374

دنیا بعد از کورونا


 کو رونا وائرس نا صرف ایک مہلک بیماری ہے بلکہ یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ انسان کو یہ اعصابی، معاشی لحاظ سے بھی کمزور کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں جس انداز سے اس بیماری نے پنجے گاڑھے ہیں اگر اس کے اثرات پر نظر ڈالی جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ ہر شعبہ زندگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں جہاں ماہرین، حکومت وقت ، اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تگ دو میں لگے ہیں، وہیں یہ نقطہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انشاءاللہ جب پاکستان بھی چین کی طرح معمولات زندگی کی طرف لوٹ آئے گا تو ان حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا؟ اور کورونا کے بعد معمولات زندگی کیسے ہوں گے۔
اگر ہم کو رونا وائرس سے پہلے کے حالات پر نظر ڈالیں تو انسانی زندگی اپنے ڈگر پر رواںتھی ، بچوں کا صبح سکول جانا، عید تہواروں پر خریداری، میل جول ، بے خوف ملنا درآمدات اور برآمدات ،معیشت اور اسی طرح کی ہزاروں دیگر سرگرمیاں جو اپنے معمولات پر رواں دواں رہیں، ایک وائرس کے باعث تھم گیئں ہیں ۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔


مجموعی طور پر اگر مختلفنکات کو زیر غور لایا جاے تو کسی بھی ملک کے لیے اس کی معیشت اہمیتکی حامل ہے ان حالات میں بڑا اثر دنیا کی معیشت سب سے گہرا اثر پڑاس وقت معیشت کا پہیہ رکا ہوا ہے۔پوری دنیامیں لاک ڈاون ہے۔کاروبار،انڈسٹری،مارکیٹ،سب کچھ بند ہے۔جب یہ پہیہ دوبارہ چلے گا تو ایسا لگ رہا ہے کہ ہر ایک کو ایک بار پھر زیرو سے آغاز کرنا ہوگا۔ پورا نظام بدل جائے گا۔
دنیا آج تک سبسے زیادہ توجہ اپنی سرحدوں کی حفاظت پر دیتی رہی۔لیکن اس وبائ نے اسے مجبور کیا ہے کہ اب پیسہ انسانوں کی صحت کی حفاظت میں خرچ کیا جائے۔
 

طویل لاک ڈاون،کمزور معاشی بدحالی مہنگائی اور،بیروزگاری انسانی المیوں کو بھی جنم دے رہی ہے جس سے غربت اور افلاس میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ اثرات طویل عرصے تک محسوس کئے جائیں گے
غریب،کمزور معیشت والے اور جنگ زدہ ممالک زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ یہ ممالک پہلے ہی بدحالی کا شکار ہیں۔اور زیادہ تر عالمی اداروں کی امداد کے سہارے اپنا نظام چلا رہے ہیں۔سکڑتی ہوءمعیشت کی وجہ سے ان ممالک کی امداد بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔


بہتر روزگار اور تابناک مستقبل کا خواب لئے اکثر غریب اور خانہ جنگی کا شکارممالک سے لوگ متمول ممالک جیسے امریکہ اور یورپ کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔کورونا کی وجہ سے اب امریکہ اور یورپ نے بھی مایئگریشن پر سخت اقدامات لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ بھی رکنےکا اندیشہ ہوگا۔جو اقوام متحدہ جیسے ادارے کے لئے بھی تشویشناک بات ہوگی۔
 کورونا کے بعد کی زندگی پر روشنی ڈالیں تو یہ سال تعلیمی اعتبار سے طلباء کے لیےکھٹن ثابت ہوا۔اس تعلیمی سفر کے دوبارہ آغاز میں یقینا مشکلات درپیش ہوں گی۔ان رکاوٹوں سے نپٹنے کے لیے اساتذہ،طلبائ اور حکومت کو سنجیدگی سے لائحہ عمل طے کرنا ہو گا تا کہ مذید وقت

کو ضائع نہ کیا جائے اور طلباءکو ایک نئے جذبے سے تعلیمی دوڑ میں شامل کیا جائے۔
مسلسل لاک ڈاون میں رہنے اوکورونا کے پھیلنے اور اس سے اموات کی خبروں نے یقینا کمزور اعصاب کے حامل لوگوں یا نفسیاتی پہلو سے بھی انسانوں کو ذہنی دباو¿ کا شکار بنایا ہے تو ممکنہ طور پر اس وائرس کے ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں میں ایک ڈرا ور خوف موجود رہےگا۔ ‘سائیکالوجی آف پینڈیمیک ‘کی مصنفہ ہیں کا کہنا ہے کہ کورونا کے بعد کی انسانی زندگی کو اعتماد دلانے اور خوف و ہراس کی دیوار کو گرانے کا ایک یہ بھی حل یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اعلان کیا جاے اور اپنی قوم کو اعتماد میں لیا جاے کہ ‘ مصافحہ کرنا اور ہوٹلوں میں جانا اب خطرہ نہیں ہے ‘ یہ یقینا نفسیاتی پہلو سے بھی مثبت ثابت ہو گا اس پہلو کا موازنہ کورونا کے پہلے حالات سے کیا جائے تو یقینا ایک نیا طرز زندگی دیکھنے کو ملے گا اور اگر اس رخ کو مثبت سوچ سے جانچا جائے تو ہمیں آگے کی زندگی اس حدیث پر عمل پیرا ہونے کا موقع فراہم کرے گا کہ ‘صفائی نصف ایمان ہے ‘۔
اللہ کی ذات پر یقین اور حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا ہو کر یقینا اس مہلک بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔تاہم ایک روشن مستقبل کی امید اور روشن خیالی سے معمولات زندگی کو مذید جدوجہد کے ساتھ اس مہلک بیماری کے خاتمے کے بعد بڑھایا جاسکتاہے۔

بشکریہ اردو کالمز