کچھ عرصہ سے وطن عزیز سازشوں کی زد میں ہے۔ لیکن کسی کو بھی اس کی ذرہ برابر فکر نہیں۔ سب خاموش تماشائی بن کر گلستان کو اجڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ عوام ُرل رہے ہیں، کاروباری طبقہ اور کسان نامساعد حالات اور بے یقینی کے شکار ہیں۔ شاید کچھ دوست اس بات کوپسند نہیں کرتے لیکن سچ یہ ہے کہ ملک تیزی سے ایک ایسی دلدل کی طرف بڑھ رہا ہے جس سے نکلنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ اس لئے وہ لوگ جن کو ملک کی فکر ہے وہ یقیناً ان حالات پر شدید پریشان ہیں لیکن مجبوری یہ ہے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ ان کےپاس نہ مطلوبہ طاقت ہے نہ اختیار ہے اور جو بہت کچھ کر سکتے ہیں وہ کچھ نہیں کرتے۔ بعض لوگ یہ کہتے اور سمجھتے ہیں کہ بیرونی دبائو بعض معاملات میں رکاوٹ ہے۔ اگر اس منطق کو مان لیا جائے پھر یہ تو سچ ہوا کہ ہم خود مختار ملک کی آزاد قوم نہیں ہیں۔ اگر ہم اتنے مجبور ہیں اور وسائل کے باوجود دوسروں کے آگے جھک کر اور ’جی سر ‘کہہ کے محض وقت گزار رہے ہیں تو قوم کو کسی خوش فہمی میں کیوں مبتلا رکھا جا رہا ہے، شاید قوم کو سچ بتانے پر بیرونی دبائو کا اثر یا ناراضی کا خطرہ نہیں ہوگا ۔ قوم کو سچ بتایا جائے اور کشتی جس طرح بھی چل رہی ہے اسےبیرونی موجوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے لیکن کشتی کے مسافروں کا صحیح صورتحال سے آگاہ ہونا تو ان کا حق بنتا ہے۔
ہم گزشتہ دو دہائیوں سے ایران سے گیس لینےکیلئے پائپ لائن تک نہیںبچھا سکے۔ اب بھی ایران پر پابندیوں کو وجہ بنا کر اس خوف سے کچھ نہیں کر سکتے کہ کہیں بیرونی دبائو کی وجہ سے ہماری روزی روٹی ہی بند نہ ہو جائے۔ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان پر ہم نے بڑی بغلیں بجائیں اور کچھ معاہدے بھی کئے لیکن ان معاہدوں پر کسی قسم کی پیش رفت کی قوم کو کوئی خبر اور علم نہیں اور لگتا ہے کہ وہ معاہدے بھی بیرونی دبائو تلے دب جائیں گے یا دب گئےہیں۔ دوسری طرف امریکہ نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو مکمل کرنے کے منصوبے پر کام کرنے والی بھارتی کمپنیوں کو دھمکی دی ہےکہ اس منصوبہ پر کام جاری رکھنے پر امریکہ ان کمپنیوں پر پابندی لگا دے گا۔ لیکن بھارت نے اس امریکی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے پچھلے دنوںکولکتہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی دھمکیوں کو یکسر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ تمام صورتحال ہے اور ہم پھر بھی قوم کو اس خوش فہمی میں مبتلا رکھتے ہیں کہ :؎
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
نامعلوم وجوہات کی بنا پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان اچانک ملتوی ہوگیا ہے۔ اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاید ان کا دورہ عید الاضحی کے بعد ممکن ہو ۔ ان کے دورے تک شاید سعودی حکومت اور پرائیویٹ اداروں سے معاملات بھی معطل رہیں گے۔ پاکستان کیا کرے ہم سے تو ایک شخص یا جماعت نہیںسنبھالی جا رہی۔ احباب ناراض نہ ہوں لیکن یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ہم اندرونی اور بیرونی سازشوں میں الجھے ہوئے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس جال سے نکلنے اور اس جال کو توڑنے کی تدبیر اور کوشش بھی نہیں کرتے۔ ہماری بس ایک ہی کوشش ہے کہ کسی طرح کہیں سے قرض مل جائے اور اسی کو ہم معیشت کی بہتری کہتے ہیں۔ جو قرضے پہلے لئے گئے ہیں کوئی بتائے کہ ان قرضوں سے ملک میں کیا معاشی بہتری آئی جو اب نئے قرضے لینے سے آئے گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نئے قرضوں میں سے ایک بڑے حصے کوتو ہم پرانے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی میں دیتے ہیں اور جو باقی بچتا ہے اس سے کیا معاشی بہتری ہوتی ہے، آج تک نظر نہیں آئی۔ وقتی طور پر کہا جاتا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا لیکن کچھ دنوں کے بعد اس میں کمی ہو جاتی ہے۔ حال تو ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی اور حکومتی اخراجات بشمول اللے تللے ان ہی قرضوں سے پورے کیےجاتےہیں ۔ یہ صرف موجودہ دور میں نہیں ہو رہا قوم کی ساتھ یہ مذاق طویل عرصہ سے جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قرضے حکمران لیتے ہیں لیکن بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے جو وہ مہنگائی اور ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ ہر حکومت کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو اقتدار کے مزے وہ لوٹ کر چلی جائے گی لیکن ان قرضوں کی ادائیگی اس لاچار، لاوارث اور بے بس قوم نے ہی کرنی ہے اور یہ گھن چکر یونہی چل رہا ہے۔
اس وقت ملک کے خلاف ایک اور سازش کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور بڑے قرض کیلئے بات چیت کا آغاز ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں اداروں کے درمیان خلیج اور ٹکرائو کی صورتحال، آزاد کشمیر جیسی پرامن آزاد ریاست میں اچانک پرتشدد احتجاج اور فسادات، ملک میں احتجاجی تحاریک شروع کرنے کی دھمکیاں اور تیاریاں، بعض لوگوں کی امریکی عہدیدار سے ملاقاتیں اور اس میں الیکشن میں دھاندلی اور انسانی حقوق پر زور دینا۔ ایک مخصوص شخص کو خصوصی ریلیف، مخصوص جماعت کےبعض لوگوں کو 9مئی کے واقعات میں رعایتیں اور دبئی پراپرٹی لیکس کا آنا جس میں مخصوص لوگوں کے نام شامل اور بعض خواص کو اس فہرست میں شامل نہ کرنا، یہ سب کچھ اتفاقیہ نہیں۔ یہ پاکستان، دفاعی اداروں اور بعض سیاستدانوں کے خلاف منظم سازش لگتی ہے۔ کیا کوئی ہے جو اس صورتحال کا نوٹس لے کر ایسی کارروائی کرے کہ آئندہ کوئی نہ ملک اور دفاعی اداروںکو بدنام کرنے کی کوشش کی جرأت کرسکے اور نہ ایسے عناصر کو کسی بھی طرح کی کوئی رعایت مل سکے۔ 190ملین پائونڈز کیس میں اب مزید لوگ بھی مستفیض ہو سکتے ہیں۔ کھائو پیئو، جلائو، توڑو اور مزے کرو۔ گھبرانا نہیں کیونکہ کوئی کچھ نہیں کہتا۔
انجام گلستاں کیا ہوگا