قارعین آج ہم آپ کو مسئلہ فلسطین کی تاریخ کے حوالے آگاہ کرنا چا رہے ہیں آخر اس جا تاریخی پس منظر کیا ہے-
پانچویں صدی ہجری کے آخر میں متحدہ صلیبی فوجوں نے حملہ کر کے بیت المقدس پر پھر قبضہ کر لیا ,جسے بعد میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے80 برس کے بعد قبضہ چھوڑا کے اس پر اسلامی پرچم لہرایا۔ اس کے بعد فلسطین ایک مسلم ریاست کے طور پر اسلامی امہ کا حصہ رہی ہے۔ ترکی کے سلطان سلیم اول نے1518ء میں اس پر قبضہ کر کے سلطنت عثمانیہ میں شامل کیا اور چار سو سال تک فلسطین خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ رہا۔ اس دوران یہودیوں کی مسلسل کوشش رہی کہ وہ بیت المقدس میں داخل ہوں اور وہاں آباد ہو کر اسرائیلی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کریں مگر خلافت عثمانیہ نے اس کا راستہ نہیں دیا-
سلطان عبد الحمید ثانی کے دور میں یہودیوں کی عالمی تنظیم نے باقاعدہ پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دے دی جائے تو وہ خلافت عثمانیہ کے سارے قرضے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر سلطان عبد الحمید نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
جس کے نتیجے میں نہ صرف سلطان عبد الحمید کو خلافت سے محروم ہونا پڑا بلکہ کچھ عرصہ بعد خلافت عثمانیہ کا ہی تیاپانچہ کر دیا گیا۔پہلی جنگ عظیم میں یہودیوں نے جرمنی کے خلاف برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ دیا جس کی شرائط میں یہ شامل تھا کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کیا جائے اور انہیں وہاں آباد ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ چنانچہ جنگ عظیم میں جرمنی اور اس کی حلیف سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور اس پر اپنے اقتدار کا اعلان کر دیا۔1918ء کو ’’اعلان بالفور‘‘ کے ذریعے برطانیہ نے فلسطین کو یہودیوں کا وطن تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور فلسطین کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد ایک برطانوی یہودی کو ہائی کمشنر مقرر کیا جس نے فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری کی راہ ہموار کی۔
امریکہ کی یہودی تنظیموں نے اس مقصد کے لیے کروڑوں ڈالر مہیا کیے جس کے ذریعے یہودی دنیا کے مختلف حصوں سے آ کر فلسطینیوں سے زمینیں خریدنے لگے۔اس دوران عالم اسلام کے سرکردہ علماء کرام نے اپنے فتاوٰی کے ذریعہ فلسطینیوں کو اپنی زمینیں یہودیوں کے ہاتھ بیچنے سے روکنے کی کوشش کی، مگر فلسطینیوں نے اس کی پروا کیے بغیر یہودیوں پر اپنی زمینیں بیچنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ جس کے نتیجے میں چند سالوں میں لاکھوں یہودی فلسطین میں آگئے اور انہوں نے اپنی باقاعدہ مسلح تنظیمیں قائم کر لیں۔ ان کے مقابلے میں فلسطینی بھی منظم ہوئے جس سے باہمی فسادات اور قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
1948ء میں برطانیہ نے اقوام متحدہ کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اقتدار چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک حصہ یہودیوں کو دے کر ان کی خودمختار سلطنت کو تسلیم کر لیا گیا۔ جبکہ دوسرا حصہ عرب ریاست قرار دیا گیا۔ اس موقع پر اردن نے بیت المقدس اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا جس سے بیت المقدس اردن کی تحویل میں چلا گیا، اور ۱۹۶۷ء تک بیت المقدس پر اردن کا اقتدار قائم رہا۔۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے ان تینوں ملکوں کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا جس سے مسلمانوں کا قبلہ اول ایک بار پھر غیر مسلموں کی تحویل میں چلا گیا۔۱۹۷۳ء میں ایک اور عرب اسرائیل جنگ میں مصر نے کچھ مقبوضہ علاقے اسرائیل سے واپس لے لیے لیکن بیت المقدس سمیت بہت سے دیگر مقبوضہ علاقے اسرائیل ہی کے پاس چلے آرہے ہیں۔
