ووٹ کے حق پر قدغن

پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جو محض ایک سیاسی رائے نہیں ہوتے بلکہ ان کے دور رس آئینی، جمہوری اور سماجی اثرات ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ حکومت ووٹر کی عمر اٹھارہ برس سے بڑھا کر اکیس برس کرنے کی تجویز پر غور کر سکتی ہے۔ یہ بیان بظاہر ایک تجویز ہے، مگر اس کے سیاسی مضمرات اتنے گہرے ہیں کہ اسے محض ایک سرسری یا غیر سنجیدہ بات قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصاً اس لیے کہ یہ بات ایک ایسے شخص کی طرف سے آئی ہے جو حکومت کے سیاسی مشیر ہیں اور حکومتی پالیسی سازی کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ووٹ کا حق جدید جمہوری نظام میں بنیادی شہری حقوق میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں جمہوریت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہو، اور اس حق کے دائرے کو وسیع کیا جائے، محدود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ووٹر کی عمر اٹھارہ برس مقرر ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، ترکی، ملائیشیا اور دیگر جمہوری ممالک میں نوجوانوں کو اٹھارہ برس کی عمر میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ بعض ممالک تو اس سے بھی آگے بڑھ کر سولہ برس کی عمر میں ووٹ کے حق پر غور کر رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو قومی دھارے میں زیادہ مؤثر انداز میں شریک کیا جا سکے۔ ایسے ماحول میں اگر پاکستان میں ووٹر کی عمر دوبارہ اکیس برس کرنے کی بات ہو تو یہ یقیناً تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانے کے مترادف ہوگا۔

پاکستان میں بھی ووٹر کی عمر اکیس برس سے کم کرکے اٹھارہ برس اسی بنیاد پر کی گئی تھی کہ نوجوان نسل سیاسی شعور رکھتی ہے، قومی معاملات میں دلچسپی لیتی ہے اور اسے قومی فیصلوں میں شریک ہونا چاہیے۔ اس وقت یہ دلیل دی گئی تھی کہ اگر ایک نوجوان اٹھارہ برس کی عمر میں ملک کیلئے فوج میں بھرتی ہو سکتا ہے، ٹیکس ادا کر سکتا ہے، ملازمت کر سکتا ہے، کاروبار کر سکتا ہے، شناختی کارڈ بنوا سکتا ہے اور قانونی ذمہ داریاں اٹھا سکتا ہے تو پھر اسے ووٹ دینے کے حق سے کیوں محروم رکھا جائے؟ یہی دلیل آج بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایسی تجویز اس وقت کیوں سامنے آ رہی ہے؟ کیا واقعی نوجوان نسل سیاسی شعور سے محروم ہے؟ یا مسئلہ کچھ اور ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج کا نوجوان ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ باشعور ہے۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ اور معلومات تک آسان رسائی نے نوجوان نسل کو سیاسی، معاشی اور عالمی امور سے جوڑ دیا ہے۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور حتیٰ کہ اسکولوں میں بھی نوجوان ملکی سیاست اور قومی معاملات پر رائے رکھتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں، تجزیہ کرتے ہیں اور اپنی سیاسی پسند و ناپسند رکھتے ہیں۔ یہی چیز بعض سیاسی قوتوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔

یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ اصل مسئلہ نوجوانوں کی عمر نہیں بلکہ ان کا سیاسی رجحان ہے۔ بعض حلقے شاید یہ محسوس کرتے ہیں کہ اٹھارہ سے اکیس برس کے نوجوان ووٹر ان کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے، اس لیے ان کا ووٹ ہی ختم کر دیا جائے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ سیاسی خوفزدگی کی علامت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اٹھارہ سالہ نوجوان ووٹ نہیں دے گا تو کیا اکیس سالہ ووٹر لازماً کسی مخصوص جماعت کو ووٹ دے دے گا؟ سیاسی حمایت عوامی خدمت، بہتر حکمرانی، شفافیت اور اعتماد سے حاصل کی جاتی ہے، عمر کی حدیں بدلنے سے نہیں۔اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، ان میں عوام پہلے ہی شدید اضطراب اور بددلی کا شکار ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں، معاشی غیر یقینی صورتحال، سیاسی عدم استحکام اور انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات نے عوام کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ فارم 45 اور فارم 47 کی بحث نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کیے۔حافظ نعیم الرحمن کی طرف سے ملک گیر احتجاج کی اپیلیں بھی سامنے آئی ہیں۔اس ماحول میں اگر ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز سامنے آئے تو عوام اسے سیاسی انجینئرنگ کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔مزید دلچسپ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف حکومتیں نوجوانوں کے حقوق، یوتھ ایمپاورمنٹ، نوجوان قیادت اور نوجوانوں کی شمولیت کے بڑے دعوے کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف انہی نوجوانوں سے ووٹ کا حق واپس لینے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ کھلا تضاد ہے۔ اگر ایک اٹھارہ یا انیس سال کا نوجوان اسسٹنٹ کمشنر بن سکتا ہے، سرکاری اداروں میں ذمہ داریاں نبھا سکتا ہے، فوج اور پولیس میں خدمات انجام دے سکتا ہے تو پھر وہ ووٹ کیوں نہیں دے سکتا؟ کیا ریاست نوجوان کو ذمہ داری تو دینا چاہتی ہے مگر اختیار نہیں؟پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان صرف مستقبل نہیں بلکہ حال بھی ہیں۔ ان کو سیاسی عمل سے دور کرنا دراصل ملک کے ایک بڑے طبقے کو احساسِ محرومی دینا ہے۔ نوجوانوں کو جمہوری عمل میں شریک کرنے سے ہی سیاسی استحکام پیدا ہوگا، ان کا اعتماد بڑھے گا اور وہ خود کو ریاستی نظام کا حصہ محسوس کریں گے۔ اگر ان کے حقوق محدود کیے گئے تو اس سے سیاسی بیگانگی اور مایوسی میں اضافہ ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں نوجوانوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان کا اعتماد حاصل کریں۔ بہتر پالیسیاں، شفاف طرز حکمرانی، تعلیم، روزگار اور انصاف کی فراہمی ہی وہ راستہ ہے جس سے نوجوان نسل کو اپنے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ ووٹر کی عمر بڑھانا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دینے کے مترادف ہوگا۔رانا ثناء اللہ کا یہ بیان خواہ ذاتی رائے ہو یا کسی سنجیدہ حکومتی سوچ کا اظہار، اس پر بروقت اور واضح قومی بحث ضروری ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں حقِ رائے دہی صرف ایک ووٹ نہیں بلکہ شہری کی عزت، شناخت اور شمولیت کی علامت ہوتا ہے۔ نوجوانوں سے یہ حق چھیننے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف غیر جمہوری ہوگی بلکہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگی۔

بشکریہ روزنامہ آج