دفتری تولیہ  1917

دفتری تولیہ 

زمانہ طالب علمی سے ہی شوق ہوا کہ فارغ التخصیل ہو کر ملازمت کریں گے۔ سو تعلیمی استعداد، گھریلو ماحول اور اخلاقی  تربیت میں یہی سبق سکھاے گے، کہ:

o       محنت میں عظمت ہے۔

o       سچ  ہمیشہ فاتح ہوتا ہے۔

o       ایمانداری جزو ایمان ہے۔

o       سچی لگن  سے کی ہوئی محنت کبھی رایہگاں نہیں جاتی۔

o       رزق حلال مرکز زندگی ہو۔

 

        پس ہم انہی فرمودات کے سہارے تعلیمی مراحل طے کرتے رہے،کہ بالآخر ہم بھی اس ارض پاک کی تعمیر  میں اپنی سچائی ، محنت، ایمانداری  اور سچی لگن کا کچھ حصہ ڈالیں گے۔شومئی قسمت سے ارض پاک میں ملازمت کے حصول میں کوئی خاص خاک بھی نہیں چھاننی پڑی اور ھمارے نام کے ساتھ بھی "سرکاری ملازم "  کا لاحقہ لگ گیا، اور جیسا کہ ہم سب کو پتا ہے کہ ارض پاک میں ساری خوش قسمتیوں کو سرکاری ملازمت کے حصول سے مشروط کیا جاتا ہے، ورنہ تو ہماری معاشرتی اور سماجی زندگی میں سرکاری ملازم کے لاحقے کے بغیر اچھے خاصے،  پڑھے لکھے ، باشعور شخص کو بھی درخواعتناء نہیں سمجھا جاتا۔ سو ہمارا شمار بھی معاشرتی طور پر خوش قسمتوں میں ہونے لگا۔

         آغاز ملازمت میں ہم بھی لکیر کے فقیر بن کر، کام، کام اور بس کام  (اورصرف  اپنے کام سے کام رکھنے)والے فارمولے کو اپناے، سچائی،  ایمانداری،  پابندی وقت کے سنہرے فرمودات کے سہارے سرکاری ملازم والی زندگی کا  آغاز کر دیا۔ ایک عرصہ گزرنے تک ہماری جان پہچان صرف  قریبی اور متعلقہ اشحاص تک ہی رہی، جبکہ ہم اپنے ملازمتی امور  بھی  مندرجہ بالا فرمودات کی روشنی میں پوری جانفشانی ، سچائی اور محنت سے ادا کرتے رہے، پھربھی ہم اپنی ملازمت کی جگہ پہ کوئی خاص مقام  حاصل نہ کر سکے۔

        وقت گزرنے کیسا تھ ساتھ سماجی اور سرکاری ماحول کے مشاہدات کی روشنی میں بہت سے پہلو ابھر کر سامنے  آے، کہ ارض پاک میں صرف حصول  ملازمت  ہی "فاتح سپین"  نہیں بناتی، بلکہ ملازمت کے تسلسل کو کامیابی سے قائم رکھنے  اور سرکاری حدود اربعہ میں کامیاب، ہر دلعزیز(مخلوق بالا کا)، اثر انگیز بننے کے لیے کچھ دیگر "خوبیاں" بھی درکار ہوتی ہیں۔ جو کہ سچائی، کام ، لگن اور ایمانداری کے "چالیسویں ہمساے"  میں آتی ہیں۔ اگر کسی بھی درجے کے ملازم کو چالیسویں ہمساے کے گر  استعمال کرنے آ جاہیں تو پھر سچائی ، ایمانداری، اورہروقت کام کرنے کے فرمودات کو  دفتر کی کھڑکی سے باہر رکھ دیا  جاتا ہے۔

