15

اولین ترجیح صرف پاکستان

حالیہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان نے ثالثی کا جو مدبرانہ اور متحرک کردار ادا کیا ہے ساری دنیا نے اسے سراہا اور دنیا بھر کے میڈیا میں پاکستان کا نام سب سے نمایاں رہا۔ دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک کی خبروں میں پاکستان کا نام نظر آیا اور دنیا بھر کے بڑے اور قابل ذکر ممالک کے سربراہوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو فون کرکے امریکا ایران کے درمیان پہلے جنگ بندی اور بعد میں دونوں متحارب ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے سفارت کاری کی بے حد تعریف کی اور اس مقصد کی کامیابی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کامیابی کی بھی توقع رکھی۔

 

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور دیگر معاملات بہتر بنانے کے لیے جو جان دار کردار ادا کیا اس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔بھارت جیسے دشمن ملک کا میڈیا جو ہر وقت پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے وہ بھی موجودہ حالات میں پاکستان کی تعریف کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا اپنی حکومت سے بار بار یہ سوال پوچھ رہا ہے ایسے وقت میں جب پاکستان شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے ،بھارت کا کردار کہاں ہے،دنیا بھارت کو اہمیت کیوں نہیں دے رہی۔ ایران اور امریکا دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی پاکستان کے سوا کسی بڑے ملک نے کوشش کی اور نہ ہی ویٹو کی طاقت کے حامل ممالک چین، برطانیہ، روس، اور فرانس نے سپرپاور امریکا کے ایک ایسے چھوٹے ملک ایران سے مذاکرات میں دلچسپی لی جو چاہتے تو عالمی جنگی حالات میں کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں تھے مگر ان بڑے طاقتور ممالک، یورپی یونین اور نیٹو بلکہ اقوام متحدہ بھی خاموش تماشائی بنے رہے ۔

 

سب ممالک امریکا کے سپر پاور ہونے کی وجہ سے غیر متحرک رہے، ایسے حالات میں پاکستان ہی وہ واحد ملک تھا جس نے آگے بڑھ کر جاندار کردار ادا کیا اور دونوں ممالک میں جنگ بندی کے لیے دونوں کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کیا۔ ایران میں جانی نقصان اور زبردست مالی تباہی دیکھتے رہے کیونکہ سپر پاور امریکا کی خفگی کوئی مول لینے کو تیار نہ تھا اور صرف پاکستان ایک ایسا ملک تھا جو ایران کا ہمسایہ اور برادر مسلم ملک تھا۔ ایران اپنے سے بہت دور واقع ملک امریکا پر تو حملے نہیں کر سکتا تھا مگر ایران نے امریکی اتحادی اسرائیل کو اس کے حملوں کا بھرپور جواب دیا اور اسرائیل کو بھی نقصان پہنچایا۔

 

امریکا نے 47 سالوں سے ایران پر عالمی پابندیاں لگوا رکھی تھیں۔ ایران کی بہت بڑی رقم مختلف ممالک میں منجمد کرا رکھی تھی اور عام تاثر تھا کہ ان پابندیوں سے ایران کمزور ہو چکا اور ایک دو روز میں امریکا کے آگے سرنڈر کر جائے گا اور امریکا کے آگے جھک کر اس کی ہر بات ماننے پر مجبور ہو جائے گا اور امریکا ایران میں اپنی مرضی کی حکومت بنا لے گا۔

 

 

 

ماضی میں ایران بھارت کے قریب تھا اور پاکستان عالمی پابندیوں کے باعث ایران سے اپنے معاہدے پر عمل کر سکا اور نہ ہی ایران سے سستا پٹرول اور گیس لے سکا جو پاکستان کی اشد ضرورت اور مجبوری تھی ،ایسے حالات میں خود پاکستان کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر سکے گا۔ امریکا سے پاکستان کے اچھے تعلقات بھی ایران کو پسند نہ تھے اور پاکستان مخالف اور دہشت گردوں کو بھی ایرانی علاقوں سے مدد مل رہی تھی اور گوادر کی بندرگاہ اور سی پیک کے سلسلے میں بھارت مخالفت میں پیش پیش تھا، اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ایرانی علاقے استعمال کر رہا تھا، اس کی مہم کا پاکستان نشانہ بنا ہوا تھا۔

