5

امریکا پر انحصار کا نتیجہ

امریکی اخبار کے مطابق متحدہ عرب امارات نے دھمکی دی ہے کہ وہ ڈالر کی جگہ چینی کرنسی اپنا سکتا ہے۔ یو اے ای نے امریکا سے درخواست کی ہے ایران سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں بحران شدت اختیار کر سکتا ہے تو اسے اپنے مالیاتی تحفظ کے لیے ایک حفاظتی نظام کی ضرورت آ پڑے گی جو امریکا نے فراہم نہ کیا تو یو اے ای میں ڈالروں کی قلت کی وجہ سے آئل کی فروخت و دیگر مالی لین دین کے لیے وہ چینی یوآن و دیگر کرنسیوں کے استعمال پر مجبور ہو سکتا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے پاس برطانیہ، کینیڈا، جاپان، سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین کے مرکزی بینکوں کے ساتھ مستقل کرنسی سوئپ معاہدے موجود ہیں۔ یو اے ای کے امریکا کے ساتھ مالیاتی روابط دیگر شراکت داروں کے مقابلے میں نسبتاً کمزور سمجھے جاتے ہیں۔

 

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اپنے ملک میں ڈالروں کی قلت کا شکار ہے اور وہ امریکا سے ڈالروں کی فراہمی کی درخواست کر چکا ہے اور یو اے ای کے مرکزی بینک کے سربراہ واشنگٹن کے دورے میں اپنی مختلف ملاقاتوں میں کرنسی سوئپ لائن کا تصور پیش کر چکے ہیں اور انھیں بتا چکے ہیں کہ ایران کی جنگ یو اے ای کی معیشت اور عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

 

ایران کے ساتھ امریکی و اسرائیلی جنگ میں دبئی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ یو اے ای میں شامل دبئی اور امارات کے دارالحکومت ابوظہبی ہی دو بڑے شہر ہیں جن کے مقابلے میں شارجہ، العین، راسخ الخیمہ وغیرہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اور دنیا میں یو اے ای کو دبئی اور ابوظہبی کی وجہ سے ہی پہچانا جاتا ہے اور دنیا بھر سے سب سے زیادہ سیاح دبئی آتے رہے ہیں کہ جہاں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے لاکھوں افراد کاروبار کرتے ہیں جبکہ امریکا، بھارت، پاکستان و دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں نے دبئی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ دنیا بھر کے بڑے مالیاتی اداروں، بینکوں اور عالمی اداروں کے زیادہ دفاتر بھی دبئی میں ہیں اور دبئی کی وجہ سے یو اے ای کی دیگر چھوٹی ریاستوں کا بھی کاروبار چلتا ہے جو دبئی کے قریب ہیں جبکہ ان کی نسبت ابوظہبی دبئی سے کافی فاصلے پر واقع ہے اور دبئی کی طرح بہت زیادہ روشن خیال بھی نہیں ہے۔

 

دبئی ایک نہایت ماڈرن و جدید شہر ہے جہاں دنیا بھر کے لوگ تفریح اور کاروبار کے لیے زیادہ آتے جاتے ہیں جہاں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے مرکز ہیں اور وہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی بھی حاصل ہے اور کسی کو کسی کے معاملے میں مداخلت کا حق حاصل نہیں اور ہر شخص مذہب و ملک سے بالاتر ہو کر دبئی آتا جاتا ہے جن سے یو اے ای کو اپنی کرنسی درہم میں خرید و فروخت تو ہوتی ہے مگر یو اے ای میں عالمی تجارت امریکا کے ڈالروں کے ذریعے ہوتی ہے اور باہر سے سیاح ڈالر لے کر آتے اور خریداری کرتے ہیں۔

 

