الیکشن 2024ء دنیا بھر میں موضوع بحث ہیں اگرچیکہ اس سال پچاس سے زائد ممالک میں انتخابات ھونے جا رہے ہیں ، تاہم پاکستان کے انتخابات سب سے زیادہ زیر بحث ہیں ، بدقسمتی نے ھمارے سیاسی کلچر میں مستقل ڈیرے ڈالے ھوئے ہیں ، کبھی ھم واپس 1947ء میں پہنچ جاتے ہیں ، کبھی 1956 اور 1970 کے حالات ، اور اب ہر طرف 1985ء کے انتخابات کا چرچہ سب سے زیادہ ہے کیونکہ "غلام کم جیتے اور آزاد زیادہ جیت گئے" اس لئے 1985ء کے انتخابات جو غیر جماعتی تھے کی طرز پر اس مرتبہ جماعتی ھوئے تاہم ایک جماعت" آزاد" کی بن گئی , 1985ء کے بطن سے محمد خان جونیجو جیسی شخصیت نکلی جن کی ہر بات میں جمہوریت کا لفظ نمایاں رہتا تھا اور آخر اسی کی تلاش میں گھر بھیج دئیے گئے مگر نام آج تک دلوں پر حکمرانی کر رہا ہے ، موجودہ انتخابات میں ووٹرز نے اپنی حیثیت پہلی دفعہ منوائی ، وہ تاریخ کی درست سمت کھڑے ہیں یا غلط، لیکن جس طرح محنت اور جدید ٹیکنالوجی سے پندرہ کروڑ چھیاسی لاکھ نوجوانوں تک پیغام رسانی ھوئی اور زیادہ تر نے ریشمی رومال تحریک سے بھی خفیہ طرز پر مہم چلائی اس کی تعریف تو بنتی ہے بلکہ یہ ایک تاریخ بن چکی ، جو دوبارہ ھوگی یا نہیں لیکن یاد رکھی جائے گی ، فافن رپورٹ کے مطابق 47.5 فیصد ٹرن آؤٹ رہا اور تقریبا چھ کروڑ چھ لاکھ افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا ، جس کی توقع نہیں تھی بلکہ تجزیہ نگار کہہ رہے تھے کہ ٹرن آؤٹ چالیس سے اوپر نہیں جائے گا ، یہ تاریخ بھی نوجوانوں کے نام ھے ، انتخابات پرامن ھوئے یہ کریڈٹ فوج اور سیکیورٹی کے اداروں کو جاتا ہے ، سب سے زیادہ سوالیہ نشان الیکشن کمیشن پر ھے جہاں فارم 45 اور فارم 47 کے متضاد نتائج کا ایک پنڈورا باکس کھل چکا ہے اور دوسرا ای ایم ایس نامی نیا سسٹم فیلیر اور تاخیر سے نتائج نے دنیا بھر کو اور سوشل سمیت دوسرے میڈیا کو بولنے کا موقع دے دیا ، ھوسکتا ھے مقاصد ھی یہ ھوں کہ سیاست مکمل ناکام ھو جائے ، مگر کیا کیجے دل جمہوری ھے، تو ملک بھی پیارا ھے فارم 45 پر سب ھاھا کار مچا رہے ہیں لیکن یہ نہیں معلوم کہ 45 مرتب کرنے والے اساتذہ کے وہ ھاتھ ہیں جو دیانت اور سچائی لکھ لکھ کر تھک چکے ہیں ، کیونکہ انہوں نے سن رکھا تھا کہ استاد قوم کے معمار ھے ، یہی تمغہ سجائے وہ کبھی پولیو آور کبھی قومی امانت کی حفاظت کے لیے خم ٹھونک کر میدان انتخاب میں اترتے ہیں ،
