بلاشبہ آئین پاکستان کے سکہ بند تقاضے کے مطابق کہ:’’منتخب اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن متعلقہ سرکاری اداروں کی معاونت حاصل کرتے ہوئے 90روز میں نئی اسمبلی وجود میں لانے کیلئے انتخاب کرانے کا پابند ہے‘‘۔ لیکن جاری پی ڈی ایم دور میں زرداری کی سرپرستی میں پنجاب اسمبلی کے درپے ہو کر اسے اپنا بنانے کی اتحادیوں کی سیاسی معرکہ آرائی کے جواب میں حکمران جماعت پی ٹی آئی نے بھاری فریش مین ڈیٹ حاصل ہونے کے یقین پر سات آٹھ ووٹوں کی اکثریت پر ڈگمگاتی پنجاب اسمبلی کو خود توڑ کر الیکشن میں جانے کا عملی قدم اٹھایا۔ پورے اعتماد سے خیبر پختونخوا اسمبلی بھی وفاق، حکومت پر دبائو بڑھانے اور اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کیلئے تحلیل کردی گئی۔ عمران خان اور کسی کو بھی معمولی وہم و گمان بھی نہ تھا کہ پی ڈی ایم اور اسکی وفاقی حکومت، ایسی صورت میں آئین کے تقاضے پورے کرنے میں ایسا سیاسی کھلواڑ مچائے گی کہ الیکشن کمیشن جسکی غیر جانبداری، پی ڈی ایم کے حق اور پی ٹی آئی کیخلاف عوام کی نظر میں مشکوک ہوتی جارہی تھی، اپنے حکومتی سیاسی حربوں سے کمیشن کے بنیادی فریضے کی ادائیگی میں اسے پکڑ کی فکر سے آزاد کرکے پہاڑ جیسی رکاوٹ بن جائیگی، لیکن ایسا ہوگیا۔ کمیشن اور آئین کی یہ پابندی کتنی ناگزیر اور جاندار تھی اسکا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آئین سے انحراف کرکے بھی الیکشن سے بچنے کے پختہ منفی ارادے کے باوجود، عدلیہ کو آئین کی پابندی کرانے کا نوٹس لینا پڑا، سو اپنی سیاسی کھال بچانے اور کسی بڑی قانونی پکڑ سے بھی بچنے کیلئے اسے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی نگران حکومتوں کا قیام تو کرنا پڑا۔ جب یہ ہوگیا تو یہ خدشہ اور تجزیوں و اندازوں کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اب سپریم کورٹ کے فیصلے (حکم) کے مطابق 14مئی کے انتخاب (جس کی تاریخ الیکشن کمیشن کے گریز پر خود عدالت کو دینی پڑی) کا انعقاد بھی روکا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہوگیا۔
یہ اطلاق آئین کی 1973ء سے جاری مسلسل خلاف ورزیوں کی انتہائی شکل ہے جو میثاق جمہوریت کے علمبرداروں نے بنائی۔ کون جانتا تھا کہ سپریم کورٹ کے انتظامی سیٹ اپ (نہ جانے کس بنیاد پر) میں بھی بارودی سرنگیں بچھی ہوئی تھیں۔ سپریم کورٹ سے 14 مئی تک انتخاب کے انعقاد کا فیصلہ آتے ہی بنچ کی تشکیل پر متنازعہ بنائے اعداد کے شرانگیز اعتراض کرکے اک طوفان مچا دیا گیا۔ فائر اندر سے ہی ہوا اور وزیر قانون، داخلہ و اطلاعات تک اپنی سیاسی کمیونیکیشن کی ہائی فرکوئنسی میں سپریم کورٹ کے پریکٹنگ آرڈر کو چیلنج کرکے فیصلوں کی من مانی وضاحت کرنے لگے۔ اس سے آئین تو ٹوٹا ہی سپریم کورٹ خود جج صاحبان کے ہاتھوں تقسیم ہو کر عوام الناس میں اپنی ساکھ، اعتبارو وفار پر بٹہ لگا بیٹھی۔ اس ساری بنتی صورتحال کا سب سے زیادہ ردعمل پیپلز پارٹی کے دو نامور اور باوقار بیرسٹر صاحبان چودھری اعتزاز احسن، جناب لطیف کھوسہ کی طرف سے اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ملک بھر کے وکلا کی طرف آیا۔ قارئین کرام! اب جو وزیراعظم اگست میں قومی اسمبلی تحلیل کرکے آئین کے مطابق 90یا 60روز تک الیکشن میں جانے کے ارادے کے واضح اعلانات مختلف تقاریب میں کر رہے ہیں، لیکن انکے یہ اعلانات بھی کوئی معمول کی انتخابی فضا بناتے معلوم نہیں دے رہے، وجہ یہ کہ موجود حکومت کی آئین شکنی، عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد میں دھڑلے سے رکاوٹ بننے اور سپریم کورٹ کی کارروائی اور فیصلوں کیخلاف اسکی حیران کن غیر آئینی و قانونی مزاحت اس پس منظر کی انتہا ہے، گویا پس منظر، پیش منظر سے جڑا ہوا ہے، اور اسکی تمام تر منفی تفصیلات میں ہی الیکشن کی طرف جانے، نگران حکومت کے قیام کے فیصلے، وزیراعظم کون بنے گا؟ پی ڈی ایم کو کیسی بندر بانٹ پر قائم رکھا جاسکتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر عمران کو کیونکر نااہل اور میاں نواز شریف کو اہل کرایا جائے؟ اور پی ٹی آئی کی شرکت کو آنیوالے انتخاب میں کیسے کم تر اور غیر موثر بنایا جائے کے حتمی فیصلوں کی دماغ سوزی دبئی میں ہو رہی ہے۔
کسی بھی انتخابی مہم کی تیاری اور نہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ ملاحظہ ہو کہ یہ کیسا انتخاب ہوگا جس کی انتخابی مہم میں ملک کا سب سے پاپولر لیڈر اور جماعت کی تشریح بمطابق حجم اور مقبولیت نہ ہو۔ حکومتی سیٹ اپ جو آئین شکنی، قانون کی اپنی ہی تشریح، سیاسی کھلواڑ، الیکشن کمیشن کو موم کی ناک اور مکمل مرضی کی نگران حکومت کی غیر آئینی مدد اور تعاون ٹیلر میڈ الیکشن کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہے۔ اس غیر جمہوری ہی نہیں فسطائیت اور کھلواڑ میں عوام الناس اپنی جگہ کیسے بنائیں؟ بریانی پلائو کے زور پر بھی اپنے انتخابی جلسے سجانا آسان نہیں رہا تو یہ ہوا تو پی ٹی آئی کے ورکرز ووٹرز کے بڑے شور سے نکلنے کا دھڑکا اور ان کیساتھ مہنگائی کے ماروں کو آ کر مل جانے کا خطرہ کوئی نہیں، سو حکومت پھونک پھونک کر بھی جہاں ضرورت ہو وہاں دیدہ دلیری اور دھڑلے سے سب کچھ کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے۔ لیکن اسکی احتیاط بھی قدم قدم پر ہے۔ الیکشن کب؟ کا جواب بھی وزیر اعظم کے غیررسمی لیکن واضح اعلانات کے باوجود ابھی پختہ نہیں کہ تجزیہ نگار اسے جناب نواز شریف کی محال ہوئی آمد سے جوڑ رہے ہیں، دلیل یہ ہے کہ اگر وہ مکمل مرضی کی قانون سازی اور کھلی آئین شکنی کے اپنے دور میں بھی نہیں آسکے تو کوئی تو بڑی ٹھوس حقیقت ہے جو انہیں آنے سے روکے ہوئے ہے اور انکے بغیر، ن لیگ کی جانب سے تو الیکشن کا انعقاد ہر گز بنتا ہی نہیں۔ ایسے میں یہ کب الیکشن؟ کا جواب کھلنے کے باوجود مخمصہ تو بنا ہوا ہے۔
اب خان کو ہومیوپیتھک مقدمات توشہ خانہ اور عبدالقادر ٹرسٹ میں کیسے سزا دیکر نااہل کیا جائے؟ وہ بھی لیول پیلئنگ فیلڈ سے متصادم ہے کہ توشہ خانہ سے تین کاروں کی چوری کوئی چھوٹا سوال نہیں۔ بین الاقوامی اور خطے کی صورتحال، موجودہ حکومت کا ملکی اور دنیا اور دوستوں میں امیج، ایسے میں الیکشن بھی بمطابق آئین اور ہزاروں سیاسی قیدیوں خصوصاً ظلم و جبر میں جکڑی گئی اسیر خواتین کی رہائی کے بغیر ہونیوالے الیکشن ہماری انتہا کی اور اولین قومی ضرورتوں سیاسی و معاشی استحکام سے متصادم نہیں ہونگے؟ نگرانوں نے اگر انتخابی انتظامی نگرانی کے علاوہ پی ٹی آئی کو کچلے رکھنے کے کوئی غیر آئینی ہتھکنڈے استعمال کئے تو انتخابات کی غیر جانبداری اور شفافیت کا جنازہ ہی نہیں نکلے گا، امن عامہ کا بڑا سوال یقینی موجود ہے۔ وما علیناالالبلاغ۔