ابراہم ماسلو اور انسانی شخصیات کی ضروریات اور خصوصیات 226

ابراہم ماسلو اور انسانی شخصیات کی ضروریات اور خصوصیات

ابراہم ماسلو ایک ایسے امریکی ماہر نفسیات تھے جنہوں نے انسانی نفسیات کے علم میں گرانقدر اضافے کیے۔ ان کے تخلیقی تحفوں میں سے ایک تحفہ یہ تھا کہ انہوں نے انسانی شخصیت کی تفہیم کا ایک نیا نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے انسانی شخصیت کی ضروریات کی درجہ بندی کی۔ وہ نظریہ HIERARCHY OF HUMAN NEEDS کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے ْ۔ اس نظریے کے مطابق ہم انسانوں کی ضروریات کو ادنیٰ سے اعلیٰ پانچ خانوں میں بانٹ سکتے ہیں اور درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ یہ نظریہ انہوں نے اپنی کتاب MOTIVATION AND PERSONALITY میں پیش کیا۔ میں اس کالم میں اس کتاب کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص پیش کرنا چاہتا ہوں۔

 

پہلا درجہ: انسان کی بنیادی جسمانی ضروریات PHYSIOLOGICAL NEEDS

 

انسان زندگی کے ارتقا میں اس مقام تک پہنچ گیا ہے جہاں اس کے جسم میں ایک ایسا نظام قائم ہو گیا ہے جو اس کے جسم کی مختلف حالتوں اور کیفیتوں میں ایک توازن قائم رکھتا ہے۔ اس توازن کے نظام کو ہم HOMEOSTASIS کا نام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ نظام خون میں پانی کی مقدار، خون میں نمک کی مقدار، خون میں شیرینی کی مقدار، خون میں آکسیجن کی مقدار میں توازن قائم رکھتا ہے۔ جب انسان کے جسم میں کسی عنصر کی کمی ہوتی ہے تو انسان کو اس چیز کی اشتہا ہوتی ہے اور وہ ایسی چیز کھاتا یا پیتا ہے جس سے اس چیز کی کمی دور ہو جاتی ہے اور توازن دوبارہ قائم ہو جاتا ہے۔ انسان کی بھوک اور پیاس کا نظام اسی توازن کا حصہ ہے جو اس کی جسمانی صحت کا ضامن ہے۔ اگر انسان کئی دنوں کا بھوکا اور پیاسا ہو اور اس کی جسمانی ضروریات پوری نہ ہو رہی ہوں تو اس کے لیے اعلیٰ ضروریات کی طرف توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسرا درجہ: انسان کی تحفظ کی ضرورت SECURITY NEED

جب انسان کی بنیادی جسمانی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں تو اس کے من میں تحفظ کی ضرورت بیدار ہوتی ہے۔ انسان پریشان نہیں رہنا چاہتا اس لیے وہ چاہتا ہے کہ وہ جہاں رہے اور جس رشتے میں رہے اس جگہ اور اس رشتے میں اسے تحفظ کا احساس ہو۔ اسے کوئی خطرہ نہ ہو اسے کسی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے تا کہ وہ ایک پرسکون زندگی گزار سکے۔

 

تیسرا درجہ: محبت کی ضرورت LOVE NEED

 

جب انسان کی بنیادی جسمانی ضروریات اور تحفظ کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے تو اس کے دل میں چاہنے اور چاہے جانے کی ضرورت بیدار ہوتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ ایسے رشتوں کا حصہ بنے جن میں اسے اپنائیت اور قربت، چاہت اور محبت کا احساس ہو۔

چوتھا درجہ: خود اعتمادی کی ضرورت SELF ESTEEM NEED

جب انسان کی بنیادی جسمانی ضروریات اور تحفظ اور محبت کی نفسیاتی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں تو اس کے من میں خود اعتمادی کی ضرورت بیدار ہوتی ہے۔ وہ عزت نفس سے زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں وہ لوگ آئیں جو اس کی عزت کریں اور اس سے احترام سے پیش آئیں۔

 

پانچواں درجہ: بہتر انسان بننے کی ضرورت اور خواہش SELF ACTUALIZING NEED

جب انسان کی بنیادی جسمانی و نفسیاتی ضروریات ہوری ہو جاتی ہیں تو اس کے دل میں بہتر انسان بننے کی خواہش ابھرتی ہے۔ پھر وہ اپنی شخصیت کی خفیہ صلاحیتوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے اور ایک بہتر انسان بننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے خوابوں اور آدرشوں پر عمل کرنا چاہتا ہے اور ان خوابوں اور آدرشوں پر عمل کر کے انسان اعلیٰ درجے کی زندگی گزارتا ہے۔

SELF ACTUALIZING PERSON کا تصور سب سے پہلے ماہر نفسیات کرٹ گولڈسٹین نے 1939 میں پیش کیا تھا جسے ابراہم ماسلو نے اپنایا آگے بڑھایا اور سنوارا اور اس نظریے میں اپنے مشاہدے تجربے اور تحقیق سے اضافے کیے۔

 
 