8 فروری کو ھونے والے انتخابات میں ریٹرننگ افسران کے دفاتر کے چکر لگا کر سامان وصول کرنا اور پھر پورا دن بیٹھ کر دیانتداری اور قومی امانت سمجھ کر ووٹ کا اندراج اور فارم 45 تیار کرنا ، پھر اسے سینے پہ سجا کر اور بغل میں دبا کر ، نہایت امانت داری اور راز داری پر ریٹرنگ افسران کے دفاتر کے باہر ادب سے کھڑے رہنا ، کمال دیانتداری ھے ، آپ خود سروے کریں تو کم از کم 98 فیصد اساتذہ نے یہ کام انتہائی دیانتداری سے کیا ، یہی نہیں 2018ء یا 2024ءمیں ان کے ساتھ بہت برا حشر ھوا ، تیاری کے مراحل کے بعد جدید ٹیکنالوجی کے دعویداروں کا سسٹم بیٹھ گیا ، اب انہی اساتذہ کو حکم ملا کہ آر او آفس میں فارم 45 جمع کروائیں خواتین اور مرد اساتذہ فارم جمع کروانے کے لیے پوری پوری رات تک انتظار اور قطاروں میں لگے رہے اور کہیں دوسرے دن گھر پہنچے ، مشکل راستوں ، گاؤں گوٹھ اور سردی گرمی میں فرائض کی ادائیگی کے لیے جتے رہنا دنیا میں ایسی مثال نہیں ملے گی ، سب سیاسی جماعتیں ، حکومت اور انتظامیہ اسی فارم 45 پر دلیل اور وکیل مقرر کر رہے ہیں مگر اساتذہ کو کوئی ریوارڈ نہیں ، کوئی قدر دانی نہیں ، میں جس استاد کے پاس گیا ایک طویل داستان غم ھے ، مگر اہل اختیار کی آنکھ بھی نم نہیں ھوئی ، معاوضہ بھی نہ ھونے کے برابر گزشتہ کئی ماہ سے مائیں جو اساتذہ ہیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر ٹرینگ کے نام پر محض باتیں سننے اور پھر الیکشن والے دن سے آج تک استاد کی ضرورت مگر فرشی سلام بھی نہیں ، کیا یہ انصاف ھے ، میرا خیال ہے حکومت ، انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کو سب سے پہلے ان اساتذہ کو مبارکباد دینی چاہئے ، انعام دینا چاہئے اور معافی مانگنی چاہیے کیونکہ وہ قوم کے معمار اور آپ کے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں ، ملک کے ماتھے کا جھومر ہیں ، دیانت اور امانت کی چلتی پھرتی تصویریں ہیں ، سلام عقیدت کہ سردی ھو کہ گرمی ، مشکل ھو کہ آسان ، پیدل سفر ھو کہ برق رفتاری استاد نے اپنی زمہ داری نبھائی اور ریاست اور حکومت کے لیے وہ ہر وقت مضبوط سپاہی بن کر میدانِ عمل میں ھوتے ہیں ، یہی نہیں تمام سرکاری تقاریب اور پروٹوکول کے لیے بھی استاد کے کندھے استعمال ھوتے ہیں ، کیا ان کے ساتھ یہ رویہ لاتعلقی ھونا چاھئے ؟ میں کیا کروڑوں لوگ ان کے اس کام پر فخر محسوس کرتے ہیں ، قدر کریں گے تو قدر ھوگی اور برکت بھی آئے گی۔
آپ کے جو بھی سیاسی تنازعات ھوں مگر یہ وہ غیر جانبدار طبقہ ھے جس نے 8 فروری کو ہر ناممکن کو ممکن کر دکھایا ، خیبر سے کراچی اور بلوچستان سے مہران تک وہ استاد ھی تھا جس کی بدولت چھ کروڑ افراد نے توازن سے ووٹ ڈالا اور سیاست اور حکومت سازی میں ان کا کردار بنیاد بن رہا ہے ، ھم سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ، کوئی تمغے نہیں بس قدر دانی تو ان کا حق ہے ، پورا الیکشن کمیشن کا نظام فارم 45 پر کھڑا ھے آپ دنیا کو یہی ڈاکیومنٹ دکھاتے ہیں مگر اس کے خالق کو بھی سلام کریں
جو ھم نہ ھوں تو زمانے کی سانس رک جائے
قتیل وقت کے سینے میں ھم دھڑکتے ہیں
261