 

گزشتہ سال بھارت نے خود پہلگام واقعہ کرا کر اس کا الزام پاکستان پر لگایا تھا اور اسی بنیاد پر جارحیت کی تھی مگر پاک فوج اور پاک فضائیہ نے بھارت کو جواب میں ایسا سبق سکھایا کہ آپریشن سندور خود بھارت کے لیے آپریشن تندور بنا دیا تھا جس میں بھارت کے ساتھ جنگی جہاز گر کر بھسم ہو گئے تھے اور بھارت کو پاکستان سے ایسے بھرپور جواب کی توقع نہیں تھی جس سے دنیا میں بھارت کی جنگی صلاحیت کا نہ صرف پول کھلا بلکہ بھارتی فوج اور خصوصاً بھارتی وزیر اعظم کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اپنے بڑے دشمن کو پسپا کرنے پر دنیا کو حیرانی ہوئی تھی جسے پاکستان کی طاقت کا اندازہ نہ تھا۔

بھارت نے جو خود جارحیت کی تھی اس کو رکوانے کے لیے بھارت کے کہنے پر امریکی صدر کو مداخلت کرکے جنگ رکوانا پڑی تھی مگر بھارت دنیا بھر میں رسوائی کے باوجود ڈھٹائی سے ڈٹا رہا اور اب تک پہلگام واقعہ کی بنیاد پر اب بھی پروپیگنڈا مہم چلا رہا ہے جب کہ بھارتی آرمی چیف نے حال ہی میں بعض وجوہات کو بنیاد بنا کر اپنی ناکامی کا اعتراف بھی کیا ہے مگر ایک سیاسی پارٹی کے حامی ایک سال بعد بھی پاکستان کی اس کامیابی کو ماننے پر تیار نہیں بلکہ انھیں امریکا ایران جنگ رکوانے کی کوشش اور ثالثی کا کردار تکلیف دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی ملک سے باہر بیٹھ کر شور مچا رہے ہیں کہ پاکستان ملک کے اندر سیاسی مصالحت نہیں کر رہا اور امریکا ایران میں مصالحت کرانے میں لگا ہوا ہے جب کہ اس کی توجہ پہلے اپنے اندرونی معاملات پر ہونی چاہیے تھی۔ پاکستانی حکومت کے خلاف خود شروع کی گئی اپنی ذاتی اور سیاسی لڑائی میں اپنی بار بار کی ناکامی کے بعد وہ خاموش نہیں بیٹھے اور دنیا بھر میں پہلے جنگی اور اب پاکستان کی سفارتی کامیابی جسے دنیا تسلیم کر رہی ہے مگر یہ عناصر ماننے کو اب بھی تیار نہیں اور بھارت کی طرح یہ دنیا میں جھوٹی پروپیگنڈا مہم چلا رہے ہیں۔

ایران جو پہلے بھارت کے قریب تھا پاکستانی حکمرانوں کی صلاحیت کا معترف ہو کر پاکستان سے اظہار تشکر کر رہا ہے جہاں پاکستانی حمایت میں نعرے لگ رہے ہیں۔ پاکستان سے وفاداری نبھانے کی بجائے ڈالروں کے حصول کے لیے اپنے ہی ملک کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کے عادی ان عناصر کو دنیا بھر میں پاکستانی مقبولیت پسند نہیں آ رہی جب کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد ایک سال میں پاکستان نے جو کامیابی حاصل کی ہے اس کے بعد ان کی سوچ بدلنی چاہیے تھی اور اپنے ہی ملک کی مخالفت چھوڑ کر ان کی اولین ترجیح پاکستان ہو جانا چاہیے تھی کیونکہ آج دنیا میں پاکستان کو جو مقام حاصل ہو چکا ہے اس کا اعتراف غیر پاکستانی بھی کر رہے ہیں مگر بیرون ملک بیٹھے بھگوڑوں کی سیاسی سوچ نہیں بدل رہی۔ حکومت ملک کا وقار دنیا میں بلند کرنے میں لگی ہے جس کی حمایت ضروری ہے۔

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز