627

سلام شہید کربلا امام عالی مقام (رض) 

میرا حسب نسب یاد کرو میں کون ہوں میں تمہارے نبی کا نواسا ہوں تمہارے نبی نے میرے بارے میں کیا کہا ہے ۔
امام عالی مقام نے آخری  دفعہ بھی اپنا فرض نبھایا جنجھوڑا،
 جس تاریک راستے کو ان کے نانا کے امتی ہونے کے دعویداروں نے چنا تھا وہ حرص و لالچ کے اس کنویں تک جا پہنچتا تھا جس کے بارے میں کہا گیا حرص کے پیٹ کو  جہنم کی اگ ہی بھر سکتی ہے ، اور ان کے اندر لالچ نے بدبختی کا وہ جال بھنا تھا کہ ان کو نہ کچھ سنائی دے رہا تھا نہ ہی کچھ دیکھائی دے رہا تھا  جو امام عالی مقام کی امامت میں نماز بھی پڑھ رہے تھے اور ان کے سر مبارک کے بھی درپے تھے اس کائنات نے ایسا انوکھا  معرکہ نہ کبھی دیکھا تھا نہ ہی سنا تھا ، کرہ ارض حیران تھا پریشان تھا کہ اپنے قدیم اور طویل سفر میں ایسا انہونی معرکہ بھی ممکن ہونا تھا  ۔
یہ ہر لحاظ سے عجیب تھا اس کرب ، بلا سے اس کائنات کا بھی پہلی دفعہ واسطہ پڑ رہا تھا  جہاں ظلم ، بربریت  کی حدیں پار ہو رہی تھی کھانا بند بچوں پہ پانی بند ، کہنے کو وقت کے فرعوں کا ایک چھوٹے سے لشکر  سے مقابلہ تھا لیکن خوف ، ہیبت ایسی طاری کہ بڑے تو بڑے  بچوں پہ بھی ایسا بزدلانہ پہرہ کہ شیطان کو بھی شرم آئے  ، 
 ان کی آنکھوں  میں سیاہ پٹی تھی لالچ کا حرص کا دنیا کی چند روزہ مقام کا عہدے کا زر کا زمیں کا  تبھی تو سامنے والے  ہستی کی عزت ، مقام  کا بھی پتہ تھا ان کے گھرانے کا بھی پتہ تھا غداری کے رسوائی کا بھی پتہ تھا  لیکن اس کے باوجود وہ فرق نہیں کر  پا رہے ہیں یا ان سے ہو نہیں سک رہا تھا بدبختی  نصیب میں  لکھی جا چکی تھی لالچ  اور بری نیت ہمیشہ ساتھ بدبختی لاتی ہے ورنہ بلندی اور پستی میں فرق کرنا اتنا بھی مشکل نہیں ہوتا ، 
کربلا  تاریخ کا وہ سیاہ باب جس کے ہر صفحے کا ورق سیاہ اور سرخی پر مزیں  تو ہیں لیکن ' اس کی ڈائریکشن حکمرانی کے وہ اصول وضح کرتا ہے۔
 جہاں کسی نااہل کرپٹ موروثی حکمران کی بیعت کرنا کرب ، بلا سے بھی بدتر ہے یہ دل دہلانے والا  سبق اموز معرکہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام بنی نوع انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے،کہ حق پر ڈٹ جانا صاف گوئی سے بہادری سے اصل میں حسینی راستہ ہے یہ صرف رسم کو ادا کرنے کا نام ہر گز نہیں ہے اس کی اہمیت اس کی ہیبت و جلال اس کی قربانی اس سے بہت بڑھ کر ہے ہر دور میں کوفی اور یزیدی  ہوتے ہیں ایسے حالات میں اپنے  شرطوں پہ جینا  اصولوں کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرنا واقعہ کربلا کا درس ہے
 جہاں یزید کو اپنے چند دنوں کے  اقتدار کی فکر تھی وہاں کوفہ والوں کی بے وفائی کی بھی نظیر نہیں ملتی جو خط لکھ لکھ کہ  شیعان علی یا عاشق علی کا دعوی  کر کے امام کو بلا رہے تھے،ان کی لالچی نظروں  نے وہ گھنائونی سازش رچائی کہ کہیں بھی دغا بازی کا نام آئے گا ان کا نام سرفہرست ہو گا اور ہر دغا باز کا نام ان سے منسوب کیا جانا چائیے،  
یوں تو محرم مسلمانوں کے سال کا پہلا مہینہ ہے لیکن اپنے ساتھ تاریخ کے اس کرب تشنگی اور افسوس کو لاتا ہے جو ہر درد دل رکھنے والی آنکھوں کو نم اور اداس  کرتا ہے ، تاریخ پڑھا جاتا ہے لکھا جاتا ہے لیکن یہ وہ افسوسناک  تاریخ ہے جس کو پڑھنے اور لکھنے کے لیے بہت  بڑا دل اور جگر چائیے کہ اس کو بیان کرنا اتنا اسان  نہیں ہے،
