مملکت خداد میں لاپتہ افراد, جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے مسائل بہت پرانے ہیں-
جبری گمشدگیوں , حبس بے جا اور ماورائے عدالت قتل , گرفتاریوں اور اغواء کاری کے نشانہ بننے والوں میں بلوچ سب سے ذیادہ متاثر ہوئے ہیں جب کہ پختون,ہزارہ ,سندھی اور گلگت بلتسان کے باسی بھی اس ظلم کا شکار ہوئے-
ضیاء آمریت سے لیکر مشرف آمریت تک مختلف ادوار میں غیر معمولی واقعات سامنے آئے- لیکن جنرل پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں نواب اکبر خان بگٹی کے قتل اور بلوچستان کے وسائل پر قابض ہونے کے بعد سے بلوچستان میں قتل و غارت کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے-
نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بگٹی اور مری قبائل کے رہنماوں کو یا تو مارا گیا , یا وہ ملک بدر ہوئے یا قتل ہونے کی ڈر سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے- اکبر بگٹی مرحوم کے بیٹوں اور نواسوں سمیت مری قبائل کے سرداروں نے جلا وطنی اختیار کی اور ریاست پاکستان سے آزاد بلوچستان کا مطالبہ کیا جو کہ تاحال موجود ہے-
اور تب سے بلوچستان میں آزاد بلوچستان تحریک , بلوچ لبریشن آرمی,بلوچ لبریشن فرنٹ, بلوچ لبریشن موومنٹ تنظیموں, سکیورٹی فورسز پر حملوں کے شروعات ہوئے- لیکن ان حالات نے کیوں جنم لیا, اسکا جواب بہت سادہ ہے- آمروں نے بلوچستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کیا, بلوچوں کو ان کے وسائل میں حصہ دینے سے محروم رکھا,
بلوچ سرداروں کو یا تو بزور بازوں رام کیا , نواب اکبر بگٹی اور مری قبیلے کے سرداروں پر ملک دشمنی اور دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر قتل کیا گیا اور جو بچ گئے انہوں نے ملک چھوڑ کر آزاد بلوچستان کے لیئے جدوجہد شروع کی-
جبکہ دوسری جانب ریاست کی جانب سے ان کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا نہ ہی بلوچوں کو اپنا سمجھا گیا - بلکہ الٹا انہی کے وسائل کو لوٹا گیا-
بلوچستان میں قدرتی گیس, سونے اور کوئلے پر ہاتھ صاف کیا گیا لیکن بلوچستان کے لوگوں کو اس میں کوئی حصہ نہیں ملا-
قدرتی گیس بلوچستان سے نکلتا ہے اور سارے پاکستان کو مہیا کیا گیا ہے لیکن کوئیٹہ شہر اور سرکاری املاک کے علاوہ بلوچوں کو گیس مہیا نہیں ہے, ایک آدمی کے گھر کے سامنے سے گیس پائپ گزرتا ہے لیکن وہ اس سے مستفید نہیں ہوسکتا-
اسی طرح اربوں روپے کے کوئلہ نکلتا ہے لیکن عام بلوچوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں-
ریکوڈیک کو ہر دور میں ریاستی بڑوں نے اپنے پیٹ بھرنے کے لیئے استعمال کیا لیکن بکوچستان کے باسیوں کو نظرانداز کیا گیا-
بلوچستان کے ساتھ قیام پاکستان سے لیکر اب تک پرائیوں جیسا سلوک جاری ہے-
نہ کوئی مربوط نظام صحت,نہ ہی تعلیم پر کوئی خاص توجہ, پینے کے صاف پانی سے لیکر بجلی اور گیس تک کا نظام تباہ حال ہے-
کاروبار کے کوئی مواقع نہیں, تعلیم کی کمی کی وجہ سے ملازمت ندارد-
بلوچستان کے لوگ آج بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں-
جبکہ بلوچستان کے بعض غلام سرداروں اور سیاستدانوں نے بھی آج تک صرف بلوچستان کے نام پر سیاست کرکے, ووٹ لیکر اپنے اقتدار کو دوام بخشا ,نہ کہ اپنے عوام کے مسائل, ان کے حقوق کے لیئے کھڑے ہوئے ہو- بلکہ کرسی کے خاطر آمروں کے جھولیوں میں گرتے اور فروخت ہوتے آئے ہیں-
یہ وہ محرومیاں ,ریاستی جبر اور رویہ ہے کہ جس کی وجہ سے بلوچستان آہستہ آہستہ ہمارے ہاتھوں سے جارہا ہے-
اور ظاہر ہے جب آپ کسی کو اپنا نہیں مانیں گے, ان کے بڑوں بزرگوں کو قتل کرینگے, ان کے وسائل کو لوٹ کر ان کو کوئی حصہ نہیں دینگے, ان کے قیمتی زمینوں پر قابض ہونگے, ان کے وسائل پر قابض ہونگے, جب بلوچوں کو گھروں سے زبردستی اٹھایا جائے اور پھر بوتی بند لاش سڑک پر ملیں-
جب جبری گمشدگیوں , ماورائے عدالت قتل کے خلاف آواز اٹھانے والوں اور اپنے آئینی اور قانونی حقوق مانگنے والوں کو غدار اور دہشت گرد قرار دینگے تب ایسا محروم طبقہ, ایسی قوم , ایسے لوگ نہ تو کھبی آپ کے ملک اور ریاست کو زندہ باد کہیں گے اور نہ ہی آپ کے ساتھ رہنا چاہیں گے- پھر آپ کا دشمن ان کا دوست بھی ھوگا اور انہیں سپورٹ بھی کریں گے- پھر آپ پر حملے بھی ہونگے آزادی کی تحریک بھی چلے گی-
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ پانچ روز سے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج جاری ہے-
مظاہرین جو بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے اسلام آباد آئے ہیں اور نیشنل پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاجی کیمپ لگایا ہوا ہے اور اپنے پیاروں کے بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں-
بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ان کے جن رشتہ داروں , باپ, بھائی , بیٹوں , شوہر کو سکیورٹی فورسز نے اٹھایا ہے ان کو عدالت میں پیش کیا جائے, اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف عدالت میں ثبوت پیش کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے, لیکن جو افراد بے گناہ ہے ان کو رہا کیا جائے-
بلوچ مظاہرین میں ذیادہ تعداد میں عورتیں اور بچے شامل ہیں جن کے والد, باپ,بیٹا یا شوہر لاپتہ ہیں-
ایک بلوچ ماں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ان کے بیٹے کو گھر سے اٹھایا تھا لیکن دو سال سے اس کے زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی خبر نہیں-
وہ ماں روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ اگر اس کے بیٹے کو مارا گیا ہے بھی تو اسکو بتایا جائے کہ وہ اسکا اور انتظار نہ کریں-
اسی طرح ایک معصوم بچی کے ہاتھ میں اپنے والد کا تصویر ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا اور مطالبہ کررہی تھی کہ اس کے والد کو رہا کیا جائے-
اسی طرح حسیبہ قمبرانی جو کہ بلوچ لاپتہ افراد کے حوالے سے ایکٹیو ہے اور سوشل میڈیا پر اسکو جانا اور پہچانا جاتا ہے- حسیبہ قمبرانی کے دو بھائی جو کہ پیشے کے لحاظ سے درس و تدریس سے منسلک تھے گزشتہ کئ سالوں سے لاپتہ ہے جنہیں سکیورٹی فورسز نے اپنے گھر سے اٹھایا تھا, لیکن حسیبہ قمبرانی کے مطابق ابھی تک انکے زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی اطلاع نہیں اور نہ ہی سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس کو اپنے بھائیوں سے ملنے کی اجازت دی جارہی ہے اور نہ ہی ان کے احوال کے متعلق اس کو خبر دی جارہی ہے-
