413

روشنیوں کے شہر سے زبور حالی تک کا سفر 

روشنیوں سے جگمگاتی اس شہر کے دن رات ایک ہی ہوتے تھے ہر طرف خوش حالی اور امن وامان کا دور دورہ تھا ملک کے اندر تو اندر باہر آس پاس کے چھوٹے  ممالک سے بھی لوگ روزگار ڈھونڈنے اس شہر کا رخ کرتے انڈسٹریل ہونے کی وجہ سے کوئی بھوکا نہیں سوتا کوئی پڑھنے کے لیے جاتا تو  پڑھائی کے ساتھ  فری ٹائم  کچھ کر کے اپنے خرچہ اٹھانے کے ساتھ بچت کر کے اپنی فیملی کو بھی کچھ نہ کچھ ضرور بھیجتا جس کی وجہ سے ان کے کنبہ کو بھی ڈھارس ملتی کہ بچہ پڑھائی کے ساتھ ان کا بھی خیال رکھ رہا ہے ،
مصروفیات اتنی نہ رات کا پتہ نہ دن کا  زندگی کی اس بھیڑ میں ہر بندہ کچھ نہ کچھ کرتا اپنے لیے اپنے خاندان کے لیے نظر اتا، ہر طبقہ ہر چھوٹے شہر ہر گائوں ہر مکتب فکر کے لوگ اس شہر میں پائے جاتے۔ 
نجانے کیوں کیسے ہوا کا رخ ہی بدل گیا کوئی بدعا لگ گئی کسی کی بری نظر اس شہر کی روشنیوں کو  سناٹے نے اپنے گھیرے میں لے لیا اور بسیرا ایسا کیا کہ بدحالی سے بدحالی اس شہر کا مقدر بن گئیں ، اس شہر کو لوٹنے اور برباد کرنے والے  اپنوں کے روپ میں وہ مافیا تھے جو ہمیشہ اپنے خاص مقصد کے لیے لوگوں کا استحصال کرتے ہیں اور اس کے لیے  سب سے بڑا ہتھیار تعصب پسندی کو استعمال کیا جاتا ہے کراچی کے ساتھ بھی وہی ہوا ۔
اگرچہ کراچی کے لوگ تہذیب تمدن اور رکھ رکھائو میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں ان کو ایک ایسے اندھے کنوان میں دھکیل دیا گیا جس کے آگے کھائی ہی کھائی، کسی بھی جگہ چائیے وہ ملک ہو شہر ہو یا قصبہ اگر اس کے نوجوان کو اگر کچھ خاص ایجنڈے والے لوگ استعمال کرنا شروع کر دے تو اس جگہ کی بربادی یقینی ہو جاتی ہے یہ کچھ ہوا کراچی کے ساتھ ،
اس شہر کا عروج اور اس کی زوال کی کہانی بہت ہی عجیب اور تکلیف ہے ،اس کو ایسے لاوارث بنا دیا گیا جس کی جو مرضی لوٹ کہ لے جائے پوچھنے والا کوئی نہیں ،
 جتنا برا سلوک اس شہر کے ساتھ وہاں کے اسٹیک ہولڈرز نے کیا ہے اس کی مثال نہں ملتی اس شہر کے ساتھ ہر طاقتور نے اپنی مرضی کے مطابق سلوک کیا ،
اور آج کراچی  سب کے لیے بیڈ گورنس کی مثال ہے 
کراچی والوں کے لیے عیدیں جب آتی ہیں تو خوشیوں کے اس تہوار میں ان کے لیے  الائشیں اور گند اٹھانا ایک مصیبت بن جاتا ہے جب تک وہاں مچھر مکھیاں  لوگوں کو کھانے کے لیے نہ آجائے اور میڈیا  کی نظر نہ پڑے تب تک وہاں کسی بلدیاتی کسی میونسپل کمیٹی کسی صوبائی انتظامیہ کو نظر نہیں آتی،
کہتے ہیں قدرت انسان کو ری کال دیتا رہتا ہے تاکہ وہ کچھ سنبھل جائے کچھ شعور حاصل کرے قدرت نے کراچی کو بہت ری کال دی کہ شاید اب وہ  اپنوں اور غیروں میں فرق کر سکے  چاہئے وہ کچرا ہو  ٹڈی دل ہو یا حالیہ بارشیں، 
