388

رواں سینٹ الیکشنز, جمہوریت کے نعروں میں جکڑے ووٹرز اور مقدس حکمران-

 

پنجاب میں سینٹ انتخابات میں حکومتی اور اپوزیشن نمائیندو کی بلا مقابلہ منتخب ہونے کو چوہدری برادران کی کارکردگی سمجھی جائے یا  انصافیوں کی پہلی مک مکا کا تجربہ.....

پہلے سے بندوق برداروں نے پی پی , نون لیگ اور انصافیوں کے مابین چوہدریوں کے زریعے معاملات طے کردئے ہیں کہ آپس میں لڑنے سے کچھ نہیں ھوگا, باری باری اقتدار کے مزے لو, 

پہلے پاکستان میں دو جماعتی اقتداری ٹولہ تھا, اب گیٹ نمبر چار کی وساطت سے تیسری جماعت بھی شامل کردی گئ-

تحریکی ایم پی ایز کے بھکنے کی ویڈیو آنے کے بعد اگر چہ حکمران جماعت کے ممبران کابینہ اور چیف ایگزیکٹیو صاحب نے اپنے ملوث افراد سے استعفے لیئے, سخت کاروائی کی شنید سنائی لیکن پھر آگے خاموشی-

سینٹ انتخابات شو آف ہینڈز اور اوپن بیلٹ پر کرانے کے خواہشمندوں نے دھاندلی کو روکنے اور ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنے کی بات لیکن کیا پنجاب میں کانسینٹ ہارس ٹریڈنگ نہیں کی گئ-

کیا مک مکا کرپشن , بد دیانتی اور ہارس ٹریڈنگ کے زمرے میں نہیں آتا-

کچھ معتبر آوازوں کے مطابق سینٹ میں دو جماعتوں پی پی اور انصافی جماعت کے درمیان نمبر گیم کا مقابلہ ھوگا, جبکہ نون لیگ اکثریت اور چئیرمین شپ کی دوڑ سے باہر ہے-

انصافی جماعت کی اگر چہ اکثریت بظاہر ذیادہ ہے اور سادہ اکثریت سے کامیابی یقینی ہے , لیکن دوسری جانب سینٹ کی موجودہ اکثریتی جماعت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا-

زرائع کے مطابق حکمران جماعت کو اس فیصلے پر راضی کرانے کے لیئے کام جاری ہے کہ ملک میں برسراقتدار ہونے, وفاق اور تین صوبوں میں حکمران ہونے سے آپ ہی کا بول بالا ہوگا تو اس لیئے اس لیئے مقتدر محکمے کے اس خواہش پر رضامندی ہونی چاہیئے کہ سینٹ کی چئیرمین شپ پی پی کو تفویض کی جائے- اور حکمران جماعت کے چند لوگ اگر مدمقابل کو ووٹ دیکر چئیرمین شپ دلا دیں تو کوئی فرق نہیں پڑیں گا جس طرح موجودہ چئیرمین بھی اسی جماعت کا ہے- 

سیانوں کے مطابق ابھی تک تحریکی لیڈر کی آمادگی مشکوک ہے جبکہ بھٹو کے داماد اس بات پر آمادہ ہیں کہ مقتدر حلقوں کی وساطت اور سفارش سے کرپشن کیسز ختم کرنے کے بدلے ان کی جماعت ڈپٹی چیئرمین شپ پر بھی قانع و مشکور ھوگی اور ایوان زیریں اور بالا میں ان کی جماعت مثبت اپوزیشن کی کردار نبھائے گی-

پاکستانی سیاسی نظام پر یہ بات اطہر من الشمس ہے کہ یہاں پر پسہ ہوا طبقہ , محکوم طبقہ , مفتوح طبقہ عوالناس ہے, جس کو ہر الیکشن کے وقت سبز باغ دیکھا کر سامان اقتدار کے حصول کو ممکن بنایا جاتا ہے اور ایوان اقتدار میں پہنچ کر پھر مختلف چیزوں یعنی ساری خرابیوں کی جڑ پچھلی حکومتوں کو ٹہرایا جاتا ہے- پانچ سال مختلف کیسز, جلسے جلوسوں اور دوسروں کو زمہ دار ٹہرانے میں صرف کیا جاتا ہے- اور اسی طرح آیام حکمرانی کو تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے- 

پہلے دو جماعتی فارمولا اب بھی چلا آرہا ہے, لیکن پہلے بھٹو کے وارث اور شریف فیملی کی باریاں ہوتی تھی, جبکہ اب نون لیگ کو ایم کیوں ایم بناکر چھوڑا گیا اور پی پی کے ساتھ تحریکیوں کو انٹری دی گئ-

مملکت خداداد کا نظام ایسا چلا آرہا ہے کہ یہاں پر ہوس اقتدار, اپنے خاندان کی محفوظ مستقبل, دولت جمع کرنا, طاقت کے نشے اور مراعات کو عوامی خدمات کا نام دیا گیا ہے- جس میں ایمپائر باری باری سب کو موقع دیتا ہے-

یہی وجہ ہے کہ دس سالوں میں متوقع ترقی پچاس سال میں حاصل کی جاتی ہے-

میکاولی کے مطابق ظلم, خوف و ڈر یا محبت سے حکمرانی کی جانی چاہیئے- لیکن ہمارے ہاں محکومین اور عوام کو  ذہنی کوفت, نفسیاتی مریض , بھوکا رکھ کر ان پر حکمرانی کی جاتی ہے-

بشکریہ اردو کالمز