ابراہم ماسلو کا موقف تھا کہ اگر ہم انسانی شخصیت کی عظمت کے راز جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں نفسیاتی مسائل کا شکار لوگوں اور نفسیاتی مریضوں کی نفسیات جاننے کی بجائے صحتمند اور کامیاب انسانوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

چنانچہ ابراہم ماسلو نے صحتمند اور کامیاب انسانوں کے انٹرویو کیے اور انسانی شخصیت کی اعلیٰ ترین خصوصیات کو جاننے کی کوشش کی۔ اپنی تحقیق کے مطابق انہوں نے بہترین انسانوں کی بہترین خصوصیات کی نشاندہی کی۔ ایسے لوگوں کو انہوں نے SELF ACTUALIZED PEOPLE کا نام دیا اور ہمیں بتایا کہ ایسے انسانوں میں مندرجہ ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

پہلی خصوصیت

ایسے انسان جب دوسرے انسانوں سے ملتے ہیں تو وہ جلد ہی کھوٹے کھرے میں فرق محسوس کر لیتے ہیں۔ وہ جان جاتے ہیں کہ کون مخلص ہے اور کون دھوکے باز ہے۔ ایسے لوگ ذہین دانا اور مردم شناس ہوتے ہیں۔

 

دوسری خصوصیت

ایسے انسان حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ وہ چیزوں اور انسانوں کو ان کی فطری حالت میں قبول کر لیتے ہیں۔ وہ تعصبات سے بالاتر ہو کر زندگی کو معروضی انداز سے دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اور دوسرے انسانوں کو ان خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انسان انسان ہوتے ہیں۔ وہ نہ تو فرشتے ہوتے ہیں اور نہ ہی شیطان۔

 

تیسری خصوصیت

ایسے انسانوں کی شخصیت میں بچوں کی سی معصومیت بھی پائی جاتی ہے۔ وہ زندگی کو حیرت سے دیکھتے ہیں اور اس کی شگفتگی و شادابی سے خود بھی محظوظ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی محظوظ کراتے ہیں۔

 

چوتھی خصوصیت

ایسے انسان خود غرض نہیں ہوتے۔ وہ ذاتی نفع و نقصان سے بالاتر ہو کر دوسروں کے کام کرتے ہیں۔ وہ اگر کسی کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو اس کی مدد کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔

پانچویں خصوصیت

ایسے انسان تنہائی پسند ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ وقت گزار کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ اکیلے رہ کر بھی احساس تنہائی کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنے مشاغل میں مصروف رہ کر خوش رہتے ہیں۔

چھٹی خصوصیت

 
 

ایسے انسان نفسیاتی طور پر آزاد و خود مختار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آدرشوں پر عمل کرتے ہیں اور اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ اپنے اعلیٰ مقاصد کے لیے یکسوئی سے کام کرتے ہیں۔

ساتویں خصوصیت

ایسے لوگ کلیشے سے دور رہتے ہیں وہ زندگی کو نئی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور نئے نتائج نکالتے ہیں۔ وہ روایت کی بجائے دل کی بات مانتے ہیں۔

آٹھویں خصوصیت

ایسے انسان اپنے ذہن اور دل کو کھلا رکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کی نئے تجربات اور مشاہدات سے ملاقات ہوتی ہے جو ان کی زندگی کو بامعنی بھی بناتی ہے اور بامقصد بھی۔

نویں خصوصیت

ایسے انسان بنیادی طور پر ہمدرد ہوتے ہیں۔ وہ بغیر کسی لالچ کے دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور دوسرے انسانوں کا خیال رکھتے ہیں۔

دسویں خصوصیت

 

ایسے انسان منکسرالمزاج ہوتے ہیں۔ وہ اپنے رتبے اور شہرت اور علمیت کے باوجود عاجزی و انکساری کا پیکر ہوتے ہیں۔ وہ دوسرے انسانوں سے عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔

گیارہویں خصوصیت

ایسے انسان مذہبی انسان نہ ہونے کے باوجود اعلیٰ اخلاق رکھتے ہیں اور دوسرے انسانوں کی بے لوث خدمت کرتے ہیں۔

بارہویں خصوصیت

ایسے انسانوں کے رشتوں میں گہرائی پائی جاتی ہے اور ان کے رشتے دیرپا ہوتے ہیں۔ ایسے انسان محبت کے رشتوں میں بھی اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہیں اور اپنے شریک حیات کی انفرادیت کا بھی احترام کرتے ہیں۔ ایسے انسانوں کے رومانوی رشتوں میں اپنائیت خلوص اور محبت کو جنس سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

تیرہویں خصوصیت

ایسے انسان اعلیٰ اقدار اور آدرشوں کی روشنی میں زندگی گزارتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ وہ اپنے اعلیٰ مقاصد کے لیے قربانیاں دیتے نہیں گھبراتے۔ وہ خود بھی ایک اعلیٰ سطح پر زندگی گزارتے ہیں اور دوسرے انسانوں کو بھی بہتر انسان بننے کی ترغیب و تحریک دیتے ہیں۔

بشکریہ ہم سب