مہمان کالم - انڈیا جی آپ سندھ طاس معاہدہ ختم کر ہی نہیں سکتے زرا اصول تو سمجھیے    انڈیا جی آپ سندھ طاس معاہدہ ختم کر ہی نہیں سکتے زرا اصول تو سمجھیے   


کالم : وجیہہ تمثیل مرزا 

جنوبی ایشیا میں دریاؤں کے تنازع پر ایک کتاب کے مصنف اور سنگاپور نیشنل یونیورسٹی کے مصنف پروفیسر امت رنجن  نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ " سندھ طاس معاہدے سے اگر دونوں میں سے کوئی ایک ملک بھی یکطرفہ طور پر نکلنا چاہے تو وہ نہیں نکل سکتا "۔ وہ کہتے تھے کہ ویانا کنونشن کے تحت معاہدے ختم کرنے یا اس سے الگ ہونے کی گنجائش موجود ہے لیکن اس پہلو کا اطلاق سندھ طاس معاہدے پر نہیں ہو گا۔
وہ لکھتے تھے کہ " اگر انڈیا اور پاکستان کے درمیان سفارتی اور قونصلر کی سطح کا تعلق بھی ٹوٹ جائے تو بھی اس معاہدے کو ختم نہیں کیا جا سکتا "۔ اگر کسی طرح یہ معاہدہ ٹوٹ بھی جائے تو بھی ایسے بین الاقوامی کنونشن، ضوابط اور اصول موجود ہیں جو دریائی ملکوں کے آبی مفادات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔‘ پروفیسر امت نے لکھا تھا کہ " ایک دستاویز کے طور پر اس معاہدے میں کچھ کمیاں اور خامیاں ہو سکتی ہیں"۔ لیکن یہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدہ اور خراب تعلقات ہیں۔‘ اور دوسری جانب آبی وسائل کے سابق وزیر سیف الدین سوز کہتے تھے " سندھ کمیشن کے اجلاس بہت پیشہ ورانہ اور پر خلوص ماحول میں ہوتے ہیں"۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ " اس میں شامل اہلکار آبی اور تکنیکی امور کے بہترین ماہر ہوتے ہیں "۔ آپ دریاؤں کے پانی روک کر صرف سیلاب لا سکتے ہیں اور کچھ نہیں۔ اور ہم دیکھتے تو ہمیشہ سے یہی آ رہے ہیں کہ انڈیا دریاٶں کا پانی بند کر دیتا ہے اور پھر یک دم سے ایسے کھولتا ہے کہ پاکستان کو سیلاب کی صورتحال کا سامنا کر پر جاۓ۔ بات یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ انڈیا اور پاکستان کی قدرتی اور جغرافیائی مجبوری ہے۔ لیکن یہ انڈیا تو کسی اور ہی غلط فہمی کا شکار ہے، سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا ہے، اور کہتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ سرے سے ہی ختم کر دے گا۔ لیکن " ڈیٸر انڈیا جی " زرا اوپر لکھی گٸی امت رنجن صاحب کی بات پر ہی غور کر لیں۔ انڈیا اور پاکستان سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کر سکتے۔ خیر ویسے یہ تو ہیں بھی اپکی " گیدڑ بھبھکیاں " کبھی دریاۓ چناب، دریاۓ جہلم کا پانی روک دیتے ہو تو کبھی کھول دیتے ہو اور اب تو ایسا پانی کھولا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں مچھلیاں بھی سیر سپاٹا کرتیں پاکستان آ پہنچیں، یعنی مچھلیوں نے بھی مودی جی کی سرزمین کو " باۓ باۓ " کر دیا اور پاکستان پہنچ گٸیں۔ ایک طرف جنگی سماں تو دوسری طرف معاملہ یہ بنا ہے کے سندھ طاس معاہدہ (IWT) کو معطل کرا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں حملے کے بعد فوری طور پر یہ معاملہ اثر انداز ہوا ہے۔ اب بات کرتے ہیں سندھ طاس معاہدے پر یہ معاہدہ حقیقی معنوں میں ہے کیا اور کیا حیثیت رکھتا ہے۔ انگریزی میں تو اسے " Indus Water treaty " کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ سندھ طاس معاہدہ ( انڈس واٹر ٹریٹی )  کیا ہے ؟ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا وہ معاہدہ ہے جسے ورلڈ بینک نے فراہم کیا تھا۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کا پانی مختص کرتا ہے۔ اس معاملے کو لے کر انڈیا-پاکستان انڈس کمیشن قائم کیا گیا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی مسائل کو حل کرے گا لیکن یہ کیا ہوا ہے پانی کی تقسیم کا ماہدہ تو ختم ہونے کے دہانے پر ہے، یعنی معاہدہ معطل کر دیا گیا،  یہ بات انڈیا پاکستان دونوں کو پتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سب سے بڑا معاہدہ سندھ طاس معاہدہ تھا، اور اب انڈیا نے اسی معاہدے کو بڑی چالاکی سے استعمال کرتے ہوۓ پاکستان کو نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان، بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو، اور عالمی بینک کے صدر کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر 19 ستمبر 1960ء کو دستخط ہوئے تھے جس سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تعمیری منصوبہ شروع ہوا تھا۔
سندھ طاس معاہدہ جسے انگریزی میں " Indus Water Treaty " کہا جاتا ہے کے مطابق منگلا اور تربیلا ڈیموں کی تعمیر کے علاوہ پانچ بیراج ، ایک سائفن اور آٹھ الحاقی نہریں بنائی گئی تھیں۔ اس معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں، سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریاؤں، راوی، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ بدلے میں بھارت نے پاکستان کو 62 لاکھ پونڈ ادا کیے تھے جو 125 میٹرک ٹن سونا کے برابر تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو دس سال کا عرصہ بھی دیا گیا تھا جس میں الحاقی نہروں کی تعمیر سے راوی اور ستلج کی پیاس بجھائی گئی تھی۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ورلڈ بینک کے علاوہ برطانیہ ، امریکہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ اور مغربی جرمنی نے بھی فنڈنگ کی تھی۔ اب جب اتنے ممالک نے اس معاہدے کی تکمیل کے لیے زیادہ سارے فنڈز دیے تھے تو اب اس کو جو معطل کرنے کی سازش ہو رہی ہے تو اس پر بھی ان تمام ممالک کو آواز اٹھانی چاہیے کیوں کہ معاہدے کے اصولوں کو دیکھتے ہوۓ دونوں ممالک میں سے کوٸی بھی اس معاہدے سے الگ ہو ہی نہیں سکتا، کیوں کہ جو سچ ہے وہ سچ ہے ! اور اس سچاٸی کا سامنا انڈیا کو کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔
 

بشکریہ روزنامہ آج