جون کے مہینہ میں ویسے تو بہت سارے عالمی دن منائے جاتے ہیں ,ماحولیات کا عالمی دن، موسیقی کاعالمی دن، انسانیت کا عالمی دن وغیرہ وغیرہ لیکن میرا موضوع یہاں فادر ڈے, باپ کا عالمی دن ہے یہ دن جون کےتیسرے اتوار کو منایا جاتا ہے جیسے اس سال آج یعنی 18,جون2023ءمیں کو منایا جارہا ہے۔ یہ دن سب سے پہلے 19جون 1910ءمیں منایا گیا تھا -
اس دن ہمیں امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن کو بھی یاد رکھناچاہے کہ جن کی کاوشوں سے اس دن کو 1972ءمیں عالمی تہواروں میں شامل کرلیا گیا تھا اس لئے یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دن کو عیسائیوں نے منانا شروع کیاتھا لیکن اب دنیا کے تمام مذاہب میں یہ دن منایا جاتا ہے۔
ہمارا وطن چونکہ اسلامی مملکت ہے اس لیے اس دن کوہمیں اسلامی نقطہ نظر سے مناناچاہے اور باپ کے تمام حقوق کا پورا خیال کرنا چاہئے۔
ہمیں والد کا عالمی دن اسلامی تعلیمات کے مطابق منانا چائیے ۔ ہم نے نئی نسل کو باپ کی حیثیت کے بارے میں ضرور آگاہ کرنا ہے باپ کو عربی زبان میں اب استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی و مفہوم والد ہیں لفظ اب قرآن مجید میں119مرتبہ اور آبا (اب کی جمع) 64مرتبہ آیا ہے ۔
باپ کے لیے حضرت ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ۔والد کی دعا (اللہ کے خاص) حجاب تک پہنچ جاتی ہے -(یعنی قبول ہوجاتی ہے)
سنن ابن ماجہ جلد نمبر3حدیث نمبر744۔اسی لیے ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھناچاہے کہ باپ کی ناراضگی ہمیں جہنم میں پہنچاسکتی ہے۔
پس ہمیں باپ کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرنا چاہئے کیونکہ سیدنا ابو دردا رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
باپ جنت (میں داخلے) کا سب سے بہترین دروازہ ہے اب تم اس کے دروازے (نا فرمانی اور برے سلوک کے ذریعے) ضائع کرو یا (اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے) اس کو محفوظ کرلو(ابن ماجہ ۔ابواب الاداب باب برالوالدین :3663 والصحیحة 914) ہمیں ماں اور باپ دونوں کا احترام کرنا چاہیے, اور دونوں کا دن اسلامی نقطہ نظر سے منانا چاہئے, کیونکہ دونوں کی خدمت مساوی کرنا ہماری ذمہ داری ہے حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے ۔ ارشاد فرمایا۔ ”ماں باپ ہی تمہاری جنت ہیں اور ماں باپ ہی تمہاری دوزخ “(ابن ماجہ)پس والدین قابل قدر احترام، واجب العزت ، والا کرام اور لائق خدمت احسان ہیں گرچہ کافر ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ رب ذوالجلال نے اپنی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ان کی بھی شکر گزاری کی تاکید فرمائی ہے-
قرآن و حدیث کے احکامات کی روشنی میں والد کے مقام و مرتبہ کے بارے میں رہنمائی لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و عبادت کے بعد سب سے زیادہ اہمیت و فضلیت کے حقدار و الدین ہی کو قرار دیا گیا ہے قرآن کریم کا انداز بیان یہ ہے کہ وہ پہلے حقوق کی ترتیب کو طے کرتا ہے ،اس کے بعد تفصیلات کو ، اس ترتیب میں والدین سرِ فہرست ہیں۔
والدین کا ادب و احترام اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا ہر عقلِ سلیم رکھنے والا شخص قائل ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب و ملت سے ہو۔ قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پر والدین سے حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے ان تعلیمات کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔
ترجمہ: ہم نے بنی اسرائیل سے عہدلیا کہ سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔
(سورۃالبقرہ ۸۳)
’’جو کچھ تم مال خرچ کرو تو اس میں ماں باپ کا حق ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ ۲۱۵)’’اور تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرو۔
(سورۃانساء ۳۶)
آپ ﷺ فرمادیجئے کہ آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں ،جنہیں تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کیا کرو۔
(سورۂ انعام ۱۵)
اور سورۂ بنی اسرائیل میں تو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کے ادب و احترام اور خدمت کے بارے میں بے مثل وبے نظیر آفاقی احکام عطافرمائے ہیں ، ارشاد ہوا۔’’اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجزو اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور (تم ) اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو ، ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں کبھی (ہاں سے )ہوںتک مت کہنا اور نا ہی انہیں جھڑکنااور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور
ان کے سامنے عاجزی سے جھکے رہنا (انہیں اپنے بازوں میں حمائل کئے رہنا) اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار، ان دونوں(ماں باپ ) پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم کیا تھا-
’’(سورۂ بنی اسرائیل۲۳--۲۴)
والدین اگر مشرک ہوں توبھی اللہ نے ان کی اطاعت کو اپنی وحدانیت پر ایمان اور شرک سے اجتناب کے ساتھ مشروط کیا۔ فرمایاگیا:ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ ایسی چیز کو میراشریک ٹھہراؤکہ جس کی کوئی دلیل تیرے پاس نہیں تو ان کا کہنا نا ماننا۔
(سورۂ لقمان ۱۴)
والدین سے حسنِ سلوک کی یہ تعلیمات صرف امتِ مسلمہ ہی کو نہیں دی گئیں ،بلکہ ہر نبی کی امت کو والدین سے حسنِ سلوک، اُن کے ادب واحترام اور ادائیگی حقوق کی تلقین کی گئی ۔
قرآن کریم کے بعد احادیث اور سنتِ نبوی ﷺ میں بھی ہمیں بڑی شدت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ، ان کے ادب و احترام اور حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے تاکید ملتی ہے، ان احکامات ِ نبوی ﷺکا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ـ:’’اس کی ناک خاک میں مل گئی،’’اس کی ناک خاک میں مل گئی، ’’اس کی ناک خاک میں مل گئی،(یہ ایک عربی محاوہ ہے جس مطلب ہے کہ وہ تباہ و برباد ہو گیا) صحابہؓ نے عرض کیاکہ یا رسول اللہ ﷺ کس کی ناک خاک میں مل گئی، یعنی کون تباہ و برباد ہو گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنے ماں باپ میں سے دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا(اور پھر اُن کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہیں ہوا، (گویا ایسا شخص دنیا و آخرت میں تباہ و برباد ہو گیا۔
(صحیح مسلم)
آپ ﷺ نے فرمایا:’’کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجے ، فرمایا کہ کوئی کسی کے والد کو گالی دیتا ہے تو گویا وہ اپنے باپ کو گالی دیتا ہے ، کسی کی ماں کی گالی دیتا ہے تو گویا وہ اپنی ماں کو گالی دیتا ہے-
(صحیح بخاری)
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
والدین سے قطع تعلق کرنے انہیں گھر سے نکالنے والی اولاد جنت میں داخل ہی نہیں ہو سکتی-
(صحیح مسلم)
جہاں اولاد کے لئے جنت کو ماں کے قدموں تلے ڈال دیا گیا، وہاں باپ کی خوشنودی کو اللہ کی خوشنودی اور باپ کی ناراضی کو اللہ کی ناراضی قرار دیا:
(سنن ترمذی)
فرمایاگیا :
اللہ انسان کے سارے گناہ بخش سکتا ہے، مگر والدین کے نا فرمان کو معاف نہیں کرتا۔