پاکستان اور ترکیہ کی دوستی غیر معمولی طور پر مضبوط ہے ۔ ترکیہ کے صد سالہ قومی دن کی تقریب کے دوران میں نے لاہور میں تعینات نئے ترک قونصل جنرل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی آمد سے اس دوستی کو مزید چار چاند لگ جانے چاہئیں تاہم اس مضبوط دوستی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جس سطح کی کاروباری سرگرمیاں ہونی چاہئیں، وہ موجود نہیں اور اس شعبے میں با آسانی مزید کامیابیاں سمیٹنا ممکن ہے ۔ اسی نوعیت کی گفتگو میں نے تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے حوالے سے منعقدہ سمپوزیم ،جس کا انعقاد میں نے بطور چیئر مین انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے کیا تھا، میں کی۔ قونصل جنرل چین زاؤ شیرین کی بطور مہمان خصوصی تقریر کے بعد اپنی اختتامی تقریر میں ،میں نےعرض کیا کہ کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی پہاڑوں سے بلند ، سمندروں سے گہری اور شہد سے زیادہ شیریں ہے مگر اس کو ابھی مزید بلند ، گہرا اور میٹھا کرنے کی گنجائش موجود ہے اور تیسرے بی آر ایف فورم میں اس کی جانب قدم بڑھایا گیا ہے ۔ اور اسکےساتھ ساتھ پاکستان میں بھی مزید ایسے اقدامات کئے گئے ہیں کہ جن سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت نصیب ہوگی ۔ ان اقتصادی تعلقات کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی نوعیت کے روابط کو بڑھایا جائے، دونوں ممالک میں اردو اور چینی زبان کوعام کیا جائے اور خاص طور پر ان افراد کیلئے جو آپس میں تجارت ، تعلیم وغیرہ کے معاملات سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان میں موجود چینیوں کو کھانے ، اپنے حقیقی چینی مسالہ جات کی فراہمی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ ایسا مسئلہ ہے جو کہ فوری طور پر حل طلب ہے۔اسکے ساتھ ساتھ چینیوں کی پاکستان میں سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ مہمان کا تحفظ قومی وقار کا اہم ترین جزو ہوتا ہے ۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان ریلوے میں انقلابی نوعیت کا منصوبہ ایم ایل ون ، جو بد قسمتی سے ابھی شروع نہیں ہو سکا، پر سبک رفتاری سےکام ہونا چاہئے،اس پر بہت بڑی پیش رفت دیکھنے کو ملی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ گوادر کی بندرگاہ کی اپ گریڈیشن پر بھی دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے بہت اہمیت کا حامل ہے اور اب ضرورت اس کی ہے کہ ان دونوں منصوبوں کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دورکیاجائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بی آر آئی ، کان کنی ، انڈسٹری گرین پروجیکٹس ، انفر اسٹرکچر ، چین کو زرعی اجناس کی ایکسپورٹس میں اضافہ کرنے کے حوالے سے جو بیس ایم او یوز پر دستخط کئے گئے ہیں ان پر بھی بہت زور و شور سے کام ہونا چاہئے ۔ پاکستان میں ،ابھی حال ہی میں چین سے تجارت کو بڑھانے کے حوالے سے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا گیا ہے جس کی بہت عرصے سے اور خاص طور پر سی پیک کے افتتاح کے بعد سے بہت زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی ۔ پیپلز بینک آف چائنہ نے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنہ کو پاکستان میں چینی کرنسی آر ایم بی کا کلیئرنگ ایجنٹ مقرر کیا ہے اور آر ایم بی کلیئرنگ بینک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ یہ دونوں ممالک کے کارو باری حضرات کی دیرینہ خواہش تھی کہ باہمی تجارت کو چینی کرنسی میں کرنے کی سہولت موجود ہونی چاہئے ۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ پاکستان نے یہ قدم اٹھانے سے قبل یہ دیکھا کہ پاکستان کے کرنسی ریگولیٹری منظر نامے میں چینی کرنسی اسی مقام پر کھڑی ہے کہ جس مقام پر امریکی ڈالر یا دوسری اہم کرنسیاں موجود ہیں؟ اسی وجہ سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چینی کرنسی کے استعمال کو سہل بنانے کی غرض سے ایک ریگولیٹری فریم ورک بھی قائم کردیا ہے ۔ اس ریگولیٹری فریم ورک کی بدولت سرکاری اور نجی شعبوں کو آر ایم بی میں ایل سی کھولنے میں بہت آسانی ہو گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ چینی کرنسی میں فنانسنگ کی بھی سہولت ميسر آگئی ہے ۔ سرکاری اور نجی، دونوں شعبوں کو چینی کرنسی کے کاروباری استعمال میں بہت آسانی مہیا ہو گئی ہے ۔ اگر دونوں ممالک کی کاروباری برادری باہمی تجارت میں چینی کرنسی کا استعمال کرے تو نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ مصنوعات کی تیاری میں لاگت بھی کم ہوگی اور اس طرح صارفین کو کم قیمت پر اشیا فراہم کرنا ممکن ہو گا ۔ ویسے دونوں ممالک کے درمیان آر ایم بی کے استعمال کے بڑھنے کے واضح اعداد و شمار بھی سامنے آ رہے ہیں ۔ مثلاََ2018 تک درآمدات کیلئے آر ایم بی کا استعمال محض دو فیصد تھا مگر دو ہزار بائیس تک یہ کم و بیش اٹھارہ فیصد تک پہنچ گیا ہے ۔ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے ۔ مثال کے طور پر پاکستان سے بڑے پیمانے پر گوشت چین کو ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے ، اسی طرح زرعی مصنوعات کی بہت بڑی کھپت چین میں ممکن ہے ۔ چین کے ساتھ ملکر زرعی شعبے میں کام ہو رہا ہے مگر اعلیٰ سطح کے بیجوں کی افزائش ، فوڈ پراسیسنگ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل تعلیم کے شعبوں میں ابھی مزید باہمی تعاون کی ضرورت ہے ۔
205