"پاک فضائیہ فضاؤں کی بادشاہ ہے "
پاک فضائیہ نے کامیاب جوابی کارروائی کی اور بھارت کے ائیر سسٹم کو جیم کر دیا ، پندرہ سے زائد ائیر بیس کو نشانہ بنایا " ٹیلیگراف ،
ھم ایک قوم اور ملک کی حیثیت سے بھارت کی قدر کرتے ہیں ، لیکن پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری ھمیں عزیز ہے ، ھم پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور پاکستانی بہن بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ھم ہر طرح سے ان کے ساتھ ہیں ، انڈیا نے پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا ، وہ کبھی بھی پاکستان کو انڈر اسٹیمٹ نہ کرے ، چین کا اعلان ، مودی اور اس کی فوج کو اگر ابھی تک سمجھ نہیں آئی تو پھر جاری رکھے ،
میں ذاتی طور پر امن کے حق میں ہوں لیکن ذرا حقائق دیکھیں آپریشن سندور کے نام پر بھارت نے آٹھ مقامات پر میزائل داغے نہتے اور معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ، کیا درست تھا ، اس پہ بھی پاکستان کی افواج نے صبر کیا اور محض فضائی کارروائی کے ذریعے بھارتی فضائیہ کو سبق سکھایا مگر بھارت پھر بھی باز نہیں آیا اور 77 مقامات پر خطرناک ترین اسرائیلی ڈروان چھوڑے جس سے پاکستان کے عوام اور فوج کو شدید غم وغصہ میں مبتلا کیا یہی نہیں بلکہ کشمیر کے دونوں اطراف ، سکھوں کے مقدس مقامات اور یہاں تک کہ افغانستان پر میزائل پھینک کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ، ایک بات یاد دہا ہےنی کے لیے کافی ہے کہ ھمارے اندرونی جتنے بھی اختلافات ہوں ، قومی موومنٹ اور ملک و خطے کے دفاع اور خدمت کے لیے ھم ایک ہیں ،
اب امریکی وزیر خارجہ روبیو اور دیگر ممالک ثالثی کی پیشکش کر رہے ہیں بات یہاں سے شروع ہونی چاہیے کہ جنگ میں پہل بھارت نے کی ، ختم کرنے میں بھی پہل اسی کو کرنی ہوگی ، بھارت کی تباہی کی اصل کہانی دکھانے پر "دی وائر" جیسے چینل پر پابندی لگا دی گئی ، دوسری طرف بھارت کا میڈیا جنگ ، بدامنی اور انتہا پسندی کو ھوا دے رہا ، اس کے مزاج میں ایسی غیر صحافتی ، غیر معیاری اور غیر اخلاقی گفتگو ہے جو ایک ہیجان کا باعث ہے ، اتنا جھوٹ اور فریب تو دنیا میں کہیں نہیں ہے ، نشستوں سے اٹھ اٹھ کے کبھی کراچی ، کبھی پنجاب اور کشمیر کے فتح کرنے کے قصیدے پڑھے جا ریے ہیں ، کوئی ثبوت ، کوئی دلیل اور کوئی منطق نہیں محض ھاھا کار مچی ہوئی ہے ، ھندو انتہا پسندی کا اخیر ہے اور جب انتہا پسندی اس نہج پر ہوتی ہے تو یہ اس کا اختتام ہوتا ہے ، خود کہیں غیر ملکی چینل کہہ رہے ہیں کہ مودی سرکار کے تینوں ادوار بھارت کو اس موڑ پہ لے آئے ہیں کہ مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، اور دلت پناہ مانگتے ہیں ، سیکولر ریاست کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹ چکا ہے ، ایسے میں دنیا کو سوچنا چاہیے ، مودی وہی ہے جس نے گجرات میں خون کی ہولی کھیلی تھی اور امریکہ جیسے ملک نے اس پر پابندی لگا دی تھی ، اب وہ منصف کہاں ہیں ؟یہ وہ حقائق ہیں جو ھندوستان کے معاشرے میں پھیل چکے ، ایک نسل اس کا شکار ہوئی ، اب کرن تھاپر جیسے بڑے صحافی بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں ، تالی دونوں ہاتھوں سے بچتی ہے ، یک طرفہ ٹھیک ہے بھارت بڑا ملک ، بڑی معیشت اور سیاست ہے مگر انسانوں سے حق زندگی چھینا جائے گا تو آپ کا کچھ نہیں رہے گا ، آپ نے کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ ایک بڑے پہلوان کو کبھی کمزور آدمی گرا دیتا ہے ،
آپریشن البیان المرصوص ' شروع ہؤا تو بھارت کے ترجمانوں کی حالت دیکھنے والی تھی ، ان کی باڈی لینگویج ان کی زبان اور رویہ بھی پست تر ہو گیا کیا اس خفت مٹانے کے لیے پھر کوئی غلطی کریں گے تو پھر ھمارے پاس تباہ کن حملے کا فیصلہ ہوگا ،
اس وقت سعودی عرب ، امریکہ اور یو اے ای کوششوں میں لگے ہیں ، ان کے عدم توجہ والا رویہ بھی بدل گیا لگتا ہے سب طاقت کی زبان سمجھتے ہیں ، چین اور پاکستان کا تعاون اور ٹیکنالوجی اور مہارت ایک نیا ریکارڈ قائم کر چکی ہے ، چین کبھی نہیں چاہے گا کہ یہ ناکامی سے دو چار ہو ، آپ نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر حملہ کر کے چین کو بھی چیلنج کیا ، اسرائیل کو شامل کر کے مسلمانوں کو بھی آنکھیں دکھائیں ، عالمی قوانین کو روند کر امریکہ اور دوسرے ممالک کو بھی مشکل میں ڈال دیا ، کشمیر پر آئینی ، آہنی ، اور زمینی حملہ کر کے دونوں طرف کشمیر کو میدان جنگ بنا دیا ، تو کیا آپ سے خیر کی توقع رکھی جائے ؟
اس وقت ھزاروں کشمیری خاندان نقل مکانی کر ریے ہیں دونوں طرف مودی کی انتہا پسندی اور بربریت کا شکار ہیں ، کیا ان کے نصیب میں امن نہیں ہے ؟ ترقی نہیں ہے ؟ آپ کبھی اوڑی ، کبھی پٹھان کوٹ ، کبھی پلواما اور اب پہلگام لے آئے ، کیا گٹھ جوڑ تھا ؟ ذرا آزاد ذرائع کو بتائیں ، یہ چیخنے چلانے والے میڈیا کے حوالے کر کے درگت نہ بنائیں ، کیا رافیل لے آنے سے آپ کچھ کر سکے ؟ اصل بات یہ ہے کہ مودی جی آپ کشمیر کو اور کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیں اور اچھے پڑوسی کی طرح رہیں تو دونوں ممالک کے عوام خوشحال ہوں گے ، غربت ختم ہو گی ، دو ارب کم از کم آ بادی سکھ کا سانس لے گی ، میں دیکھ رہا تھا آپ کے وزارت خارجہ کے ترجمان اور فوجی ترجمان صوفیہ قریشی کا چہرہ اترا ہوا ہے ، بھارتی عوام خوف زدہ ہیں پندرہ ائیر بیس آپ کھو چکے ہیں ، اب آپ جنگ ختم کرنے میں پہل کر دیں یہ آخری موقع ہے ، اس کے بعد سلسلہ جنگ طویل ہوگا کسی کا کچھ نہیں بچے گا۔
جنگیں مسائل کا حل نہیں ، ترقی اور خوشحالی امن سے ممکن ہے اور یہ انسانی حق ہے ، پانچویں جنگ ہے ، کسی ایک جنگ کا کوئی اچھا نتیجہ نکلا ھو ، کوئی نتیجہ بتا دیں ؟ یہ مٹانے کا خواب نہ دیکھیں ، ایک ہی مسئلہ ہے کہ کشمیری عوام کا قتل عام بند کر کے ، حق خودارادیت دیں ، بات دور نکل گئی تو پھر مشکل ھو گا
224