          ایسے کامیاب گروں کو ہم سب اپنے اپنے ماحول میں اپنے انداز اور سوچ کے پیراۓ میں بیان کرتے ہیں۔ ہم تو اسے " دفتری تولیے" کہتے ہیں۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں ، مشاہدہ کریں تو ہمیں ایسے بے شمار کردار نظر آہیں گےجو مقام کار پرچالیسویں ہمساے کی خوبیوں سے بھرے تولیے کا کرداربنے پھر رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ کردار ہیں جو سب سے پہلے اپنے ادب، احترام، حسن سلوک، برتاؤ، گاڑی کا دروازہ کھولنے اور بند کرنے سے لیکر، گھنٹوں مخلوق بالا کی راہ میں آنکھیں بچھاے رکھنا، اور دفتر تک چھوڑنے کے فریضہ اولین جانتے ھوے باقاعدگی سے ادا کر کے" انکی" قربت کے انتہائی متمنی رہتے اور ہر ممکن کوشش اور طریقے سے اپنی خوبیاں ادا کرنے کی لگن میں مصروف رہتے ہیں۔(جبکے اس دوران اصل کارہاے منصبی پس پشت رہتے ہیں)، کیونکہ مطمہ ںظر صرف گوہر نایاب کی تعریف میں آنا ھوتا ہے۔ اگر انھیں راستے کا روڑا کہا جاہے تو بے جا نہ ھو گا، جو بار بار پاوں کی ٹھوکر لگنے کے باوجود بھی راستے  میں ہی رہتا ہے، اور اگر شومئی قسمت اس روڑے پہ نظر کرم ھو جاے اسکی قسمت ہی چمک جاتی ہے۔ بقول شاعر:

                       تیرا نظر بھر کے دیکھنا ہمیں انمول کر گیا

          لیکن اس ابن آدم کا انمول ھونا باقی سینکڑوں اولاد آدم کو بے مول کرنے کی گزرگاہ پر لے جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر اولاد آدم ایک آدھ بار ضرور کوشش کرتے ہیں کہ "انمول"  بننے کی،  لیکن ہاے یہ اونچی ناک اورخود ساختہ اناء آڑے آ جاتی ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساسات کامل ھوتے جاتے ہیں کہ وقت پر دفتر آنا،  باقاعدگی سے کارہاے منصبی کی اداہیگی، ہم عصروں کی کردار کشی ، غیبت، چغلی نہ کرنا، سچائی ، ایمانداری اور اپنے کام سے کام رکھنے کے ہنر اور گر ناکافی ھوتے ہیں۔ جب تولیوں کو ناگزیر گرداننا جاے تو باقی کارندوں کو "صافیوں"  کا درجہ دےدیا جاتا ہے۔ جبکہ میر کارواں کو اتنا اندازہ ھونا چاہیے کہ اتنا بڑا کار ساز صرف چند تولیوں کے طفیل نہیں چل سکتا بلکہ  اس میں صافیوں کا کرداربھی برابر کا اور ناگزیر ہے،فرق صرف جوہری کی زمانہ شناس نظر کا ہے، کہ صافیؤں سے کام لیا جاتا ہے، جبکہ تولیے از خود پیش خدمت ھوتے ہیں۔

              اگر ہم سرخ فیتوں، بند فائلوں اور عوام کے ہجوم کردہ مسائل کے انبار کو دیکھیں تو ان کے حل نہ ھونے میں کہیں نہ کہیں رکاوٹ یہی تولیے ہی بنے ھوتے ہیں۔ اپنے ہم عصروں کی عیب جوئی کرنا، انھیں نکما ثابت کرنا انکی کردار کشی کر کے صرف انفرادی ترقی کی سیڑھی توچڑھی جا سکتی ہے، لیکن اجتماعی اور قومی مرکز ترقی زاویہ نگاہ سے بہت دور ہی رہتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ میرکارواں کو علامہ محمد اقبال کی بتائی گئی شرائط پہ پورا اترنا چاہیے۔ نگاہ بلند، سخن دلنواز اور جان پرسوز کو خصوصیات کو اپنانا ھو گا، بصورت دیگر صرف وہی ںظر آہیگا جو تولیوں نے  ہاتھ صاف کرتے ھوے بتلایا اور دکھایا ھو گا۔

      ہم میں سےہر ایک کو اپنا انفرادی اور حساسیت کے ساتھ محاسبہ اور جائیزہ لینا چاہیےکہ ھمارا کردار ایک تعمیری شخص کے طور پر اجتماعی اور معاشرتی زندگی جینے کا ہے، یا صرف طرز تولیہ پر ایک ہی سٹینڈ پر لگے ھوے خود غرضیت اور اور انفرادیت پر مبنی ہے،جسکا مطمع نظر صرف دوسروں کا استحصال کرنا اور انھیں میر کارواں کی نظر میں کمتر، نااہل، نالائق، کام چور ، بدعنوان اور بدکردارثابت کرنے والاہے۔

                 اس ارض پاک کو تعمیری کرداروں کی ضرورت ہے، کردار چننے کا فیصلہ آپکا ہے۔

بشکریہ اردو کالمز