امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد جہاں اس وقت دنیابھر کی سیاست میں بھونچال آیا ہوا ہے،،، وہیں پاکستان میں بھی سیاسی اْفق پر چھائے بادل سب اچھا ہے کی خبریں نہیں دے رہے،،، ویسے تو اس وقت پاکستان میں کسی قسم کی کوئی ’’اپوزیشن‘‘ نہیں ہے،،، ایسے میں کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پی ٹی آئی کی ’’سٹریٹ موومنٹ‘‘ کو آگے لے کر چل رہے ہیں،،، اس کے لیے وہ پہلے تو پنجاب آئے،،، جہاں اْن کے ساتھ پنجاب کی روایتی مہمان نوازی کے برعکس براسلوک کیا گیا ۔اس کی نسبت سندھ حکومت نے وزیر اعلیٰ کے پی کے کا استقبال کرکے ایک عرصے بعد ملک میں سیاسی سرگرمیوں کو نہ صرف بحال کیا بلکہ وہ اس سے کئی ایک مقاصد بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ پیپلزپارٹی کا یہ اقدام دراصل ایک گہری، خاموش اور دور رس سیاسی حکمتِ عملی تھی، جسے بہت سے لوگ فوری طور پر سمجھ نہ سکے۔یعنی ملک کے دیگر صوبوں میں جب سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں لگائی جا رہی تھیں، پیپلزپارٹی نے سندھ کو ایک مختلف راستہ دکھایا۔ اس نے پی ٹی آئی کو جلسوں کی اجازت دے کر یہ تاثر دیا کہ سندھ میں اختلافِ رائے پر پابندی نہیں، بلکہ یہاں سیاست کھلے میدان میں ہوتی ہے۔ یہ پیغام صرف عوام کے لیے نہیں تھا بلکہ اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور عالمی مبصرین کے لیے بھی تھا کہ پیپلزپارٹی خود کو ایک بالغ، جمہوری اور سسٹم کے اندر رہ کر سیاست کرنے والی جماعت کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ خیر اگر سب سے پہلے بات کی جائے کہ کیسے پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کو کراچی میں جلسے جلوسوں کی اجازت دے کراور وزیر اعلیٰ کے پی کے کو کراچی میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے کر بڑی ذہانت کے ساتھ میچ کھیلا؟ ،،، پیپلزپارٹی کا پہلا ’’شاٹ‘‘ وزیر اعلیٰ کے پی کا استقبال کرنا تھا،،، جمعہ کے روز سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کراچی ایئر پورٹ پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا استقبال کیا تھا۔ اس اقدام کو مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ۔اس حوالے سے سب سے پہلے پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کو فارغ کیا اور بتایا کہ اب آپ کا کراچی میں وجود کوئی نہیں ہے بلکہ وہاں یا تو پیپلزپارٹی ہے، یا پی ٹی آئی ہے۔ اس لیے ایم کیو ایم کو یہ پیغام بھی بھیجا کہ ہمارے ساتھ سینگ نہ پھنسائیں،یہی آپ کے لیے بہتر ہوگا! پھر دوسرا انہوں نے بتا دیا کہ اگر ہم نے اپنی پالیسی تبدیل کی تو کتنے مسائل پیدا ہوں گے،،،یعنی فیصلہ کرنے والوں کے ساتھ اس وقت بلوچستان کی بھی بگڑی ہوئی ہے، کے پی کے ساتھ بھی مثالی تعلقات نہیں ہیںاور اب اگر پیپلزپارٹی کو تنگ کریں گے تو پھر سندھ کے ساتھ بھی اْن کے تعلقات اچھے نہیں رہیں گے۔ پھر تیسرا انہوں نے ن لیگ کو بھی یہاں کمزور کیا اور عوام کو بتایا کہ یہ غلط تاثر ہے کہ ملک بھر میں جلسے جلوس کرنے سے طاقتور حلقے روک رہے ہیںکیونکہ اگر وہ روک رہے ہوتے تو سب سے پہلے پیپلزپارٹی کو روکتے۔ اس لیے پیپلزپارٹی نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سیاسی سرگرمیوں کے آڑے کوئی اور نہیں بلکہ ن لیگ آرہی ہے۔ پھر چوتھا یہ کہ پیپلزپارٹی نے یہاں ایک اور بھی گیم کھیلی ہے کہ تحریک انصاف کو اندرون سندھ نہیں جانے دیا بلکہ حیدرآباد اور کراچی تک محدود رکھا۔ یہ دونوں شہر تو پہلے بھی پیپلزپارٹی کے نہیں ہوتے۔ یعنی پیپلزپارٹی کی اس ساری گیم میں سب سے زیادہ اگر کسی کو نقصان ہوا ، تو وہ ن لیگ ہے۔ پیپلزپارٹی نے ایک تو یہ سمجھا ہے کہ سیاستدان سیاستدان ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے آنکھیں بند کر کے فیصلہ کرنے والوں کی نہیں مانی بلکہ اْس نے جلسے کے شرکاء کو اگر روکا بھی ہے تو بس ہلکا پھلکا، بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ پنجاب پولیس کی طرح پاگل نہیں ہوگئے۔ اتوار کو مزارِ قائد پر جلسے کو روکنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی جارج کیا گیا، وہ بھی اس بات کو بنیاد بنا کر کہ پی ٹی آئی کارکنان نے ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی۔ قصہ مختصر کہ محض یہ دکھانے کے لیے کہ ہم ’’اْن ‘‘ کے ساتھ بھی ہیں۔ اور ساتھ ہی پی پی پی یہ بھی دیکھتی رہی کہ کتنے شرکاء ان جلسے جلوسوں میں شریک ہوں گے۔ اگر تعداد زیادہ ہوئی بھی تو پی پی پی نے رکاوٹیں بڑھا دیں تاکہ عوام کا زیادہ رش دکھائی نہ دے کیوں کہ پی پی پی یہ بھی ثابت کرنا چاہ رہی تھی کہ پی ٹی آئی سندھ میں جذباتی نعرے تو لگا سکتی ہے، مگر زمینی طاقت نہیں رکھتی۔ جب جلسے ہوئے اور توقع کے مطابق بڑے ہجوم سامنے نہ آئے تو پی ٹی آئی کا ’’ہم مقبول ہیں‘‘ کا بیانیہ خود بخود کمزور ہو گیا۔ یوں پیپلزپارٹی نے بغیر کسی گرفتاری یا لاٹھی چارج کے، اپنے بڑے سیاسی مخالف کو ایک آئینہ دکھا دیا۔یہ فیصلہ ایک اور لحاظ سے بھی ہوشیار تھا۔ جب پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کو دیوار سے لگایا جا رہا تھا، سندھ میں اسے بولنے دیا گیا۔ اس فرق نے پیپلزپارٹی کو اخلاقی برتری دی۔ اب وہ یہ کہہ سکتی تھی کہ ہم مخالفین کو دبانے کے بجائے عوام کے سامنے مقابلہ کرتے ہیں۔ یہی وہ تصویر ہے جو ایک سنجیدہ سیاسی جماعت دنیا کو دکھانا چاہتی ہے۔اس اقدام سے پیپلزپارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایک پیغام دیا: ہم تصادم کے نہیں، توازن کے قائل ہیں۔ ہم نظام کو چلانا جانتے ہیں، بگاڑنا نہیں۔ ایسے وقت میں جب ملک سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے، یہ پیغام کسی کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔یوں پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کو جلسوں کی اجازت دے کر کوئی رعایت نہیں دی، بلکہ ایک نفسیاتی اور سیاسی برتری حاصل کی۔ اس نے ثابت کیا کہ طاقت کا اصل مظاہرہ پابندیوں سے نہیں، بلکہ اعتماد سے ہوتا ہے اور شاید یہی وہ سیاست ہے جو طویل مدت میں کامیاب ہوا کرتی ہے۔ ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کی حکمران ہے مگر پنجاب میں جگہ چاہتی ہے۔ تحریکِ انصاف پنجاب کی سیاست میں زندہ رہنا چاہتی ہے مگر سندھ میں سانس لینے کے لیے اسپیس درکار ہے۔ ایسے میں ایک خاموش سیاسی سمجھوتہ، جس میں دونوں ایک دوسرے کو اپنے اپنے میدان میں مکمل دیوار نہ بنائیں، ممکن نظر آتا ہے۔البتہ یہ اتحاد یا ہم آہنگی کبھی پائیدار نہیں ہوگی۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کا مزاج سمجھوتوں کا ہے اور پی ٹی آئی کا مزاج تصادم کا۔ ایک استحکام چاہتی ہے، دوسری مزاحمت۔ اس فرق کی وجہ سے اگر یہ دونوں قریب بھی آئے تو وہ قربت وقتی اور مفاد پرستی کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ کسی مشترکہ وژن پر۔ بہرکیف اس وقت حالات تو پیپلزپارٹی کے حق میں ہی دکھائی دے رہے ہیں اور یہ پی پی پی کی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے میری ن لیگ والوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ جہاں آپ نے ایک دوسرے سے کرپشن کرپشن کھیلنا سیکھا ہے تو پی پی پی سے سیاست کرنا بھی سیکھ لیں۔اس سے یقینااْنہیں افاقہ ہوگا ورنہ لگ یہی رہا ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں وہ سیاست میں اکیلے رہ جائیں گے!
228