اس وقت اسرائیل اور فلسطین کے حوالہ سے تین موقف عالمی رائے عامہ کے سامنے ہیں۔
ایک موقف اسرائیل کا ہے جسے امریکہ کی مکمل اور عملی پشت پناہی حاصل ہے کہ اس نے اب تک جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے وہ اس کا حصہ ہیں، اور وہ بیت المقدس سمیت کوئی علاقہ خالی کرنے کو تیار نہیں۔ حتٰی کہ بیت المقدس کو اسرائیل نے دارالحکومت قرار دے رکھا ہے، بلکہ عظیم اسرائیل کے مستقبل کے حوالے سے جو نقشے شائع ہو رہے ہیں اور ان میں مصر، عراق، شام اور سعودی عرب کے مدینہ منورہ اور خیبر سمیت بہت سے علاقوں کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں تک اسرائیلی ریاست کو توسیع دینا عالمی صہیونی تحریک کے عزائم میں شامل ہے۔دوسرا موقف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صورت میں ہے جن میں ۱۹۴۸ء کے دوران فلسطین کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کی حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے، اور اس کے بعد اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے، اسرائیل سے ان علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گویا ان قراردادوں کے ذریعے فلسطین کے ایک حصہ میں قائم اسرائیلی ریاست کو جائز تسلیم کرتے ہوئے اسرائیل سے تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرے اور ۱۹۶۷ء کی جنگ میں جن علاقوں پر اس نے قبضہ کیا تھا وہ انہیں خالی کر دے۔ ترکی، اردن اور مصر سمیت بہت سے مسلم ممالک کا موقف یہی ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے۔تیسرا موقف سعودی عرب اور پاکستان سمیت بہت سے دیگر مسلم ممالک کا ہے کہ سرے سے اسرائیل کا قیام ہی ناجائز ہے، کیونکہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور علاقوں سے بے دخل کر کے ان پر انگریزوں نے یہودیوں کا غاصبانہ قبضہ کرایا تھا اس لیے اسرائیل کو ایک قانونی اور جائز ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اور عرب اسرائیل تنازعہ کا فیصلہ ۱۹۴۸ء کی پوزیشن پر نہیں بلکہ ۱۹۱۷ء کی پوزیشن پر کیا جانا چاہیے جب فلسطین ایک عرب اور مسلم ریاست کے طور پر متحد تھا۔ اس موقف کو سعودی سلطنت کے بانی ملک عبد العزیز آل سعود نے ۱۹۴۸ء میں امریکی صدر ٹرومین کے ایک دھمکی آمیز خط کے جواب میں دوٹوک طور پر واضح کیا تھا۔ صدر ٹرومین نے اپنے خط میں شاہ عبد العزیز والی سعودی عرب سے کہا تھا کہ وہ عربوں سے اسرائیل کو تسلیم کرانے اور فلسطین کی تقسیم کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کو قبول کرانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں، ورنہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم نہ کرنے والوں پر مختلف ممالک متحد ہو کر فوج کشی بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں سعودی عرب کے فرمانروا اور شہزادہ عبد اللہ کے والد محترم ملک عبد العزیز آل سعود نے ٹرومین کو لکھا تھا کہ:
’’فلسطین کی جنگ کوئی پرانی جنگ نہیں جیسا کہ آپ کا خیال ہے۔ بلکہ یہ اس کے اصل حقدار عرب قوم اور ان صہیونی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی ہے جو فلسطینیوں کی چاہت کے علی الرغم عالمی سلامتی کے قیام کا دعویٰ کرنے والے چند ایک ملکوں کی مدد سے اپنا قبضہ جمانے کی کوشش میں ہیں۔ نیز فلسطین کو تقسیم کرنے کی منظور کردہ قرارداد، جس کو مختلف ملکوں سے منظور کروانے میں آپ کا رول نمایاں رہا ہے، محض ظلم و نا انصافی پر مبنی ایسی قرارداد ہے جس کو ابتدا ہی سے تمام عرب ممالک نے، نیز ان ملکوں نے بھی رد کر دیا ہے جو حق کا ساتھ دے رہے ہیں"-