ڈیجیٹل دور میں روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے طریقے بھی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ چین میں حالیہ عرصے کے دوران روزگار کے شعبے میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے، جہاں روایتی بھرتی کے طریقوں کے بجائے آن لائن پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت، جدید مہارتوں اور صنعت کی ضروریات کے مطابق روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے براہِ راست آن لائن بھرتی مہمات اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہیں۔
جون میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی آن لائن بھرتی مہم میں سوشل میڈیا شخصیات کے بجائے چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے انسانی وسائل کے منتظمین براہِ راست سامنے آئے، جہاں انہوں نے ملازمتوں کے مواقع، تنخواہوں، پیشہ ورانہ ترقی اور کمپنی کے ماحول سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ اس دوران ناظرین کو ورچوئل انداز میں دفاتر کا دورہ بھی کرایا گیا جبکہ نوجوان ملازمت کے خواہش مند افراد کو ماہرین کی جانب سے فوری رہنمائی فراہم کی گئی۔
یہ سرگرمی چین کی وزارتِ انسانی وسائل اور سماجی تحفظ کی جانب سے شروع کی گئی ایک ماہ طویل آن لائن بھرتی مہم کا حصہ تھی، جس میں پانچ ہزار سے زائد انٹرنیٹ کمپنیوں نے شرکت کی اور دو لاکھ سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع پیش کیے گئے۔
نوجوانوں کے مطابق اس طرح کی آن لائن بھرتی سرگرمیوں سے کمپنیوں اور ملازمت کے متلاشی افراد کے درمیان معلومات کا فرق کم ہو رہا ہے، جس سے امیدوار اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مطابق بہتر مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔
چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس مہم میں نمایاں طور پر شامل رہیں۔ بعض بڑی کمپنیوں نے ٹیکنالوجی، فروخت، مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، لارج لینگوئج ماڈلز اور اے آئی سرچ سمیت مختلف شعبوں میں ہزاروں ملازمتوں کا اعلان کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ آن لائن بھرتی مہم چین کے روزگار کے شعبے میں جاری وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ رواں سال لاکھوں یونیورسٹی گریجویٹس روزگار کے میدان میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کی تیز رفتار ترقی نے ملازمتوں کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ کچھ روایتی شعبوں میں طلب کم ہو رہی ہے، جبکہ نئی ٹیکنالوجیز سے متعلق زیادہ مہارت رکھنے والے افراد کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چین نے نوجوانوں کے لیے روزگار معاونت کے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔ مرکزی سطح پر ایک قومی روزگار معاونتی مہم کے تحت گریجویٹس اور نوجوان ملازمت کے متلاشی افراد کو پیشہ ورانہ مشاورت، ملازمتوں سے رابطہ، تربیت اور انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
مقامی حکومتیں اور تعلیمی ادارے بھی اس عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں روزگار کے مسائل کا سامنا کرنے والے گریجویٹس کے لیے خصوصی معاونتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جبکہ یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعاون بڑھایا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کو صنعت کی حقیقی ضروریات سے آگاہ کیا جا سکے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی روزگار کی بدلتی ضروریات کے مطابق اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے نئے تعلیمی شعبے متعارف کرائے گئے ہیں جن کا تعلق توانائی، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی مینوفیکچرنگ اور دماغی کمپیوٹر ٹیکنالوجی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں سے ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مختصر دورانیے کے خصوصی تعلیمی پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ اپنی روایتی تعلیم کے ساتھ جدید صنعتی مہارتیں حاصل کر سکیں۔ مثال کے طور پر بعض یونیورسٹیوں میں طلبہ کو مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اور ذہین نگرانی جیسی ٹیکنالوجیز سے متعلق اضافی کورسز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وزارتِ تعلیم کے مطابق طلبہ کو صنعت سے متعلق مہارتیں فراہم کرنے کے لیے مائیکرو میجرز اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کا آغاز کیا گیا ہے، جن سے اب تک لاکھوں طلبہ فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ رواں سال مصنوعی ذہانت، کم بلندی پر پرواز کرنے والی معیشت اور ذہین مربوط گاڑیوں جیسے شعبوں میں مزید پروگرام شامل کیے گئے ہیں۔
چینی حکومت نے روزگار کو مستقبل کی اقتصادی ترقی کے اہم حصے کے طور پر دیکھتے ہوئے ایک پانچ سالہ روزگار منصوبہ بھی متعارف کرایا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کے دور میں روزگار کے نئے تقاضوں کے مطابق پالیسی سازی پر زور دیا گیا ہے۔
تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی دنیا میں روزگار کے مواقع بھی نئی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ چین کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ صنعتی ترقی، تعلیمی اصلاحات اور روزگار پالیسیوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کر کے نوجوانوں کو مستقبل کی معیشت کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے دور میں کامیابی کا انحصار صرف ملازمتوں کی تعداد پر نہیں بلکہ ایسی مہارتوں کی تیاری پر بھی ہے جو آنے والے وقت کی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہوں۔
