گلگت بلتستان کی وادیوں میں ان دنوں پھر جھنڈوں کا موسم اترا ہوا ہے ہر پہاڑ پر ایک رنگ، ہر بازار میں ایک نعرہ، ہر دیوار پر ایک مسکراتا چہرہ یوں لگتا ہے جیسے غربت مر چکی ہو بے روزگاری دفن ہو چکی ہو اور مہنگائی نے شاید ان پہاڑوں تک پہنچنے سے معذرت کر لی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی جھنڈوں کے نیچے ایک مزدور آدھا لیٹر پیٹرول خریدنے سے پہلے اپنی جیب تین بار ٹٹولتا ہے ایک باپ بچوں کی فیس کے لئے قرض مانگتا ہے اور ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لے کر چوکوں میں سیاسی جلوسوں کا ایندھن بنا پھرتا ہے اور اس تماشے کے سب سے بڑے اداکار وہ لوگ ہیں جو کل تک ایک دوسرے کو چور، غدار کافر اور ایجنٹ کہتے تھے مگر آج اقتدار کی خوشبو پا کر ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے ہیں سیاست اب نظریے کی بیوہ اور مفاد کی رکھیل بن چکی ہے وزیر حسن نے تو تمام حدیں پار کردی پیپلز پارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہ ملنے پر فورآ ن لیگ کی کشتی میں چھلانگ لگا دی اس نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ میں کیا کر رہا ہوں بتانے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں عوام اور پارٹی سے کوئ لینا دینا نہین ہے انہیں اپنے مفاد عزیز ہیں اسکے لئے ضمیر کو بیچنا بھی موصوف کے لئے کوئ شرمندگی والی بات نہیں بڑے فخر سے ن لیگ کا پٹہ گلے میں ڈال کر اپنی ہی غیرت کا جنازہ نکال دیا اب وہ ووٹرز جو کل تک پی پی کے نظریات کے ساتھ تھے ووٹ دیتے تھے اب وہ ن لیگ کو ووٹ دیتے شرمائیں گے یا وہ بھی وزیر حسن کی طرح بے ضمیری اور بے شرمی کا مظاہرہ کریں گے
یہ پارٹیاں اب سیاسی جماعتیں نہیں رہیں منافع بخش فیکٹریاں بن گئی ہیں اور نمائیندے بھی اسی طرز کو لیکر ہر مفاد سے بھری کشتی بھر دھڑا دھڑ سوار ہو رہے ہیں ایسی فیکٹریاں جہاں کارکنوں کے جذبات خام مال ہوتے ہیں۔عوام کے خواب مشینوں میں پیسے جاتے ہیں اور نتیجے میں اقتدار، مراعات، ٹھیکے پلاٹ اور وزارتیں برآمد ہوتی ہیں عوام صرف تالیاں بجاتی ہے جبکہ منافع چند خاندانوں کی تجوریوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
آپ غور کریں ہر الیکشن میں وہی چہرے نئے نعروں کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں کبھی مذہب کے نام پر کبھی قومیت کے نام پر کبھی ترقی کے خواب بیچ کر عوام بھی عجیب سادہ دل ہے ہر بار نئے پیکٹ میں پرانا زہر خرید لیتی ہے یہ نہیں سوچتی کہ جو لوگ پچھلے بیس سال میں ایک سڑک ایک اسپتال اور ایک یونیورسٹی نہ دے سکے وہ اب اچانک قوم کے مسیحا کیسے بن گئے؟
سب سے افسوسناک منظر وہ ہوتا ہے جب کوئی شخص کل تک ایک پارٹی کے حق میں قسمیں کھاتا ہے نظریے پر لمبی تقاریر کرتا ہے اور اگلے دن دوسری پارٹی کے جھنڈے تلے کھڑا ہو کر یہی اعلان کرتا ہے کہ یہی اصل منزل تھی کتنی بے شرمی کی بات ہے
اصل میں منزل کبھی نظریہ تھا ہی نہیں منزل صرف اقتدار تھی نظریہ تو عوام کو بیوقوف بنانے کا خوبصورت لفافہ تھا کوفہ صرف تاریخ میں نہیں تھا کوفہ ہر اُس جگہ زندہ ہوتا ہے جہاں لوگ حق پہچاننے کے باوجود خاموش رہتے ہیں جہاں ضمیر وقتی فائدے کے ہاتھ فروخت ہو جائے اور جہاں قوم اپنے دشمن کو دوست سمجھنے لگے آج گلگت بلتستان کے بازاروں ہوٹلوں، جلسوں اور کارنر میٹنگز میں ایک نیا کوفہ آباد دکھائی دیتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں نیزے تھے یہاں جھنڈے ہیں وہاں دربار تھا یہاں پارٹی دفاتر ہیں وہاں ضمیر بکتا