غزہ سے ہر روز پچاسوں بلکہ اس سے بھی زیادہ کلپ آتے ہیں۔ ہر کلپ درد ناک ہے لیکن اب یہ معمول اور حسب معمول کے زمرے میں داخل ہوتے جا رہے ہیں۔ 64 دن جو ہو گئے چنانچہ اب یہ پہلے کی طرح لوگوں کو ……دکھی نہیںکرتے۔ پھر بھی کوئی نہ کوئی کلپ معمول سے ہٹ کر بھی آ جاتا ہے مثلاً کل ایک ماں کا کلپ دیکھا جس کے آٹھ بچے شب گزشتہ بمباری میں مر گئے۔
وہ رو رہی تھی، بچوں کی موت پر نہیں، اس بات پر کہ وہ دو روز سے بھوکے تھے ،رات بھوکے پیٹ ہی سوئے، انہیں آخر تک انتظا رہا کہ کہیں نہ کہیں سے کھانا آ جائے گا لیکن رات کو موت بم بن کر برسی، سوتے ہوئے انہوں بھوکے بچے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ ماں یہ واقعہ سنانے کیلئے بچ گئی۔
غزہ کی دو تہائی آبادی بھوکی ہے۔ دن میں کبھی ایک بار اور کبھی دو دن میں ایک بار کھانا ملتا ہے۔ پانی بھی نہیں ملتا۔ پانی، خوراک اور دوا?ں سے بھرے سینکڑوں ٹرک مصر میں کھڑے ہیں، وہ انہیں غزہ آنے نہیں دے رہا۔
اسرائیل میں پانی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ گلیلی کی جھیل سے لے کر پانی صاف کر لیا جاتا ہے۔ ضرورت کا ایک حصہ پورا ہو جاتا ہے۔ باقی ضرورت ترقی پوری کرتا ہے وہاں سے صاف، صحت افزا پانی کی بڑی بوتلیں اور ڈرم بحری جہازوں میں لا کر اسرائیل پہنچتے ہیں۔ ترکی صرف تیل اور گیس ہی اسرائیل کو نہیں دیتا، کپڑے، لوہا، سیمنٹ ، برقی آلات بھی فراہم کرتا ہے۔ 2002 ء میں ترکی کی اسرائیل سے تجارت کا حجم ڈیڑھ ارب ڈالر سے بھی کم تھا۔ صدر طیب رجب اردگان نے برسر اقتدار آنے کے بعد اس میں تیزی سے اضافہ کیا، اب یہ حجم نو ارب ڈالر ہے۔ اسرائیل جواب میں غزہ اور مغربی کنارے کے باغات میں پیدا ہونے والے تازہ پھل ترکی کو فراہم کرتا ہے۔ یہ باغات قانونی طور پر فلسطینیوں کے ہیں لیکن ان پر قبضہ اسرائیل کا ہے۔
_____
سپریم کورٹ نے دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اجازت پہلے بھی تھی لیکن پچھلے بنچ نے قانون منسوخ کر دیا، نئے چھ رکنی بنچ نے منسوخی کا یہ فیصلہ معطل کر دیا۔
اب بحث چھڑ گئی ہے کہ فوجی عدالتیں جائز ہیں کہ ناجائز۔ کیوں نہ پی ٹی آئی سے رہنمائی لی جائے؟۔ بڑے خان صاحب نے جب وہ وزیراعظم تھے، ایک ٹی وی انٹرویو میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ فوجی عدالتوں کی افادیت اور ان کے ضروری ہونے پر روشنی ڈالی تھی اور بڑے مستحکم دلائل کے ساتھ ثابت کیا تھا کہ فوجی عدالتوں کے بغیر چارہ نہیں۔ بڑے خان صاحب کے اس انٹرویو کے بعد مزید رہنمائی کے لینے کی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی تسلّی نہ ہو تو لطیف کھوسہ کی ایک پریس ٹاک بھی سوشل میڈیا پر انہی دنوں کی موجود ہے جس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں آئینی نکات بیان فرما رہے ہیں۔ ایک کلپ مراد سعید کا بھی موجود ہے،
بظاہر اتنی شاندار رہنمائی کے بعد مزید رہنمائی کی ضرورت نہیں رہ جاتی، پھر بھی بحث جاری ہے تو چلئے، جاری رہنے دی جائے۔
_____
عدلیہ نے الیکشن کمشن کو انتخابی ڈیوٹی کیلئے عملہ دینے سے انکار کر دیا جس کے بعد کمیشن نے سول افسروں کی خدمات حاصل کر لیں لیکن پی ٹی آئی نے یہ اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا جسے منظور کرتے ہوئے عدالت کے جج جسٹس باقر نجفی نے الیکشن کمشن کا اقدام معطل کر دیا جبکہ الیکشن شیڈو ل ایک دن بعد جاری ہونے والا تھا۔