حسیبہ قمبرانی کے مطابق وہ حکومت, عدالت اور سکیورٹی فورسز سے بھیک مانگتی ہے کہ اس کو ان کے بھائیوں کے بارے میں بتایا جائے-
حسیبہ قمبرانی کی طرح کئ بلوچ مائیں, بہنیں , بیویاں اور بیٹیاں کئ سالوں سے اپنوں کی راہ تکتے ہوئے انتظار کررہے ہیں لیکن ان کے زخم پر کوئی مرہم رکھنے کےلیئے تیار نہیں-
پاکستان کے موجودہ حکمرانوں اور ریاست مدینہ کے دعویداروں کے وفاقی پولیس نے کل رات بلوچ مظاہرین کے خیموں کو اکھاڑ دیا اور عورتوں اور بچوں کو زبردستی احتجاجی کیمپ ختم کرنے اور وہاں سے بھگانے کی کوشش کی-
اور اب تک کے اطلاعات کے مطابق بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین اس کھلے آسمان تلے دھرنے پر بیٹھے ہیں- ان کا مطالبہ ہے کہ ان کا احتجاج تب تک جاری رہے گا , جب تک کوئی حکومتی نمائیندہ ان کے پاس آکر ان کے مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی نہیں کرتا- لیکن ریاست ,حکومت , ریاستی اور حکومتی نمائیندوں , وزیر اعظم اور وفاقی وزراء کو ان کے لیئے نہ کوئی وقت ہے اور نہ نہئں کوئی وقعت-
چار روز پہلے پشتون تحفظ مومنٹ کے رہنماء اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ ایڈوکیٹ نے بلوچ مسنگ پرسنز کے دھرنے میں شرکت کی, ان کے مطالبات ماننے کا مطالبہ کیا اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے, گرفتار کیئے گئے بلوچوں کو ان کے حقوق دینے کے مطالبات پیش کیے اور ریاست اور حکومت سے ان کے مسائل حل کرنے کی درخواست کی-
اسی طرح پشتون تحفظ مومنٹ کے بانی رہنماء منظور احمد پاشتین نے بھی بلوچ مسنگ پرسنز کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے طور پر ان کے احتجاجی دھرنے میں شرکت کی-
لیکن حکومت کی جانب سے کوئی دلچسپی دیکھنے میں نہیں آئی-
ایک مہینے پہلے کی بات ہے کہ جب بلوچ سٹوڈنٹ لیڈر کریمہ بلوچ جو کہ گزشتہ پانچ سال سے کینیڈا میں مقیم تھی اور پھر پراسرار طور پر ایک جھیل میں مردہ پائی گئ جب اس کی نعش اپنے آبائی علاقے تپ بلوچستان لائی گئ تو سیکورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں کرفیو نافذ کردی گئ- مرد حضرات کو کریمہ بلوچ کے جنازے میں شرکت کرنے سے روکا گیا-
ریاستی نمائیندوں کے مطابق کریمہ بلوچ غدار تھی, لیکن میرے خیال میں کریمہ بلوچ تو بلوچستان کی بیٹی تھی, بلوچستان کے دردمند عوام کے دلوں کی دھڑکن تھی, بلوچ عوام کے محرومیوں اور ان سے روا رکھے گئے مظالم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھی- لیکن ریاست پاکستان کے طاقتور طبقے نے مرنے کے بعد بھی اس کے لاش کی بے حرمتی کی اور نعش کو بھی اغواء کرنے کی کوشش کی-
تو کیا اس ریاستی رویے کے بعد بھی بلوچ عوام سے یہ توقع رکھا جائے گا کہ وہ اس ریاست سے مخلص ہونگے- جبکہ کریمہ بلوچ کے بھائی سمیر بلوچ اور دوست لطیف جوہر بلوچ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کریمہ بلوچ کو بھی پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے بلکل اسی طرح قتل کیا ہے جس طرح سویڈن میں مقیم بکوچ صحافی اور ایکٹیویسٹ ساجد حسین کو قتل کیا گیا تھا کہ جنہیں اغواء کرکے, نشہ دیں کر تالاب میں پھینکا گیا جس سے ان کی موت واقع ہوئی-
