چند دن گذرے ہیں پاکستان مسلم لیگ کے ایک بہت سینئر اور بزرگ سیاستدان کے ذریعے علم ہوا کہ انہوں نے اپنے قائد میاں نواز شریف کو یہ پیغام بھیجا کہ جناب میاں صاحب کیا ہم انتقام کی سیاست کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی فرما کر اپنی حکمت عملی پر غور کریں کیونکہ ہر وقت محاذ آرائی کی سیاست بہتر حکمت عملی نہیں ہے۔ ہمیں درمیانی راستہ اپنانا چاہیے، اداروں میں محاذ آرائی یا مقدمات کی حکمت عملی سے ملک و قوم کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ہم دہائیوں سے ایسے مقدمات، بیانات، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنی توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک بزرگ اور سینئر ساتھی سیاست دان کی طرف سے میاں نواز شریف کو ایسا پیغام جانے کی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ ن کے قائد نے مسلسل ریاستی اداروں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے حوالے سے بیانات دے رہے تھے، وہ اداروں کے حوالے سے سخت رائے پیش کر رہے تھے، یہی وجہ تھی کہ انہیں یہ پیغام پہنچایا گیا کہ کیا ہم نے انتقام کی سیاست کرنی ہے اور اگر ہم نے یہ راستہ اختیار کرنا ہے تو ملکی سیاست کے لیے یا پھر آگے بڑھنے اور ترقی کے لیے بہتر حکمت عملی نہیں ہے۔ شاید اس پیغام اثر ہے یا انہیں کسی اور نے بھی کہا ہے جو میاں نواز شریف نے انتقام نہیں حساب کا نعرہ لگایا ہے ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ "ان کے ساتھ جو ہوا سو ہوا لیکن سزا پاکستان کو ملی ہے اور وہ انتقام نہیں چاہتے لیکن حساب لینا تو بنتا ہے۔ مجھ پر قائم مقدمات میں جان نہیں تھی، ان کا کھوکھلا پن ہائیکورٹ میں ثابت ہوا، جب ان کو پاناما میں کچھ نہیں ملا تو اقامہ نکال لیا، وہ مجھے سزا دینا چاہتے تھے کرسی سے اتارنا چاہتے تھے اورپاناما اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ ججز کی طرف سے سسیلین مافیا اورگارڈ فادر جیسے ریمارکس دیے گئے، کیا ججز کو ایسے ریمارکس زیب دیتے ہیں کہ کسی کو سسیلین مافیا کہیں، میرے خلاف ایسا فیصلہ سنایا گیا جو دنیا میں مذاق بن کر رہ گیا۔"
گذشتہ کئی روز سے میں یہ لکھ رہا ہوں اور اس کے علاوہ بھی جہاں مجھے موقع ملتا ہے اس حوالے سے بات بھی کر رہا ہوں کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، آگے بڑھنے کے لیے ہمیں ماضی سے نکلنا ہو گا، عمران خان اور فضل الرحمٰن کے حوالے سے یہ لکھا پھر بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے لکھا اس کے بعد میاں نواز شریف کو آگے بڑھنے کا مشورہ دیا لیکن آج پھر اسی موضوع پر دوبارہ لکھ رہا ہوں کیونکہ میں واضح طور پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہماری سیاسی قیادت ایک مرتبہ پھر ماضی میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر عام انتخابات میں حصہ لینے جا رہی ہے ۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ اصولی طور پر یہ ہونا چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کو مستقبل کی بنیاد پر عام انتخابات کی طرف بڑھنا چاہیے، ہر وقت مستقبل کی بات کرنی چاہیے، مستقبل کیسے سنوارنا ہے اس حوالے سے منصوبہ بندی ہونی چاہیے، ترقی کیسے ہو گی ، یہ پلان سامنے آنا چاہیے، پاکستان کے رہنے والوں کو یہ بتایا جائے کہ ان کے بنیادی مسائل کیسے حل ہوں گے لیکن اس کے بجائے ساری گفتگو ستر کی دہائی میں یہ ہوا، اسی کی دہائی میں یہ ہوا، نوے کی دہائی میں یہ ہوا، دو ہزار کی دہائی میں یہ ہوا، دو ہزار دس سے دو ہزار بیس کے دوران یہ ہوا، ہم کب اس گھن چکر سے باہر نکلیں گے ، ہم کب آگے بڑھیں گے۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم ماضی سے نکلیں، آگے بڑھیں، دیکھیں اگر فریقین ایک دوسرے کے خلاف مواد اکٹھا کرتے رہیں گے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور سزا دلانے کے مشن پر ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات سے پہلے بھی قوم اسی کرب سے گذر رہی تھی آج پھر وہی حالات ہیں۔ دنیا آگے جا رہی اور ہم پیچھے کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ دو ہزار سات، آٹھ میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور دو ہزار تیرہ میں مسلم لیگ ن اور دو ہزار اٹھارہ میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ان تینوں جمہوری حکومتوں میں معیشت کہاں سے کہاں پہنچی، ریاستی اداروں میں کہاں بہتری ہوئی اور کہاں خرابی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، کیا اس کا بھی حساب ہو گا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے سروے 2023 سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس سب سے زیادہ کرپٹ ہے اس کے بعد ٹھیکے دینے اور کٹریکٹ کرنے کا شعبہ اور پھر عدلیہ ہے ۔ تعلیم اور صحت کے شعبے بالترتیب چوتھے اور پانچویں کرپٹ ترین شعبے ہیں۔ مقامی حکومتیں، لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ کسٹم، ایکسائز اور انکم ٹیکس بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں کرپٹ ترین ادارے ہیں۔ پبلک سروس ڈیلیوری کی ٹرمز کے مطابق عدلیہ میں رشوت کا اوسط خرچ سب سے زیادہ 25 ہزار 846 روپے ہے۔ خیبر پختونخوا میں اوسط رشوت سب سے زیادہ تھی اور یہ ایک لاکھ 62 ہزار روپے تک تھی۔ پنجاب میں اوسط شہری نے زیادہ سے زیادہ رشوت 21 ہزار186 روپے ادا کی اور یہ بھی پولیس کو دی جبکہ بلوچستان میں صحت کی سہولتوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اوسط رشوت دی گئی جو کہ 1 لاکھ 60 ہزار روپے تھی۔ اڑسٹھ فیصد پاکستانیوں کو یقین ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ سروے کے مطابق ساٹھ فیصد پاکستانی قومی سطح پر محسوس کرتے ہیں کہ نیب، ایف آئی اے، اے سی ای اور محتسب جیسے احتسابی ادارے ختم کر دینے چاہئیں کیونکہ یہ سب ادارے بدعنوانی کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
جناب میاں نواز شریف اور ان کے ساتھی سیاست دان اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین اس تنزلی و تباہی کا کوئی جواب دیں گے، کیا اس تباہی کا حساب نہیں ہونا چاہئے، جب اس حوالے سے کوئی پوچھے گا تو سیاست دان شور مچاتے ہیں کہ انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پھر جمہوریت خطرے میں آتی ہے، پھر بنیادی انسانی حقوق کا شور بلند ہوتا ہے، یہ ایک سروے ہے اگر سیاسی حکومتوں میں ہونے والے تباہی کے مکمل تفصیلات سامنے آئیں تو پھر شاید کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا۔ غلطیاں سب سے ہوئی ہیں اور خامیاں بھی ہر جگہ ہیں لیکن کیا ہم آج بھی اپنا وقت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں ہی ضائع کریں گے یا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ماضی کہ غلطیوں کو نہ دہرانے کا عزم کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔ ایک احتسابی تحریک کے کام اور اس کا انجام سب کے سامنے ہے باقی جس کا جو دل ہے کرتا رہے۔ تباہی تو ہم ہر روز دیکھتے ہیں جانے کب تک دیکھیں گے کیونکہ جو صاحب اختیار ہیں یا صاحب اقتدار ہونے والے ہیں ان کی طرف سے تو ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
آخر میں احمد مشتاق کا کلام
یہ ہم غزل میں جو حَرف و بیاں بناتے ہیں
ہوائے غم کے لیے کِھڑکیاں بناتے ہیں
ہمارا کیا ہے جو ہوتا ہے جی اْداس بہت
تو گْل تراشتے ہیں ، تِتلیاں بناتے ہیں
انہیں بھی دیکھ کبھی اے نگارِ شامِ بہار
جو ایک رنگ سے تصویر جاں بناتے ہیں
نگاہِ ناز !! کچھ اْن کی بھی ہے خبر تجھ کو؟
جو دْھوپ میں ہیں مگر بدلیاں بناتے ہیں
کسی طرح نہیں جاتی فسْردگی دل کی
تو زرد رنگ کا اِک آسماں بناتے ہیں
دِلِ ستم زدہ کیا ہے؟ لہو کی بْوند تو ہے
اْس ایک بْوند کو ہم بیکراں بناتے ہیں
بلا کی دْھوپ تھی دِن بھر تو سائے بْنتے تھے
اندھیری رات ہے چنگاریاں بناتے ہیں
ہنر کی بات جو پْوچھو تو مختصر یہ ہے
کشید کرتے ہیں آگ اور دْھواں بناتے ہیں
احتساب، انتقام یا کچھ اور ؟؟؟؟