2018کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے ورکروں اور ووٹرز کی رائے تھی کہ اس بار ٹکٹ ملک ہاشم سہو کو ملے مگر ملک غلام حیدر تھند کی سی وی مضبوط تھی اس لئے ٹکٹ ملک غلام حیدر تھند کے حصے میں آیا مکافات عمل اس دنیا میں موجود ہیں ملک ہاشم سہو نے ماضی میں مہر فضل سمرا مرحوم کا ٹکٹ سفارشات کی بنیاد پر اپنے نام کرا لیا اور 2018کے الیکشن میں وہی کام جو ہاشم سہو نے مہر فضل حسین سمرا مرحوم کے ساتھ کیا تھا غلام حیدر تھند نے ہاشم سہو کے ساتھ کیا،ملک نیاز احمد جکھڑ نے 2018کے الیکشن میں آزاد امیدوار سید رفاقت گیلانی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اس کا پس منظر شاید یہ تھا کہ رفاقت گیلانی کا گھرانہ چونکہ روحانی حوالے سے معروف ہے اور ان کے چچا کے عقیدت مند لیہ میں کثیر تعداد میں موجود ہیں اس لئے ان کے حصہ میں ایک خاصہ ووٹ بنک آئے گا،لیکن ایسا نہ ہوسکا ملک نیاز احمد جکھڑ نے رفاقت گیلانی کی جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور ان کو فتح سے ہمکنار کرنے میں دن رات ایک کردیا لیکن رفاقت گیلانی کا ووٹ سید ثقلین بخاری کے حصے میں چلا گیا،رفاقت گیلانی کی اپنی یونین کونسل سے بھی ملک نیاز احمد جکھڑ ہار گئے،آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیتنے کے بعد سید رفاقت گیلانی نے اپنے ضمیر کی قیمت وصول کی اور جہانگیر ترین کے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوگئے،حالانکہ سید رفاقت گیلانی کی جیت ملک نیاز احمد جکھڑ اور پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ بنک کی مرہونِ منت تھی،واقفان حال کا کہنا ہے کہ عمران خان کی پارٹی میں شمولیت کے بعد بھی جب پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو رفاقت گیلانی کا ضمیر بھی ڈگمگایا اور وہ لالہ طاہر کے ساتھ اُڑان بھرنے والے تھے،اب جب پارٹی پر مشکل وقت آیا اور 9مئی کا خود ساختہ واقعہ ہوا تو رفاقت گیلانی نے جھٹ سے اپنے پرانے گھونسلے کی جانب پرواز کی اور جہانگیر ترین کی پارٹی استحکام پاکستان میں جابیٹھے،بدقسمتی سے جنوبی پنجاب کا خطہ ایسا خطہ ہے جہاں سے منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی عوام کے حق خود ارادیت کا سودا چند ٹکوں میں کرتے ہیں اور ضمیر بیچ کر مفادات کی پچ پر کھیلتے ہیں،جنوبی پنجاب کو دیکھیں تو اپنے ضمیر کا سودا کرنے والوں میں سردار قیصر عباس خان مگسی،لالہ طاہر رندھاوا،سید رفاقت گیلانی،لودھراں سے زوار وڑائچ،اور کرپٹ ترین وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سر فہرست ہین سید رفاقت گیلانی کا حلقہ لیہ شہر کا حلقہ ہے اور لیہ شہر کے عوام ایک بار جس فرد کا انتخاب کرتے ہیں دوبارہ اسے منتخب کرنا تو دور کی بات اس کو مقابلہ کی دوڑ سے ہی آؤٹ کر دیتے ہیں مجھے سید رفاقت گیلانی سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا آئندہ انتخابات میں وہ عوام سے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ لیں گے کیونکہ اگر کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ ملتے تو مہر فضل جیسا ہیرا انسان کسی بھی الیکشن میں شکست نہ کھاتا،کیونکہ لیہ شہر میں جتنے بھی بڑے منصوبے ہیں جن پر اعجاز اچلانہ (کسی روز مہر اعجاز اچلانہ کی کارکردگی پر بھی لکھوں گا کہ وہ اپنے علاقہ کے کتنے رسہ گیر ہیں) نے اپنے نام کی تختیاں لگا رکھی ہیں مہر فضل کے منصوبہ جات تھے حتیٰ کہ کوٹ سلطان میں بھی تعلیمی منصوبہ جات کا سہرا مہر فضل کے سر جاتا ہے،لیکن الیکشن میں عوام ان کو پذیرائی اس طرح سے نہ دے سکی جس کے وہ مستحق تھے،اگر سیدرفاقت گیلانی اپنے کاموں کی وجہ سے عوام سے ووٹ مانگیں گے تو ان کے منصوبے تحریک انصاف کے منصوبے تھے جس کو وہ خیربادکہہ چکے ہیں،اب انکا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں جب وہ تحریک انصاف سے دستبردار ہوئے ہیں تو وہ تحریک انصاف کے منصوبوں کو اپنی کارکردگی کیسے بنا سکتے ہیں ضمیر کی عدالت میں ذرا کھڑے ہوکر دیکھیں تو انہیں آئنہ دکھائی دے گا پھر جب ان کا دور اقتدار تھا وہ کسی کا فون سننا گوارا نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ وٹس ایپ بھی بند ملتا،شاہ صاحب آپ(استحکام پارٹی) کنگ پارٹی میں جائیں یا پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت میں عوام ضمیر بدلنے والوں کو پسند نہیں کرتے آنے والے عام انتخابات میں آپ کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا،آخر میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ لیہ شہر کی نشست پر ملک نیاز احمد جکھڑ کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے،کم از کم 15پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جن پر ملک نیاز احمد جکھڑ کا ذاتی ووٹ بنک ہے،تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر نئی نسل کا غصہ آپ کو الیکشن کے روز دیکھنے کو ملیگا،بس اتنا ہی کہنا ہے
246