دوسری جانب پشتون تحفظ مومنٹ بھی پختونخواہ سمیت پورے ملک میں جبری گمشدگیوں,ماورائے عدالت قتل, اغواء کاری, حبس بےجا اور بنیادی انسانی حقوق کے لیئے جدوجہد کررہی ہے, پشتون تحفظ مومنٹ یا پی ٹی ایم کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ مسنگ پرسنز کو بازیاب کرایا جائے,اگر کسی کو قتل کیا گیا ہے تو ہمیں بتایا جائے, اگر کوئی فرد کسی جرم میں ملوث ہے تو عدالت میں پیش کرکے اور جرم ثابت ہونے پر سزا دی جائے لیکن جو بے گناہ ہے ان کو رہا کیا جائے- قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کے پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے- لیکن یہاں بھی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مصداق پی ٹی ایم کے زیر سایہ اپنے آئینی اور قانونی حقوق مانگنے والوں کے خلاف غداری کے مقدمے درج کیئے جارہے ہیں, انہیں جیلوں میں بند کیا جارہا ہے, انہیں احتجاج سے روکا جاتا ہے اور ان پر غداری اور ملک دشمنی کے ٹھپے لگائے جاتے ہیں-
آج کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی ایم رہنماوں منظور پاشتین اور محسن دواڑ کے قومی شناختی کارڈز بلاک کرنے کا حکم دیا کہ ان کے خلاف انتشار پھیلانے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ایف آئی آر درج ہیں-
جبکہ پی ٹی ایم رہنماء علی وزیر سمیت کئ کارکنان اب بھی جیلوں میں بند ہیں-
تین جنوری کو دہشتگردوں نے گیارہ بے گناہ ہزارہ افراد کو قتل کیا تو ہزارہ برادری نے سڑک پر لاشوں کو رکھ کر انصاف کا مطالبہ کیا اور مطالبہ کیا کہ جب تک وزیر اعظم اننن سے ملنے نہیں آئینگے تب تک وہ مردوں کو دفن نہیں کرینگے- لیکن حکومت ,حکومتی نمسئیندوں اور وزیر اعظم کی جانب سے لیت و لعن سے کام لیا گیا اور حتی الوسع کوشش کی گئ کہ وزیر اعظم کوئیٹہ نہ جائے لیکن جب احتجاج طویل ہوا اور ہر طرف سے لعن طعن کی گئ تو پھر بوجہ مجبوری وزیر اعظم ہزارہ برادری سے ملنے گئے-
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سی پیک منصوبے کی تکمیل سے بلوچستان کی محرومیاں ختم ہوجائے گی جو کہ تب تک نا ممکن ہے کہ جب تک بلوچستان کے عوام پر روا کئے گئے مظالم کا ازالہ کیا جائے, ان سے معافی مانگی جائے, ماورائے عدالت قتل میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے, مسنگ پرسنز کے معاملے کو حل کیا جائے- بلوچ عوام کو ان کے وسائل پر حق دیا جائے اور ان کو پورا پورا حصہ دیا جائے-
بلوچوں کے مسائل کو پوری طور پر حل کرنے کی سعی کی جائے-
ناراض بلوچ سرداروں کو منایا جائے-
جبکہ ریاست کے طاقتور محکموں کی ڈر سے پشتون تحفظ مومنٹ کی طرح بلوچوں کے مسائل اور احتجاج کو بھی کوئی میڈیا کوریج نہیں دی جارہی بلکہ الٹا انہی کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے-
اگر ایسے ہی روا رکھے گیئے رویے کو ہی دوام بخشا جاتا ہے تو یقین جانیئے کہ گوادر کے کرکٹ گراونڈ, گوادر میرین کالونی, چینیوں کے لیئے بنائے گئے کالونیوں, فوج کے افسران کے لیئے بنائے گئے شاہی محلوں اور خاردار تاروں میں گھیرے ہوئے گوادر پورٹ یا بلوچستان سے گزرنے والے سی پیک روٹ سے نہ ہی کوئی تبدیلی آنے والی ہے , نہ ترقی اور نہ ہی امن--