میں نے یورپ میں بھی یہ بہت شدت کے ساتھ محسوس کیا تھا اور امریکہ میں تو اس کی شدت اور بھی زیادہ تھی کہ یہ تصور پنپتا چلا جا رہا ہے کہ پاکستان میں بہت برق رفتاری سے مذہبی آزادیاں معدوم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ مذہبی آزادی تو دور کی بات اس حوالے سے گھٹن کا احساس توانا ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان کے انتہا پسند طبقات کو قانون کا پابند کرنے کی ریاستی رٹ کی خواہش کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ اور یہ معاملہ صرف کسی مخصوص مذہبی اقلیت ( خیال رہے کہ میں مذہبی اقلیت کا لفظ صرف بات سمجھانے کے لئے استعمال کر رہا ہوں ورنہ اقلیت، اکثریت کے الفاظ سے ہی تعصب کی بو آتی ہے جو کہ غیر مناسب ہے ) تک محدود نہیں ہے بلکہ مسلمان بذات خود اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکہ میں اس کا بھی بہت ذکر کیا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کی کابینہ میں کوئی کرسچن وزیر نہیں ہے حالاں کہ ماضی میں اس کا التزام رکھا جاتا تھا کہ ایک بڑی آبادی ہونے کی وجہ سے ان دونوں حکومتوں میں کرسچن وزیر ضرور ہوا کرتے تھے۔ پاکستان کا حقیقی معنوں میں تشخص بحال کرنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ غیر مسلم پاکستانیوں کی ہر جگہ پر موجودگی کو یقینی بنایا جائے تا کہ مذہبی گھٹن کے تصور کو معدوم کیا جا سکے۔
امریکہ میں اب کم از کم اس کا احساس محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی مخلصانہ کوششوں کے باوجود انڈیا نے ہمیشہ معاملات کو ناقابل حل ہی رہنے دینے کی کوشش کی ہے۔ میں نے اس نکتہ پر پنڈت نہرو کے 1946 سے 1959 تک سیکرٹری رہنے والے ایم او متھائی کی کتاب ”نہرو دور کی یادیں“ کا تذکرہ کیا کہ جس میں ایم او متھائی نے تحریر کیا ہے کہ پنڈت نہرو جب کسی معاملے پر فیصلہ نہیں چاہتے تھے تو سورن سنگھ کو آگے کر دیتے تھے۔ بس بھٹو سورن سنگھ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سامنے ہے اور یہ اس وقت سے ہی انڈیا کی حکمت عملی ہے۔
لیکن امریکی یہ دوبارہ سے چاہتے ہیں کہ پاکستان آگے بڑھ کر انڈیا سے مذاکرات کی کوشش کرے کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ پاکستان ماضی میں ایسا کرتا رہا ہے اور حتی کہ جب انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو اس کے بعد بھی نواز شریف نے ایک بالغ نظر سیاست دان ہونے کا ثبوت فراہم کیا اور انڈین وزیر اعظم واجپائی کو لاہور کھلے دل سے آنے کی دعوت دی اور اس حوالے سے ایک اجتماعی سوچ موجود ہے کہ نواز شریف اب بھی قیام امن کے لئے بہت موثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر بھی ایک اتفاق رائے نظر آتا ہے کہ مودی کی موجودگی میں پاک انڈیا تعلقات کی بہتری کی جو موہوم سی امید باقی تھی وہ بھی مئی کے انڈین پاگل پن اور اس کے پاکستان کے حق میں نتائج کی وجہ سے ختم ہو چکی ہے اس لئے اب مودی انڈیا کے لئے ایک اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ بن چکے ہیں اور میرا خیال ہے کہ صرف انڈیا کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا اور خطے کے لئے بوجھ بن گیا ہے۔
پاک امریکہ تعلقات کی بہتری کو قائم رکھنے کے لئے امریکہ میں یہ خیال ہے کہ اس کو صرف صدر ٹرمپ کی ذات تک محدود ہو کر مت دیکھا جائے بلکہ پاکستان کے تعلقات دونوں بڑی امریکی سیاسی جماعتوں کے با اثر افراد سے ہونی چاہیے تا کہ امریکہ میں کسی سیاسی تبدیلی کے اثرات پاکستان سے تعلقات کو متاثر نہ کر سکے۔ امریکہ میں اس وقت بھی ایسے افراد بہت موثر ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جو بائیڈن دور کی مانند ہو جائے اور تنہا انڈیا ہی آنکھ کا تارہ بن جائے۔
وہاں پر خیال ہے کہ پاکستان دونوں بڑی امریکی جماعتوں سے تعلقات کے شعبے میں کمزور ہے اور اس کمزوری کو رفع نہ کیا گیا تو ایسی صورت میں مستقبل میں مسائل ضرور پیدا ہوں گے ۔ پھر پاکستان میں ہر حوالے سے ایک خوف کی فضا اور سازشی تھیوری بھی پیش کردی جاتی ہے کہ اگر امریکہ پاکستان میں کوئی بندر گاہ پر کام کرتا ہے جیسے کہ پسنی وغیرہ تو وہ اس کو اپنا فوجی اڈہ بنا لے گا۔ اب ہمیں ان تصورات سے باہر آنا چاہیے اور سرمایہ کاری کو سازشی تھیوریز سے محفوظ رکھنا چاہیے پاکستان اب نہ تو اتنا کمزور ملک ہے کہ بات سرمایہ کاری کی ہو اور قائم فوجی اڈہ ہو جائے اور نہ ہی پاکستان کی موجودہ قیادت ایسی ہے کہ وہ ایسا ہونے دے۔
اس حوالے سے اطمینان ہی رکھنا چاہیے۔ ہمیں صرف امریکہ کی سیاسی حرکیات پر اپنی توجہ مبذول رکھنی چاہیے کیوں کہ وہاں پر تبدیلی بہت تیزی سے محسوس کی جا رہی ہے۔ کہنے میں تو یہ عجیب لگتا ہے مگر امریکی انٹیلیجنشیا میں یہ تصور بہت تیزی سے راسخ ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ میں جمہوریت بتدریج کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی کو اسی رخ سے دیکھا جا رہا ہے کہ یہ ادارہ آنے والے وسط مدتی امریکی انتخابات میں مداخلت کرے گا بلکہ ممکن ہے کہ رائے دھندگان کو ڈرانے دھمکانے تک کا کام اس سے لیا جائے۔ یہ امریکی ریاست میں ایک نئی صورت حال ہے اور اس صورت حال کے اثرات کا خارجہ امور پر مرتب ہونا ایک امر لازم ہے کہ جس کے لئے پاکستان کو تیار رہنا چاہیے۔