پی ٹی آئی اس ’’ریلیف‘‘ پر بہت خوش ہے کیونکہ، اس کا خیال ہے کہ، اب الیکشن ملتوی ہو جائیں گے۔ پی ٹی آئی کے رہنما ایک کے بعد ایک کے حساب سے مسلسل الیکشن بروقت کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ درون خانہ وہ ہر قیمت پر الیکشن کا التوا چاہتی ہے۔ الیکشن کمشنر نے اگر یہ فیصلہ کیا کہ عدالتی اور انتظامی عملہ نہ ملنے کے بعد وہ اساتذہ کی خدمات حاصل کرے گی تو پی ٹی آئی یہ فیصلہ بھی چیلنج کر دے گی ، لکھ رکھئے۔
پھر پی ٹی آئی کیا چاہتی ہے؟ اس کا معقول ، مناسب اور موزوں مطالبہ ایک ہی ہے۔ پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کو دن بھر کھڑا کر کے قوم کا وقت اور سرمایہ ضائع کرنے کے بجائے الیکشن سوشل میڈیا پر کرائے جائیں جہاں اسے یقین ہے کہ وہ دو تہائی تو کیا، چار چوتھائی کی اکثریت سے…اور کیا پتہ ، پانچ چوتھائی اکثریت سے جیت جانے کی پوزیشن میں ہے۔ ممکن ہے ، اس کے اس مطالبے کی پذیرائی بھی کسی شارٹ آرڈر کے ذریعے ہو ہی جائے۔
_____
سائفر کیس میں بڑے خان اور بڑے مخدوم پر فردجرم لگ گئی ہے اور اب اس کیس کی سماعت روزانہ بنیادوں پر ہونے کی خبر ہے۔
لیکن اس سے بھی بڑی خبر یہ ہے کہ بڑے خان نے بڑے طمطراق کے ساتھ جنرل باجوے کو بطور گواہ طلب فرمانے کا جو اعلان کیا تھا، وہ واپس لے لیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے …نے کہا کہ ارے۔ وہ تو محض ایک سیاسی بیان تھا۔
محض سیاسی بیان ، ویسا ہی جیسا 35 پنکچر والا بیان۔
لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک سیاسی بیان ہونے کی وجہ سے واپس نہیں لیا گیا تھا بلکہ اس خبر پر واپس لیا گیا تھا کہ جنرل باجوہ بطور گواہ پیش ہونے پر راضی ہو گئے تھے اور ان کا ارادہ کچھ مزید راز ہائے دردہ سے پردہ اٹھانے کا تھا۔ یہ پردے اٹھتے تو کئی مضر صحت بھید کھل جانے تھے چنانچہ خان صاحب نے حفظان صحت کے اصول کے تحت باجوے کی طلبی کا فیصلہ منسوخ کر دیا کہ بعض اوقات پرہیز علاج سے بہتر ہوتا ہے۔
_____
کشمیری رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے حق میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی اور اپنے ٹویٹ میں بھارتی حکومت اور سپریم کورٹ دونوں کو کشمیریوں کا دشمن قرار دیا۔
اس سے زیادہ اس ٹویٹ میں کچھ نہیں تھا لیکن پی ٹی آئی والوں نے نہ جانے اس سے کیا مطلب لبا کہ ٹویٹ کے نیچے گالیوں کی بھرمار کر دی۔ ایسی ایس گالیاں کہ خدا کی پناہ۔
شاید انہیں وائٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ سے بڑے خان صاحب کی وہ ملاقات یاد آ گئی جس میں کشمیر پر کچھ معاملہ بندی کی گئی تھی اور اسی معاملہ بندی کا ذکر بڑے خان صاحب نے وطن واپسی پر کچھ یوں کہا تھا کہ میں ایک اور ورلڈ کپ جیت کر آ رہا ہوں۔ ناقدر شناسوں نے ورلڈ کپ کا ترجمہ یہ کیا کہ خان صاحب کشمیر کا سودا کر کے آئے ہیں۔ حالانکہ یہ سودا نہیں تھا، ماضی کے بوجھ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش تھی۔
مشال ملک کے ٹویٹ سے پی ٹی آئی والوں کو یہی بات شاید یاد آ گئی ہو گی۔
524