بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فتحی برول نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت توانائی کے سب سے سنگین تاریخی بحران سے گذر رہی ہے۔آبنائے ہرمز بند ہونے سے دنیا کو تیرہ ملین بیرل روزانہ کا خسارہ درپیش ہے اور اس ہر شعبہ ہائے زندگی پر سنگین اثر پڑتا جائے گا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی انیس سو تہتر کے تیل کے بحران جیسے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے قائم ہوئی تھی۔ رکن ممالک کے تعاون سے ایجنسی کے پاس ایک سو چار بلین بیرل اور نجی سیکٹر کے پاس چھ سو ملین بیرل تیل کا ایمرجنسی زخیرہ موجود ہے۔گذشتہ ماہ ایجنسی نے تیل کی قیمتیں اعتدال میں رکھنے کیلئے اپنے زخیرے میں سے چار سو ملین بیرل تیل عالمی منڈی میں ریلیز کیا۔تاکہ کم ازکم دو ہفتے تک قیمتیں قابو میں رہیں۔
سب جانتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے راستے عالمی ضروریات کا بیس تا پچیس فیصد تیل اور کم و بیش اتنی ہی مائع گیس گذرتی ہے۔اگر آج ہرمز بحال بھی ہو جائے تب بھی امریکی محکمہ دفاع کے مطابق راستے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے میں چھ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔یعنی مستقبلِ قریب میں تیل ، گیس اور کھاد کی قیمتیں معمول پر آنے کا امکان کم ہے۔یوریا کے سب سے بڑے عالمی امپورٹر بھارت نے گذشتہ روز ہی پچیس لاکھ ٹن کھاد دوگنی قیمت پر امپورٹ کرنے کا ٹینڈر دیا ہے۔بھارت سالانہ ایک کروڑ ٹن یوریا خریدتا ہے۔
اس میں سے پچاس فیصد خلیج سے آتی ہے۔جبکہ پاکستان مصنوعی کھاد کے معاملے میں لگ بھگ خودکفیل ہے۔پاکستان میں اگر زرعی اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا سبب ڈیزل کی مہنگائی یا قلت ہو سکتی ہے۔جبکہ بنگلہ دیش کو ایل این جی کی قلت کے سبب پانچ میں سے چار فریٹلائزز پلانٹ بند کرنے پڑ گئے ہیں تاکہ گھروں کا چولہا فی الحال ٹھنڈا نہ ہو۔عام صارفین کے لئے بنگلہ دیش میں پٹرول کی راشن بندی کر دی گئی ہے۔سری لنکا میں راشن بندی کے سبب ممکنہ ہنگاموں کے تدارک کے لئے پٹرول پمپوں کی حفاظت فوج کر رہی ہے۔فلپینز میں یہی کام اٹھانوے ہزار پولیس والے کر رہے ہیں۔تھائی لینڈ میں پٹرول اسمگلرز اور بلیک مارکیٹیرز کے وارے نیارے ہو گئے ہیں۔یورپ میں جیٹ فیول کی قلت کے سبب ہزاروں فلائٹس منسوخ ہو رہی ہیں۔
خود تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک کا حال بھی بتدریج پتلا ہو رہا ہے۔قطر میں بینکوں سے تیزی سے پیسہ نکلنے کے خدشے کے سبب حکومت کو بینکوں کی ساکھ برقرار رکھنے کے لئے تین ارب ڈالر کے ایمرجنسی بانڈز جاری کرنے پڑ گئے ہیں۔متحدہ عرب امارات نے امریکہ سے درہم کے بدلے اضافی ڈالرز طلب کر لئے ہیں۔دوبئی کی سیاحتی صنعت ان دنوں ٹھنڈی ہے۔خلیجی فضائی کمپنیاں مسافروں کی کمی کے سبب اپنے روٹس اور شیڈول پر بار بار نظرِ ثانی کر رہی ہیں۔ان کمپنیوں کو بھی جیٹ فیول پھونک پھونک کے استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔
اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو ابھی تو آبنائے ہرمز سے ذرا باہر خلیجِ اومان پر قائم اماراتی آئل ٹرمنل الفجیرہ اور سعودی عرب کے مغربی ساحل ( بحیرہ قلزم ) پر یانبو آئل ٹرمینل سے ترجیحی بنیاد پر تیل کراچی پہنچ رہا ہے۔مگر قطر سے ایل این جی کی رسد رکی ہوئی ہے۔قطر نے کئی ہفتے قبل ہی فورس میجور قوانین کے تحت اپنی تجارتی کنٹریکٹ ذمہ داریاں عارضی طور پر معطل کر رکھی ہیں۔ کویت نے بھی فورس میجور قوانین کا سہارا لے لیا ہے۔ وزیرِ توانائی اویس لغاری نے بھی صاف صاف کہا ہے کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ قطر سے مائع گیس کی سپلائی کب تک معمول پر آ سکتی ہے۔
قطر سے پاکستان کی ضروریات کی پچیس فیصد گیس امپورٹ ہوتی ہے۔جبکہ اسی فیصد تیل اور تیل کی ذیلی مصنوعات بھی بیرون سے آتی ہیں۔جن ممالک کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش معقول حد تک ہے وہ تو ڈیڑھ سے نو ماہ تک کا جھٹکا برداشت کر سکتے ہیں۔
مثلاً جاپان کے پاس دو سو چون دن کے تیل کا ذخیرہ ہے۔جنوبی کوریا کے پاس دو سو آٹھ دن ، چین کے پاس ایک سو تیس دن ، امریکہ کے پاس ایک سو پچیس دن اور بھارت کے پاس ہنگامی استعمال کے لئے پینتالیس دن کا تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ پاکستانی حکومت کہتی ہے کہ وہ اٹھائیس دن کا تیل ذخیرہ کر سکتی ہے۔بہرحال جیسے حالات ہیں ان میں اٹھائیس دن کی گنجائش بہت کم ہے۔ ایندھن کی رسد میں مسلسل خلل کا دباؤ بجلی کی پیداوار ، صنعت ، ٹرانسپورٹ اور گھریلو استعمال پر لامحالہ سب سے زیادہ اثرانداز ہو گا۔ حکومت نے بحران کی شدت کم کرنے کے لئے کچھ انتظامی اقدامات کئے ہیں مگر وہ کتنے تسلی بخش ہے۔ان کی آزمائش اگلے چند دنوں میں شروع ہو جائے گی۔
اقتصادی امور پر نظر رکھنے والے سرکردہ پاکستانی تحقیقی ادارے پائیڈ کا اندازہ ہے کہ تیل کے ہر بیرل پر دس ڈالراضافے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان پر دو ارب ڈالر تک کا اضافی بوجھ پڑے گا۔اگر تیل کی قیمت ڈیڑھ سو ڈالر فی بیرل تک پہنچتی ہے تو پاکستان کو اپنی توانائی ضروریات پورا کرنے کے لئے ہر ماہ اضافی ساڑھے تین سے ساڑھے چار ارب ڈالر کا انتظام کرنا پڑے گا۔اس کا مطلب ہے افراطِ زر میں سات فیصد کا اضافہ پھلانگ کے سترہ فیصد تک بھی جا سکتا ہے۔یعنی پاکستان نے بہت محنت سے گذشتہ ایک برس میں کرنٹ اکاؤنٹ کے جس خسارے کو تھوڑے بہت منافع میں بدلا ہے وہ ضائع ہو سکتا ہے۔
خلیج میں پچاس لاکھ پاکستانی کارکن بھی کام کرتے ہیں۔ملک کا آدھا زرِ مبادلہ انہی بیرونِ ملک پاکستانیوں کا مرہونِ منت ہے۔خلیج کا بحران طول پکڑتا ہے تو لامحالہ زرِ مبادلہ کی ترسیل بھی متاثر ہو گی۔اگرچہ بحران ٹلنے کے بعد پاکستان صرف خلیجی ریاستوں کے توانائی وسائل پر تکیہ کرنے کے بجائے متبادلات کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچ سکتا ہے۔وہ تیل کے سٹرٹیجک ذخیرے کی گنجائش بڑھا سکتا ہے۔وسطی ایشیا اور ایران کی گیس کی جانب دیکھ سکتا ہے۔سی پیک کے تحت گرین انرجی میں خودکفالت کا ہدف مقرر کر سکتا ہے۔
مگر یہ سب اگلے چھ ماہ میں ممکن نہیں۔فی الحال تو پاکستان باقی دنیا کی طرح پل صراط سے گذر رہا ہے۔جو سب کے ساتھ ہو گا وہ ہمارے ساتھ بھی ہوگا۔جب سب ٹینشن میں ہوں تو پھر اکیلے اکیلے ٹینشن کاہے کو لینا ؟
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلئے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجئے)