اسلامی تاریخ کے بہت ہی ایسے حصے ہیں بڑے بڑے ہستیوں کے ساتھ بہت ظلم کیا گیا،
 لیکن کربلا میں جو کیا گیا ، بے حرمتی ظلم بربریت کی وہ بھیانک داستان رقم ہوئی  نبوت کے گھرانے کے اخری چشم چراغ کے ساتھ ان کی پوری فیملی ان کی اولاد جوان بھائی  ان کے سامنے  جس بے دردی سے زبح کیے گئے  رہتی دنیا تک ہر باضمیر انسان اس کی بھرپور مذمت کرتا رہے گا اور ان ظالموں کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرے گا یہاں تک کہ زمیں بھی ان کو قبول کرنے سے انکاری رہے گی اور آسمان اپنی سرخی سے ان سے نفرت کا اظہار کرتا رہے گا۔
حسین سے محبت کسی طبقہ یا فرقہ سے بہت اونچا ہے جس کا ضمیر جاگا ہوا ہو گا  جس کو  سچائی پسند ہو  جس کو منافقت سے نفرت ہو جو صاف گو ہو بہادر ہو  جس کو اچھے برے میں تمیز کا پتہ  ہو اس کا دل خود بخود حسین سے عقیدت کی طرف جائے گا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی عشق محمد کا دعوی کرے اور حسین سے بغض رکھے  نمازیں  تو کوفے میں بھی  پڑھی جا رہی تھی اور حسین کی امامت میں ہی پڑھی جا رہی تھی اور نبی کی اولاد پر درود سلام بھی بھیجا جا رہا تھا  لیکن وہ نا اشنا تھے عقیدت سے احترام سے،
 ادب پہلا قرینہ ہے محبت  کے قرینوں  میں 
یہاں میں یہ بھی بتاتی چلوں چاروں خلفائے  راشدین یہاں تک کہ جن کو یہ سعادت  نصیب ہوئی کہ وہ تاجدار حرم کے محفل میں شریک ہوئے ان کے بارے میں اگر مگر  چونکہ چنانچہ کرنے کا حق کسی کو نہیں پہنچتا  کسی کی اتنی اوقات نہیں  ہونی چاہیے  کہ صدیق اکبر، فاروق اعظم ۔ عثمان  غنی۔  یا حیدر کرار جن کو یہ لقب دیا گیا ہے ان کی شان میں ائیں بائیں  شائین کرتا پھرے ہمارے حصے میں ادب احترام آیا ہے ہمیں  اپنے قد کاٹھ کے حساب سے اتنا ہی کرنا چائیے جتنا  کرنے کا حق  ہے
 یاد رکھئے یہ لقب ان کو ان کے کردار کی وجہ سے وہ ہستی نے دئیے جن کی شریعت کے اپ پابند ہیں شریعت میں بدعت نہیں لایا جا سکتا اس کی گنجائش نہیں  پھر  اپنا چورن کسی اور دکان میں لے جا کہ بھیجنا چاہئے ایک  پارٹی  لیڈر کے منشور کے کسی  شق کی خلاف ورزی کر کے  اپ وہاں نہیں رہ سکتے تو شریعت تو بہت بڑی چیز ہے ۔ 
  اور یہ بھی یاد رکھنا چائیے کہ ان سب مقدس ہستیوں کو یہ بڑائی برتری پیر کامل  محمد مصطفے کے در سے ملا ہے ورنہ مکہ مدینہ میں بڑے بڑے سردار تھے ابوجہل کو کیوں کوئی نہیں پوچھتا ،  اس لیے منزل کی ڈائریکشن کو سمجھنا بہت ضروری ہے  ادھر ادھر الجھنے کے بجائے،
مولانا محمد علی  جوہر نے کیا خوب کہا ہے 
ہر ابتدا سے پہلے ہر انتہا کے بعد
نام نبی بلند ہے نام خدا کے بعد 
دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ 
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفے کے بعد 
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے  
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

درود سلام ہو آپ(ص) پر اور آپ(ص) کی آل پر
ہم سب کو حسین (ص)کے راستے پر چلنے کی سعادت نصیب ہو امیں

بشکریہ اردو کالمز