امریکا و اسرائیل نے ایران کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ تو لی ہے مگر اب اُسے سمجھ نہیں آرہا ہے ، کہ یہاں سے ’’فیس سیونگ‘‘ کیسے ممکن ہو ؟جبکہ اُدھر ایران نے بھی ماہرین کے نزدیک بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اُن کے پکے اتحادیوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے،،، بظاہر یہ میزائلوں، ڈرونز اور فضائی حملوں کی جنگ ہے، مگر درحقیقت یہ طاقت، نظریے، معیشت اور عالمی سیاست کی ہمہ جہت کشمکش بن چکی ہے۔اس کے اثرات صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکی داخلی سیاست، عالمی سفارت کاری، اسلحہ کی منڈی، تیل کی عالمی قیمتوں اور اسلامی دنیا کے باہمی تعلقات تک پھیل چکے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہر نئی جنگ عالمی اسلحہ ساز صنعت کیلئے منافع کا سبب بنی۔ 1980کی ایران۔عراق جنگ اس کی واضح مثال ہے، جب آٹھ سالہ طویل جنگ نے خطے کو تباہ کیا مگر ہتھیار بنانے والی کمپنیاں غیر معمولی منافع کما گئیں۔ موجودہ کشیدگی بھی اسی رجحان کو تقویت دے رہی ہے، جسکے نتیجے میں خلیجی اور دیگر اسلامی ممالک دفاعی بجٹ میں اضافہ کریں گے۔ فضائی دفاعی نظام، میزائل شکن ٹیکنالوجی، ڈرون بیڑے اور سائبر سکیورٹی سسٹمز کی مانگ بڑھے گی، اس کا سب سے بڑا فائدہ امریکی اور یورپی دفاعی صنعت کو پہنچے گا۔ لیکن اس جنگ کا سب سے نازک پہلو یہ ہے کہ اس نے دنیا کے سب سے زیادہ محفوظ سمجھے جانے والے ملک متحدہ عرب امارات اور خاص طور پر دبئی کو سخت نقصان پہنچایا ہے، جو طویل عرصے سے امن، تجارت اور خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں دنیا بھر کے سرمایہ کار، سیاح اور محنت کش روزگار اور بہتر مستقبل کی امید لے کر آتے ہیں۔ لیکن مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے دبئی جیسے پرامن اور کاروباری شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اگرچہ دبئی براہِ راست جنگ کا میدان نہیں بنا، لیکن اس جنگ کے اثرات اس کی معیشت، سیاحت، فضائی سفر اور عوامی اعتماد پر واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔دبئی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ رہا ہے کہ اس نے خود کو ایک محفوظ اور غیر جانبدار تجارتی مرکز کے طور پر پیش کیا۔ یہاں مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا ایک مضبوط پل قائم ہے۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں اپنے علاقائی دفاتر یہاں قائم کرتی ہیں، جبکہ لاکھوں غیر ملکی شہری یہاں ملازمت اور کاروبار کے لیے رہائش اختیار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دبئی کی آبادی کا بڑا حصہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔ ایران کی جانب سے بعض مواقع پر خلیجی خطے کو تنبیہات اور حملوں کے خدشات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دبئی اور متحدہ عرب امارات چونکہ امریکہ اور مغربی ممالک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، اس لیے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کی حکمتِ عملی میں یہ ممالک بھی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہی خوف عام لوگوں اور غیر ملکی رہائشیوں میں بھی سرایت کر گیا ہے۔اسی خوف کے باعث دبئی سے لوگوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ خاص طور پر وہ غیر ملکی کارکن اور خاندان جو یہاں عارضی ملازمتوں یا کاروبار کے لیے مقیم ہیں، وہ اپنے ممالک واپس جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کمپنیوں نے بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر بعض ملازمین کو عارضی طور پر دوسرے ممالک منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے دبئی کی معیشت کے کئی اہم شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ سیاحت دبئی کی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے۔ ہر سال کروڑوں سیاح یہاں آتے ہیں اور ہوٹلوں، شاپنگ مالز اور تفریحی مراکز میں اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ لیکن جنگی کشیدگی کے باعث سیاحتی سرگرمیوں میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کئی سیاحوں نے اپنے سفر منسوخ کر دیے ہیں جبکہ بعض ایئرلائنز نے بھی حفاظتی خدشات کے باعث اپنی پروازیں محدود کر دی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دبئی کے ہوٹل، ٹریول ایجنسیاں اور سیاحتی کاروبار دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔فضائی سفر بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوا ہے۔ دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن جب خطے میں جنگی خطرات بڑھتے ہیں تو فضائی حدود اور پروازوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ بعض دنوں میں پروازیں منسوخ ہوئیں یا ان کے راستے تبدیل کیے گئے۔ اس سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات پیش آئیں بلکہ ایئرلائنز کو بھی مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ دوسری جانب دبئی چھوڑ کر جانے والے افراد کی تعداد بڑھنے سے فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بعض روٹس پر ٹکٹیں کئی گنا مہنگی ہو گئیں۔ لوگ جلد از جلد دبئی سے نکلنے کی کوشش میں مہنگی سے مہنگی ٹکٹ خریدنے پر مجبور ہو گئے۔ بعض امیر افراد نے تو پرائیویٹ جیٹ کے ذریعے دبئی چھوڑنے کا راستہ اختیار کیا، جس پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ کے خدشات کس طرح ایک پرامن شہر کو بھی خوف اور بے یقینی میں مبتلا کر سکتے ہیں۔معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو دبئی کی معیشت بنیادی طور پر تجارت، سیاحت، ہوابازی اور رئیل اسٹیٹ پر منحصر ہے۔ جنگی کشیدگی ان تمام شعبوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر سرمایہ کاروں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ خطہ غیر محفوظ ہو رہا ہے تو وہ اپنی سرمایہ کاری دوسرے ممالک منتقل کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ بہرحال پہلی بات یہ ہے کہ یو اے ای نے دوسرے ممالک سے ہٹ کر اسرائیل کو تسلیم کیا، دبئی نے کہیں نہ کہیں تو غلطی کی ہے ۔ آپ تاریخ کو پڑھ لیں،،، جب آپ Strugglingفیز میں تھے، محنت کرتے تھے، پھر پاکستان کے مزدوروں اور ہنرمندوں نے دبئی میں بلند و بالا عمارات بنانے میں مدد کی۔ پھر ہماری پی آئی اے نے امارات جیسی ائیرلائن کو دنیا کے اُس مقام پر پہنچایا کہ جہاں پہنچنا محض ایک خواب لگتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کو پیچھے کر کے آپ نے مغربی ممالک کے ساتھ کھربوں ڈالر کے معاہدے کر لیے۔ جب انسان اپنے بھائیوں کو چھوڑتا ہے تو پھر مخالف تو ویسے ہی چڑھ دوڑتے ہیں۔ یعنی اس وقت دبئی کا امیج اس قدر متاثر ہوا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے تھے،،، کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے محفوظ ترین شہر تھا،،، اب حالات یہ ہیں کہ دبئی میں بندہ کوئی نظر نہیں آرہا ،،، پرائیویٹ جیٹ دبئی سے نکلنے کے لاکھوں ڈالر وصول کر رہے ہیں،،، یہی نہیں بلکہ دبئی سے عمان جانے کا ٹیکسی کا کرایہ 800سے ہزار ڈالر تک لیا جا رہا ہے،،، مطلب! لوگ بھاگ رہے ہیں۔ بہرکیف اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ مزید بھڑکی تو اس کے اثرات نہ صرف دبئی بلکہ پوری عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو چاہیے کہ وہ جنگ کی بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ کیونکہ جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے جبکہ امن ہی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہوتا ہے۔
95