 یو اے ای پٹرولیم مصنوعات کا حامل ملک ہے جو دنیا کو آئل فروخت کرتا ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور دبئی میں غیر ملکی سیاحوں کی تفریح کے مقامات بنائے گئے ہیں جن میں دبئی سے باہر ڈیزرٹ سفاری بھی ہے جہاں خطرناک ریتیلے راستوں پر گاڑیاں چلانے ضرور آتے ہیں جن کے لیے مقررہ فیس میں من پسند ڈنر اور تفریح کا اہتمام ہوتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی و اونچی عمارت برج الخلیفہ دبئی میں اور یو اے ای کی سب سے بڑی مسجد ابوظہبی کے قریب ہے جہاں صرف عیدین پر ہی بڑی تعداد میں آ کر نماز ادا کرتے ہیں اور روزانہ کی نماز کسی چھوٹی جگہ مسجد میں مخصوص ہے جہاں نمازیوں کی تعداد برائے نام ہی ہوتی ہے اور زیادہ تر غیر ملکی مسلمان ہی مسجد دیکھنے آتے ہیں اور سال بھر مسجد ویران ہی ہوتی ہے جس کا انتظام ابوظہبی کی انتظامیہ کے پاس ہے مگر ابوظہبی میں دبئی جیسی سہولیات نہیں ہیں۔

 

 یو اے ای کی طرح خلیجی ممالک قطر، کویت، بحرین، عمان و دیگر چھوٹی ریاستیں بھی گیس، آئل و قدرتی وسائل سے مالا مال اور دولت مند ہیں اور سب کا مکمل انحصار امریکا پر ہے اور ہر جگہ امریکی اڈے قائم ہیں جہاں ہزاروں امریکی اور فوج موجود ہے اور حالیہ جنگ میں ایران نے ان ہی امریکا کی تنصیبات اور امریکی اڈوں پر بمباری کرکے امریکا کو شدید مالی نقصان پہنچایا اور امریکا کا جانی نقصان برائے نام ہوا۔ ان امریکا کی دفاعی لحاظ سے محتاج اور امریکا پر انحصار کرنے والی خلیجی دولت مند ریاستوں کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ امریکا اور اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے مل کر ایران پر حملہ کریں گے اور ایران اس حملے میں اپنی تباہی آسانی سے برداشت کر لے گا۔

ایران خلیجی ممالک کے پڑوس میں اور یہ ریاستیں ایران کا آسان ہدف تھیں اور امریکا سے حاصل آشیرباد کے باعث ایران کو کمزور سمجھ کر امریکا پر مکمل انحصار کیے اپنی ذاتی فوج کے بغیر دولت کمانے میں مگن تھیں اور ایران کو اپنے لیے خطرہ ہی نہیں سمجھتی تھیں مگر ایران نے امریکا کے آسرے پر رہنے والی خلیجی ریاستوں اور خاص کر اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے حامل یو اے ای کو اپنی شدید بمباری سے نشانہ بنایا جس میں دبئی سب سے زیادہ تباہ تو ہوا مگر جانی نقصان اس کے اپنے لوگوں کا نہیں دیگر ممالک کا ہوا جسے امریکا دیکھتا رہا۔

نشانہ بننے والے یہ ممالک امریکی مشینری کی مدد سے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکتے رہے مگر امریکا ان کی مدد کو نہیں آیا کیونکہ خود امریکا کو ان ممالک میں اپنے اڈوں کی حفاظت کی زیادہ فکر تھی اور امریکا نے ان ریاستوں کو ایران کی بمباری برداشت کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا تھا جو اپنا دفاع کرتے رہے اور ایران کا کچھ نہ بگاڑ سکے نہ ان کے پاس فوج تھی نہ جدید دفاعی صلاحیت کیونکہ ان سب کا مکمل انحصار امریکا پر تھا اور امریکا ان ممالک سے قیمتی تحائف وصول کرنے میں مصروف رہا اور ان خلیجی ریاستوں نے ایران پر امریکی حملوں کی سزا بھگتی اور دبئی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا اور یہ ریاستیں ایرانی بمباری روکنے میں ناکام امریکی مدد کی منتظر ہی رہیں مگر امریکا مدد کو نہ آیا جس پر ان ریاستوں نے انحصار کر رکھا تھا۔

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز