بے شک اس وقت بحرانوں کی ندی میں گردن گردن پانی ہے ۔ مہنگی بجلی کا پانی تو آنکھوں تک پہنچا ہوا ہے۔کچھ معلوم نہیں کہ بجلی کی تقسیم کی ندیاں کن گھروں میں اترتی ہیں اور اس سیرابی کا ٹیکس کن گھروں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی نظام ہے ہی نہیں ۔ زندگی میں پہلی بار مجھے لیسکوکے دفاتر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہوا کچھ یوں کہ میرے چھوٹے سے گھر کا بل کسی بڑی کوٹھی کے بل کے برابر آ گیا، میں نے دو چار دوستوں کو فون پر کہا تو مشورہ ملا کہ اس وقت بل کی اقساط کرا لیں ، باقی معاملات بعد میں دیکھتے ہیں۔ایک دوست نے قومی اسمبلی سے لیسکو کے دفتر میں فون کردیاکہ اس بل کی اقساط کر دیں۔ میں نے لیسکو کے دفتر میں بیٹے کو بھیجا۔ وہاں وہ کسٹمر سروس کے ڈائریکٹر سے ملا، انہوں نے بل پر کچھ الٹا سیدھا لکھا ور کہاکہ لیجئے، یہ تین قسطیں کر دی ہیں۔ بیٹا اگلے دن جب بینک میں بل جمع کرانے گیا تو کسی بھی بینک نے وہ بل جمع کرنے سے انکار کر دیاکہ یہ دستخط تو ہمارےپاس ہیں ہی نہیں۔ خیر اگلے دن میں خود اسی افسرکے پاس گیا، اس کے چہرےکی رعونت عروج پر تھی،مجھ سے اس طرح پیش آیا جیسے میں کوئی انسان نہیں ۔ اس کا دفتر چوتھی منزل پر تھا۔ اس نے اتنی مہربانی ضرور کی کہ مجھ سے کہا گراؤنڈ فلو ر گیارہ نمبر کمرے میں چلے جائیں۔ میں گیارہ نمبر کمرے میں پہنچا تو وہاں رائے مقصود نام کا ڈائریکٹر بیٹھا تھا۔چہرے پر نرماہٹ، مصروف بہت تھا، پھر بھی بہتر انداز میں بات سنی ۔شاید اس لیے کہ وہاں موجود ایک شخص نے مجھے پہچانتے ہوئے ہاتھ ملایا اور کہاکہ میں آپ کے کالم شوق سے پڑھتا ہوں۔ رائے مقصود نے میڈم فوزیہ نامی کسٹمر سروس کی ایک ڈپٹی منیجر کو فون کیا اور کہا کہ میں ایک آدمی بھیج رہا ہوں۔خیر میں وہاں سے نکلا، کسٹمرسروس کے دفتر کی تلاش شروع کی۔ نیشنل بینک کے ساتھ ہونیوالی نشانی کام آ گئی ۔ میڈم سے ملاقات ہوئی توبل دیکھ کر کہنے لگی کہ یہ میرے بس میں نہیں ، آپ کو سک نہر والے دفتر جانا پڑے گا۔ میں نے پوچھا کہ پھر مجھے آپ کے پاس کیوں بھیجا گیا ہے؟۔ خیرمیڈم سے تفصیلی تعارف کے بعد اس نے مجھے ایک لیٹر بنا کر دیا اور لیٹر کی تصویر کھینچ کر اس افسر کو بھی واٹس ایپ کر دی جس کے پا س میں نے جانا تھا۔بل پاس رکھ لیااور مجھے کہا کہ آپ سک نہروالے دفتر چلے جائیں ،میںدوسرے دفتر سے نکلا اور تیسرے دفتر کو روانہ ہوگیا۔وہاں پہنچا تو انہوں نے کہا کہ اصلی بل لے کر آئیں تبھی ہم نیا بل بنا کر دے سکتے ہیں۔میں نے سوچا کسی بڑے افسر سے بات کی جائے۔ اسکےپاس گیاتو اس نے اس لیٹر پر کچھ لکھا اور کہا کہ اب اِسے گیارہ نمبر کمرے میں لے جائیں۔ یہ وہی کمرہ تھا جہاں مجھ سے بل کامطالبہ کیاگیاتھا۔خیر اس خاتون نے لیٹر پر اپنے افسر کے دستخط دیکھ کر کہا کہ ایک منٹ ٹھہریں میں ان سے پوچھ کر آتی ہوں ۔وہ واپس آئی تو کہنے لگی رش کی زیادتی کی وجہ سے وہ لیٹر پڑھ نہیں سکے تھے۔ آپ غلط دفتر آ گئے ہیں۔ آپ نے شالامار والے دفتر میں جانا ہے۔ میں چوتھے دفترکی طرف روانہ ہو گیا۔وہاں پہنچا ، سیدھا وہاں کے سب سے بڑے افسر کے کمرے میں چلا گیا۔اس نے کوئی بات کئے بغیر اسی لیٹر پردستخط کئےاور کہا کہ سامنے والے کمرے میں چلے جائیں۔وہاں گیا تو ایک میڈم تشریف فرما تھیں۔ کہنے لگیں کہ آپ کے بل کوکمپیوٹر نہیں مان رہا۔ یہ ہاتھ سے بنانا پڑے گا۔ مگر آپ کو اس کیلئے باہر سے کاپیاں کرا کے لانا پڑیں گی۔ میں نے کہا کہ میری برداشت کی حد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ یہ میرا نام ہے، پلیز میرے ساتھ ایسا نہ کریں۔ اس نے مجھے کہا اچھا یہ لیٹر لے کر واپس آر او کے پاس جائیں اور انہیں کہیں کہ اس پر آج کی ڈیٹ ڈال دیں۔میں دوبارہ آر او کے دفتر میں گیا ۔ اس نے پھر اس پر دولفظ لکھے، دستخط کئے، ڈیٹ ڈالی ، میں واپس آیاتو کمپیوٹر نے نیا بل نکالنے میں کوئی دیر نہ لگائی۔میڈم نے مجھے بل دیتے ہوئے کہایہ بل فلاں بینک کی صرف ان دو شاخوں میں جمع ہوگا۔ کہیں اور مت جائیے گا۔میں نے بل دیکھا تو تین اقساط کی بجائے دو اقساط پر مشتمل تھا۔میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہوا؟ کہنے لگیں کہ پہلی قسط آپ کو 50فیصد ادا کرنی پڑے گی۔ باقی 50فیصد کی دو قسطیں ہوں گی۔لیکن وہ بھی اسی صورت میں کہ نیا بل آنے کے بعد آپ یہاں آئیں گے۔میں نے کہا کہ دو مرتبہ یہاں آنا پڑے گا، کہنے لگیں ہاں تیسری قسط کیلئے پھر۔
میں نے جب بینک میں بل جمع کرا لیا تو مجھے بیٹے کا فون آیا کہ لیسکوسے ایک آدمی آیا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے کہ آپ جمع شدہ بل کی کاپی دکھائیں وگرنہ میں نے بجلی کاٹ دینی ہے۔ میں نے کہا اسے بٹھاؤ، چائے پلاؤ۔ میں پہنچتا ہوں۔ خیر میں گھر پہنچا۔ اسے جمع شدہ بل دکھایا اور کہا کہ میں نیچے والے گھر میں رہتا ہوں۔ اوپر والے گھر کا بل مجھ سے دس گنا کم ہے، یہ کیا معاملہ ہے۔ کہنے لگا ،لگتاہے آپ کا میٹر خراب ہے۔ اسے تبدیل کرا لیتے ہیں ،پھر دیکھتے ہیں۔ خیر یہ بل کا معاملہ کوئی ساڑھے چار گھنٹوں میں اختتام پذیر ہوااور میں سوچنے لگا کہ منصور آفاق! یہ سب کچھ تو تمہارے ساتھ ہوا ہے۔ عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔یہ ملک کہاں پہنچ چکا ہے۔ ابھی اسی فکر میں صرف دو گھنٹے گزر ے تھے کہ بجلی چلی گئی ۔ میں نے سوچا کہ لوڈ شیڈنگ ہوگی مگرتھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ ہماری بجلی کٹ گئی ہے ۔میں نے کہا کہ میں بل جمع کرا چکا ہوں۔ پتہ چلاکہ کاٹنی کسی اور گھر کی تھی، غلطی سے ہمارے گھر کی کاٹ دی گئی۔ بہر حال ایک الیکٹریشن نےتھوڑا بہت خرچہ لے کر پھر سے تاریں جوڑ دیں۔ یو ں روشنی اور ہوا سے رابطہ بحال ہوا۔