کراچی انتظامیہ کی قلی کھل گئی ان کا ہر بوگس کام کھل کہ سامنے آگیا ایک طرف میئر صاحب کو اپنا ٹینیور پورا کر کے جاتے ہوئے یاد آیا کہ ہمیں فنڈ نہیں ملے اور ڈرامہ پیش کیا رو دھو کہ جو کہ ان کی پرانی عادت ہے مگرمچھ کے آنسو۔ تو دوسری طرف وزیر اعلی صاحب بھی ہوش میں ا گئے کافی  بدنامی ہوئی تو آگے پیچھے جا کہ پتہ چلا آہو یہاں تو غیر قانونی تجاوزات پہ گھر بنے ہیں اپ نے ایسا کیوں کیا جی  دیکھا اس کا یہ انجام ہوتا ہے کہ پانی کے نکلنے کی جگہ نہیں ہوتی یہ سی ایم  مراد صاحب لوگوں سے کہہ رہے تھے،
 یہ اس لیے ہوا کہ  یہ لوگوں کو بھیجے گئے اور اس کے بھتہ  جس جس کو جاتا رہا یقینا اپ کو اس کا بھی نہیں پتہ ہو گا  ۔کیونکہ غلط بات کا پتہ رکھنے کے لیے احساس بہت ضروری ہوتا ہے ۔ اور جہاں مل بانٹ کہ کھانے کا رواج ہو وہ بھی لوگوں کی چمڑیاں اتار کر وہاں کاہے کو پتہ ۔ ضرورت ہی کیا ہے پتہ کرنے کی۔اپنا دھندا چل رہا ہے۔
  بارہ سال سے حکومت کرتے حکمران کو یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کے شہر میں کیا ہو رہا ہے ۔آگے فیڈرل گورنمنٹ  سندھ کو اس کے حقوق نہیں دیتے میڈیا والے کراچی کو زیادہ فوکس کرتے ہیں موصوف کو یہ سمجھ نہیں ارہی جو شہر جس وجہ سے مشہور ہو گا جیسا نظر آئے گا وہی دیکھانا ہوتا ہے ، 
اس حال میں بھی ان کو یہ تکلیف تھی کہ میڈیا کوریج کیوں مل رہا ہے اور یہ بات چھپ کیوں نہیں رہی یہ جمہوریت کی سب سے زیادہ چورن بھیجنے والی پارٹی ہے اور یہاں کے بارہ سال سے حکمران ہے ۔
سب سے افسوس ناک بات یہ  ہے جب اس وقت بھی سیاست کھیلی جاتی ہے کہ جی کراچی فلاں کا حلقہ  ہے ہم کیوں کام کرے یہ بات اتنی شرمناک ہے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں ۔
 کے پی کے کے وزیر اعلی  سیلاب سے متاثرہ ان جگہوں کا بھی دورہ کر ر ہے ہیں جو ان کے حلقے نہیں ہیں فضائی جائزہ  لے رہے ہیں بریفنگ لے رہے ہیں ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں یہ ایک اچھا اور نیک نیتی  پر مبنی اقدام ہوتے ہیں جو کسی لالچ کے بغیر کیے جارہے  ہیں، اگر وہ بھی بیٹھ جاتے کہ جی میرا حلقہ نہیں وہاں کیوں جائو  تو پتہ نہیں کیا ہوتا ۔اچھے کام کی تعریف ہونی چائیے ۔چاہے وہ کوئی بھی کرے۔
کراچی میں اس حالت میں بھی کچھ سیاسی لیڈروں کو شوشے کرنے ریلی نکالنے کی پڑی ہے بھئی یہ کوئی جلسہ کرنے کا موقع ہے آگے بڑھے ، لوگوں کا ساتھ دے، بے لوث خدمت کا وقت ہے جلسہ ریلی کے لیے بہت وقت پڑا ہے افسوس کی بات ہے  کچھ ریلیف دینے کی لیے بھی اپنے مقصد کے لیے لوگ استعمال کرنا ،
وزیراعظم  صاحب  نے کچھ پیکج تو دئے ہیں پتہ نہیں اب وہ کس کے ہاتھوں چڑھے اور اس کے ساتھ کیا ہوگا کچھ کہنا  ابھی قبل از وقت ہے 
دعا ہے کہ کراچی کی رونقیں لوٹ آئے اور کراچی والوں کو بھی ان چہروں کو یاد رکھنا چائیے جنہوں نے اس موقع پر بھی سیاست کھیلی اور ان کے تکلیف کو بھی اپنے لیے کیش کرنا چائیے ورنہ یہی کچھ ہوتا رہے گا جس قوم کی یادداشت کمزور ہوتی ہے اس  قوم کے ساتھ یہی ہوتا ہے پھر ایسی بربادی پر تعجب نہیں ہونی چاہئیے

بشکریہ اردو کالمز