پوری طرح مشرقی پاکستان میں داخل ہو چکی تھی،،، پاکستان چاہتا تو اُس وقت امریکا سے کہہ کر بھارت کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے روک سکتا تھا،،، بلکہ میرے خیال میں پاکستان کشمیر کا مسئلہ حل کروا سکتا تھا،،، یا معاشی طور پر مستحکم ہو سکتا تھا،،، یا کوئی بڑا معاشی معاہدہ کر سکتا تھا۔ مگر یہاں کے حکمرانوں نے محض ذاتی فوائد لیے اور ’’پاکستان‘‘ منہ تکتا رہ گیا! آج 2026 میں، جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہو چکا ہے اور اسلام آباد میںمذاکرات کے پہلے دور کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے لیے امریکی نائب صدر و دیگر عہدیداران اور دوسری جانب سے ایرانی وفد بھی پہنچ چکا ہے اور ساتھ ہی بین الاقوامی میڈیا بھی خاصی تعداد میں پاکستان آرہا ہے تو ایسے میں یہ کہنے یا دہرانے کی بات نہیں کہ پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے،،، اور اگر پاکستان فریقین کو کسی حتمی معاہدے کی طرف لے جاتا ہے تو یہ واقعی ایک تاریخی کامیابی ہوگی،،، اور اس حوالے سے پاکستانی قیادت بھی مبارکباد کی مستحق ہوگی۔ یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان کا یہ ثالثی کردار ایک حساس جغرافیائی سیاسی توازن کا مظہر ہے۔ ایک طرف پاکستان کا ایران سے 900 کلومیٹر طویل سرحدی اشتراک ہے اور یہاں دوسری بڑی شیعہ آبادی موجود ہے، تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بھی تاریخی نوعیت کے ہیں۔ تاہم اس بار صورت حال 1970 سے مختلف ہے۔ خدانخواستہ اگر مذاکرات کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے تو پاکستان کی معیشت براہ راست خطرے میں ہوگی، کیونکہ پہلے ہی آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی نے پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا کر دی ہے۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اگر فریقین کو کسی معاہدے پر راضی کر لیتا ہے(جس کے 80فیصد چانس ہیں، کیوں کہ امریکا بھی اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے اور ایران بھی مزید جنگ نہیں چاہتا، کیوں کہ اُسے علم ہے کہ مزید جنگ مزید تباہی کے سوا کچھ نہیں لائے گی) تو پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہوگا،،، لہٰذابدلے میں پاکستان اپنے قرضے اُتارنے کے لیے امریکا سے بات چیت کر سکتا ہے،،، امریکا و دیگر ممالک کے ساتھ معاشی معاہدے کر سکتا ہے، ملک کی برآمدات کو بڑھا سکتا ہے،،، ایسا کرنے سے ڈالر واپس آسکتا ہے، روپیہ مستحکم ہوسکتا ہے، ،، اس لیے ملک کے بارے میں سوچیں گے تو تاریخ میں امر ہو جائیں گے۔ لہٰذااگر حکمران واقعی عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ، ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ،،، بلکہ اگر وہ عمران خان سے واقعی ’’نجات‘‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کے لیے سنہری موقع ہے،اور پھر ہو سکتا ہے کہ آپ عوام میں زیادہ مقبول ہوجائیں۔ کیوں کہ جب تک آپ عوام کو ریلیف نہیں دیں گے آپ چاہے جتنے مرضی پراجیکٹ شروع کر کے دیکھ لیں،،، آپ کبھی لوگوں کے دلوں کو نہیں جیت سکیں گے،،، لیکن جیسے ہی آپ عوام کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں گے، اور حقیقی معنوں میں ملک کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں گے،،، لوگ آپ کی طرف خود لوٹ آئیں گے! بہرکیف پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی اپنے تاریخی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے خطے میں استحکام کے لیے کوشاں ہے۔اس لیے پوری قوم دعا گو ہے کہ ایران جنگ کا مکمل خاتمہ ہو، تاکہ ہر کوئی نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئے،،، باقی آگے اللہ مالک!
56