تھا یہاں ووٹ پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو عوام خاموش رہتی ہے آٹا مہنگا ہوتا ہے تو لوگ تقدیر سمجھ کر برداشت کر لیتے ہیں نوجوان بے روزگار ہوتے ہیں تو انہیں پارٹی کےسوشل میڈیا ونگ میں لگا دیا جاتا ہے گویا اس قوم کو زندہ رکھنے کے لئے صرف نعروں کی آکسیجن کافی سمجھ لی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ حکمران اب عوام سے نہیں ڈرتے انہیں معلوم ہے کہ یہ قوم غصہ بھی فیس بک پوسٹوں میں نکالتی ہے اور انقلاب بھی واٹس ایپ اسٹیٹس پر لاتی ہے سڑکوں پر نکلنے والی قومیں تاریخ بدل دیتی ہیں جبکہ صرف جلسوں میں نعرے لگانے والی قومیں ہمیشہ استعمال ہوتی رہتی ہیں۔
گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پارٹیوں کے اندھے کارکن رہیں گے یا اپنے مستقبل کے محافظ بنیں گے یہ سمجھنا ہوگا کہ پارٹی آپ کا رزق نہیں آپ کا شعور اہم ہے لیڈر آپ کا خدا نہیں صرف ایک عوامی نمائندہ ہے اور نمائندہ جب عوام سے زیادہ اپنے مفاد کا وفادار ہو جائے تو اسے مسترد کرنا ہی قوم کی غیرت ہوتی ہے وقت آ گیا ہے کہ لوگ جھنڈوں سے باہر نکلیں پارٹیوں کے نعروں سے اوپر اٹھیں سوال کریں حساب مانگیں یہ پوچھیں کہ ستر سال سے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں نے عوام کو دیا کیا ہے؟ اگر آج بھی ایک غریب آدمی علاج تعلیم اور روزگار کے لئے دربدر ہے تو پھر یہ سیاست کس کے لئے ہو رہی ہے یہ الیکشن صرف امیدواروں کا امتحان نہیں عوام کے شعور کا امتحان ہے دیکھنا یہ ہے کہ قوم اس بار بھی وقتی نعروں، بریانی کی پلیٹوں اور جھوٹے وعدوں کے ہاتھ بکے گی یا اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک باشعور فیصلہ کرے گی یاد رکھئےجھنڈے بدلنے سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلتی شعور بدلنے سے بدلتی ہے۔
ادھر گلگت بلتستان میں الیکشن کا موسم اپنے جوبن پر ہے ہر دیوار پر مسکراتے چہرے ہر جلسے میں وعدوں کے جگنو، ہر تقریر میں ترقی کے خواب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے غربت بے روزگاری، مہنگائی اور وسائل کی لوٹ مار سب ماضی کے قصے ہوں وہی رہنما جو کل تک عوام کو شناخت تک نہیں دیتے تھے آج ہر گلی میں کندھے پر ہاتھ رکھ کر محبت بانٹ رہے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ مفاد پرست انسان کبھی قوم کا خیر خواہ نہیں ہوتا وہ صرف اپنا راستہ بناتا ہے چاہے اس کے لیے عوام کے خواب نوجوانوں کا مستقبل یا قوم کی غیرت ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے ایسے لوگ ہر دور میں چہرے بدلتے ہیں جھنڈے بدلتے ہیں پارٹیاں بدلتے ہیں مگر ان کا مقصد نہیں بدلتا اپنا فائدہ گلگت بلتستان کے عوام کو اس بار جذبات سے نہیں شعور سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ یہ صرف ایک الیکشن نہیں یہ قومی غیرت نظریے اور شعور کا امتحان ہے دیکھنا یہ ہے کہ قوم وقتی نعروں اور چمکتی گاڑیوں کے پیچھے چلتی ہے یا اپنے مستقبل کے لیے صحیح اور مخلص قیادت کا انتخاب کرتی ہے
یاد رکھیں جو لوگ ہر موسم میں رنگ بدلتے ہیں وہ قوموں کے مقدر نہیں بدلتے بلکہ قوموں کو کمزور کرتے ہیں اس لیے اپنے ووٹ کی حرمت پہچانو کیونکہ یہی ووٹ آنے والی نسلوں کی تقدیر لکھے گا یہ مفاد ایسی ظالم شے ہے کل تک جو وزیر حسن نے لیگ کو برا بلا کہتے تھے آج بغیر سوچے سمجھے انکی کشتی میں صرف اپنے مفاد کے لئے بے دحڑک سوار ہوئے اب علاقے کے ووٹرز اگر شعور رکھتے ہوں تو سوال کرنا چاہئے یہ گری ہوئ حرکت آپ نے کیسے کی ۔۔۔؟؟